پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) نے 30 جون 2026 کو ختم ہونے والے مالی سال کے دوران بعد از ٹیکس15.07 ارب روپے کا منافع ریکارڈ کیا جس کے نتیجے میں فی حصص آمدن 32.1 روپے رہی۔
جمعہ کو جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق کمپنی کا مجموعی منافع گزشتہ مالی سال کے 96.7 ارب روپے کے مقابلے میں بڑھ کر 99.9 ارب روپے ہوگیا۔
گروپ کی مالی کارکردگی میں بھی بہتری آئی اور ٹیکس کے بعد مجموعی منافع 25.49 ارب روپے تک پہنچ گیا جبکہ مجموعی آمدن 3.42 ٹریلین روپے رہی۔
ایل این جی کو نکال کر بنیادی کاروبار سے مجموعی منافع 20.5 فیصد بڑھ گیا جو 67.9 ارب روپے سے بڑھ کر 81.9 ارب روپے ہوگیا۔
پاکستان اسٹیٹ آئل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جاوید احمد چیمہ نے کہا کہ مالی سال 2026 کمپنی کے لیے ایک چیلنجنگ سال رہا۔ انہوں نے کہا کہ پورے پاکستان میں ایندھن کی سپلائی ایک دن کے لیے بھی متاثر نہیں ہوئی اور آپریشنز محفوظ انداز میں جاری رکھے گئے۔
پی ایس او نے کہا کہ ایل این جی کے شعبے میں 10.7 ارب روپے کے اتار چڑھاؤ کے باوجود بنیادی کاروبار میں ترقی کا سلسلہ جاری رہا۔
تجارتی وصولیاں 437.5 ارب روپے سے کم ہو کر 414.8 ارب روپے رہ گئیں جبکہ صرف ایس این جی پی ایل سے وصولیاں 34.3 ارب روپے کم ہوئیں۔
ان اقدامات کے ساتھ ڈسکاؤنٹ ریٹس میں کمی کے نتیجے میں مالیاتی اخراجات میں 24 فیصد کمی ہوئی۔
پی ایس او نے وائٹ آئل مارکیٹ میں 42.7 فیصد مارکیٹ شیئر کے ساتھ اپنی قائدانہ پوزیشن برقرار رکھی جبکہ پاکستان کے سرکردہ ایوی ایشن فیول سپلائر کے طور پر اپنی پوزیشن مزید مستحکم کرتے ہوئے 99 فیصد مارکیٹ شیئر حاصل کیا۔