✕
کاروبار اور معیشت

اسٹیٹ بینک کی جانب سے ریمیٹنس ریوارڈ اسکیم متعارف

  • سالانہ 16 ارب روپے کے نقد انعامات دیے جائیں گے
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان بینکس ایسوسی ایشن (پی بی اے) کی زیر نگرانی بینکاری صنعت نے پاسبان ترسیلاتِ زر انعامی اسکیم متعارف کرادی جو مارکیٹ پر مبنی اور پائیدار اقدام ہے۔ اس اسکیم کے تحت ترسیلاتِ زر وصول کرنے والوں کی حوصلہ افزائی اور انہیں انعام دینے کے لیے سالانہ 16 ارب روپے کے نقد انعامات دیے جائیں گے۔

گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے جمعہ کو مرکزی دفتر میں اس اسکیم کا افتتاح کیا۔

اس اسکیم کے تمام اخراجات بینکاری صنعت برداشت کرے گی اور اس پر قومی خزانے پر کوئی بوجھ نہیں پڑے گا۔ اسٹیٹ بینک کی سرپرستی میں تیار کی گئی اس اسکیم کا مقصد بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی مزید حوصلہ افزائی کرنا ہے کہ وہ پاکستان میں اپنے اہلِ خانہ اور عزیزوں کو ترسیلاتِ زر بھیجنے کے لیے باضابطہ بینکاری ذرائع استعمال کریں۔

اس اسکیم کے تحت بینکاری ذرائع کے ذریعے پاکستان کو ترسیلاتِ زر بھیجنے والے صارفین کی حوصلہ افزائی اور انہیں انعام دینے کے لیے سالانہ 16 ارب روپے کے نقد انعامات دیے جائیں گے۔

شرکا کو اس اقدام کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے پی بی اے کے چیف ایگزیکٹو اور سیکریٹری جنرل منیر کمال نے کہا کہ پاسبان اسکیم اسٹیٹ بینک، حکومت اور بینکاری صنعت کی جانب سے بیرونی شعبے کی معاونت کے لیے کیے جانے والے مربوط اقدامات کے سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ یہ اسکیم جولائی 2026 سے بینکوں کی جانب سے فراہم کیے جانے والے ترسیلاتِ زر بھیجنے والوں کے لیے مراعاتی پروگرام کو مزید وسعت دیتی ہے جس کے بعد بینکاری صنعت کی سالانہ مالیاتی وابستگی تقریباً 100 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ رواں سال بینکوں نے رضاکارانہ طور پر ایکسپورٹ ری فنانس سہولت کے تحت نئے قرضوں اور رول اوورز پر مارک اپ 3 فیصد پوائنٹس کم کرکے 4.50 فیصد کردیا ہے جبکہ ای آر ایف کی حد 1,052 ارب روپے مقرر ہے۔ یہ اقدام حکومت کے برآمدات پر مبنی اقتصادی ترقی کے ایجنڈے کی معاونت کرتا ہے جبکہ ایکسپورٹ امپورٹ بینک کی جانب سے ایس ایم ای شعبے کی برآمدات کے لیے فراہم کردہ فنانسنگ بھی اس سلسلے میں معاون ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اسکیم کی اہم خصوصیات کے مطابق، وہ ترسیلاتِ زر وصول کنندہ جو کسی سہ ماہی کے دوران مسلسل تین ماہ تک ہر ماہ بینک اکاؤنٹ میں 100 امریکی ڈالر یا اس سے زائد کے مساوی ہوم ریمیٹنس وصول کرے گا، اسکیم میں شرکت کا اہل ہوگا۔

اس کے علاوہ 100 امریکی ڈالر کے مساوی ترسیلاتِ زر وصول کرنے پر ایک ڈیجیٹل، ناقابلِ منتقلی انٹری نمبر (ٹکٹ) ملے گا، تاہم اس کے لیے مسلسل تین ماہ تک اہل ترسیلاتِ زر وصول کرنا ضروری ہوگا۔ مثال کے طور پر، اگر کسی مستحق کو مسلسل تین ماہ تک ہر ماہ 100 امریکی ڈالر کے مساوی ترسیلاتِ زر موصول ہوں تو اسے سہ ماہی کے لیے تین انٹری نمبرز ملیں گے۔

زیادہ مالیت کی ترسیلاتِ زر وصول کرنے والے مستحق کو موصولہ رقم کے تناسب سے اضافی انٹری نمبرز دیے جائیں گے۔ مثال کے طور پر، اگر کسی مستحق کو اکتوبر میں 100 ڈالر، نومبر میں 200 ڈالر اور دسمبر میں 300 ڈالر موصول ہوں تو اسے بالترتیب ایک، دو اور تین انٹری نمبرز ملیں گے، یوں سہ ماہی کے لیے اس کے پاس مجموعی طور پر چھ انٹریاں ہوں گی۔

اس اسکیم کے تحت ہر سہ ماہی مجموعی طور پر 2,521 نقد انعامات دیے جائیں گے جن کی مالیت 4 ارب روپے ہوگی۔ ان میں 100 ملین روپے کا ایک پہلا انعام، 25 ملین روپے کے 20 دوسرے انعامات، 10 ملین روپے کے 100 تیسرے انعامات اور 1 ملین روپے کے 2,400 چوتھے انعامات شامل ہیں۔ اسکیم کے تحت سالانہ 16 ارب روپے کے انعامات 10 ہزار سے زائد خوش نصیب افراد میں تقسیم کیے جائیں گے۔

علاقائی سطح پر انعامات کی وسیع تر تقسیم یقینی بنانے کے لیے 50 فیصد انعامات جی سی سی ممالک سے ترسیلاتِ زر وصول کرنے والے مستحقین کے لیے مختص ہوں گے، جبکہ برطانیہ اور یورپ کے لیے 15،15 فیصد، شمالی امریکا کے لیے 10 فیصد اور دیگر ممالک کے لیے 10 فیصد انعامات مختص کیے جائیں گے۔ تاہم، پہلے انعام کے لیے تمام خطوں سے ترسیلاتِ زر وصول کرنے والے مستحقین اہل ہوں گے۔

قرعہ اندازی سہ ماہی بنیاد پر محفوظ، مکمل طور پر ڈیجیٹل اور قابلِ آڈٹ طریقہ کار کے ذریعے کی جائے گی۔ پہلی قرعہ اندازی 15 جنوری 2027 کو ہوگی جس میں یکم اکتوبر سے 31 دسمبر 2026 تک موصول ہونے والی اہل ترسیلاتِ زر شامل ہوں گی۔ اسکیم میں شرکت مکمل طور پر مفت ہوگی اور بینکوں کو اہل ترسیلاتِ زر وصول کنندگان سے کسی بھی قسم کی فیس وصول کرنے یا ادائیگی، ٹکٹ کی خریداری، کم از کم بیلنس یا کسی اور شرط کا تقاضا کرنے سے منع کیا گیا ہے۔

پی بی اے کے چیئرمین ظفر مسعود نے کہا کہ پاکستان کے بینکوں نے مسلسل اپنا کردار ادا کرتے ہوئے 80 ارب روپے کی ریمیٹر انسینٹو اسکیم کی ذمہ داری سنبھالی، برآمد کنندگان کے لیے ایکسپورٹ ری فنانس کی شرح میں کمی کی، نجی شعبے، زراعت اور ایس ایم ایز کو ریکارڈ سطح پر قرضے فراہم کیے اور سرکلر ڈیٹ کے حل میں معاونت کی۔

انہوں نے کہا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی بھی اس کہانی کا ایک اہم حصہ ہیں اور پاسبان اسکیم اسٹیٹ بینک اور حکومت کے اشتراک سے ان کی خدمات اور کردار کو تسلیم کرتی ہے۔قرعہ اندازی کے نتائج اسکیم کے لیے مختص مخصوص ویب پیج کے علاوہ بینکوں اور پی بی اے کی ویب سائٹس اور سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر بھی عوام کے لیے جاری کیے جائیں گے۔