✕

یمن میں سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے ہفتے کی صبح کہا کہ اس نے حوثیوں کی جانب سے مملکت کی طرف داغے گئے دو بیلسٹک میزائل اور دو ڈرونز کو فضا میں ہی روک دیا۔

اتحاد نے ایکس پر جاری پوسٹس میں کہا کہ میزائل خمیس مشیط کی جانب اور ڈرون دارالحکومت ریاض کی طرف بڑھ رہے تھے۔

سعودی سول ڈیفنس نے رات گئے خمیس مشیط اور ابہا کے لیے انتباہی پیغامات جاری کیے تھے، تاہم ریاض کے لیے کوئی انتباہ جاری نہیں کیا گیا۔

حوثی جو یمن کے سب سے زیادہ آبادی والے علاقوں اور ملک کے بیشتر شمالی حصے پر قابض ہیں، جولائی میں ریاض کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کرنے کے بعد سے سعودی عرب پر حملے کر رہے ہیں۔ ان حملوں میں بحیرہ احمر میں سعودی بحری جہازوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

ان حملوں میں سعودی شہروں، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا جس سے ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے باعث عالمی سطح پر تیل کی رسد کو درپیش دباؤ میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ اس صورتحال سے خلیجی ممالک کی برآمدات کے لیے بحیرہ احمر کا مرکزی متبادل بحری راستہ بھی خطرے میں پڑ گیا ہے جبکہ آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت بدستور بڑی حد تک معطل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل سعودی عرب اور اس کے دفاعی اتحادی پاکستان اور ترکیہ کے فوجی سربراہان نے سعودی دارالحکومت میں ہونے والے اجلاس میں سعودی عرب کو درپیش خطرات کا جائزہ لیا۔

تینوں ممالک نے گزشتہ ماہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت انہوں نے قرار دیا تھا کہ ان میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ تمام ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ معاہدے کا مقصد اجتماعی دفاعی صلاحیت اور فوجی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔

سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے ہفتے کی صبح کہا کہ انہوں نے ریاض میں پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے ساتھ مملکت کے خلاف حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے معاہدے کے تحت مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کی تصدیق کی ہے۔