ایف بی آر : اصلاحات کس قیمت پر؟
- ٹیکس انتظامیہ کو ایک بار پھر بیرونی مالی معاونت سے ٹیکنالوجی کے ذریعے اصلاحات کا حل پیش کیا جارہا ہے
پاکستان کی ٹیکس انتظامیہ کو ایک بار پھر بیرونی مالی معاونت سے ٹیکنالوجی کے ذریعے اصلاحات کا حل پیش کیا جارہا ہے۔ سینٹرل ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) نے 57.109 ارب روپے مالیت کے ٹرانسفارمنگ اینڈ ڈیجیٹلائزنگ ریونیو ایڈمنسٹریشن (ٹی اے ڈی آر اے) منصوبے کی منظوری کے لیے اسے قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) کو بھجوانے کی سفارش کی ہے۔
منصوبے کی مجوزہ لاگت تقریباً 200 ملین ڈالر ہے، جس کی مالی معاونت ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے رعایتی قرضے سے کی جائے گی۔
یہ حتمی منظوری نہیں بلکہ مشروط سفارش ہے۔ ایکنک میں غور، اے ڈی بی بورڈ کی منظوری، قرض مذاکرات اور معاہدے پر دستخط کا مرحلہ ابھی باقی ہے۔ یہ فرق اہم ہے۔ تاہم جانچ پڑتال کے دوران ایک اور زیادہ تشویش ناک معاملہ سامنے آیا۔
ایک سینئر صحافی کی جانب سے رپورٹ کیے گئے سرکاری ریکارڈ کے مطابق منصوبہ بندی کمیشن نے نشاندہی کی کہ پاکستان کے ٹیکس نظام میں اصلاحات کے لیے ترقیاتی شراکت داروں سے پہلے ہی تقریباً 4.7 ارب ڈالر حاصل کیے جاچکے ہیں۔ کمیشن نے ٹیکس ایڈمنسٹریشن ریفارم پروجیکٹ، پاکستان سنگل ونڈو، انٹیگریٹڈ ٹرانزٹ ٹریڈ مینجمنٹ سسٹم اور پاکستان ریزز ریونیو (پی آر آر) منصوبوں کے اثرات کا جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ مجوزہ نئے قرضے کے بعد یہ مجموعی رقم 4.9 ارب ڈالر تک پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
حکومت نے ابھی تک اس رقم کی منصوبے کے حساب سے تفصیل اور مفاہمت کا ریکارڈ شائع نہیں کیا۔ ذیل میں دیا گیا چارٹ قرض دینے والے اداروں کی ویب سائٹس وغیرہ سے حاصل کردہ معلومات کی بنیاد پر صورتحال ظاہر کرتا ہے۔ نومبر 2024 میں ایک آزاد تھنک ٹینک کی شائع کردہ ورلڈ بینک آر آر آر لون نامی رپورٹ بھی توجہ طلب ہے۔ اس میں سوال اٹھایا گیا کہ آیا ورلڈ بینک کے 400 ملین ڈالر کے آپریشن سے آمدن میں پائیدار اضافہ، ٹیکس دائرہ کار میں وسعت، ٹیکس تعمیل میں آسانی اور ادارہ جاتی کارکردگی میں بہتری آئی۔
موجودہ اور سابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) حکام کے انٹرویوز میں انفارمیشن ٹیکنالوجی پر اخراجات کی سست رفتار، ٹیکس دائرہ کار میں حقیقی توسیع کی کمزوری اور ادارہ جاتی مزاحمت کو مستقل مسائل قرار دیا گیا ہے۔ مجوزہ ٹی اے ڈی آر اے قرضے کے تناظر میں یہ خدشات مزید اہم ہوگئے ہیں۔
لیکن اس مطالعے کو احتیاط کے ساتھ استعمال کیا جانا چاہیے۔ یہ مستقبل کی پالیسی کا تجزیہ ہے، آڈٹ یا کسی سبب و نتیجے کے حتمی جائزے کی رپورٹ نہیں۔ اس میں دی گئی تاریخی مالی معاونت کی جدول 4.7 ارب ڈالر کے اعدادوشمار کی تصدیق نہیں کرتی۔ فہرست میں شامل رقوم کا مجموعہ تقریباً 3.535 ارب ڈالر بنتا ہے، جس میں قرضے، گرانٹس، تکنیکی معاونت، صوبائی پبلک فنانس پروگرام اور عمومی معاشی استحکام کی معاونت شامل ہے۔
ایک اندراج میں سیکنڈ بلوچستان ریسورس مینجمنٹ پروگرام کی رقم 900 ملین ڈالر درج ہے، جبکہ اے ڈی بی کے 2008 کے سرکاری اعلان کے مطابق اس منصوبے کے لیے 100 ملین ڈالر کا قرض اور 0.8 ملین ڈالر کی تکنیکی معاونت کی گرانٹ دی گئی تھی۔ ممکن ہے کہ منصوبہ بندی کمیشن کے پاس زیادہ وسیع اور درست مالی تفصیل موجود ہو، جسے عوام کے سامنے لایا جانا چاہیے۔
پی آر آر کا سرکاری ریکارڈ بھی اس مطالعے میں اٹھائے گئے بنیادی خدشے کو تقویت دیتا ہے۔ ورلڈ بینک نے 2019 میں پی آر آر منصوبے کی منظوری دی تھی، جس کے تحت 320 ملین ڈالر مخصوص نتائج سے مشروط تھے، جبکہ 80 ملین ڈالر ایف بی آر میں انفارمیشن اور کمیونیکیشن ٹیکنالوجی میں روایتی سرمایہ کاری کے لیے مختص کیے گئے تھے۔ 2025 میں بینک نے مزید 70 ملین ڈالر کی منظوری دی، جس کے بعد مجموعی مالی معاونت 470 ملین ڈالر ہوگئی، جبکہ اصل منصوبہ اب بھی جاری تھا۔
4 جون 2026 کی تازہ ورلڈ بینک امپلیمنٹیشن رپورٹ میں ملے جلے نتائج سامنے آئے ہیں۔ ترقیاتی مقصد کے حصول میں پیش رفت کی درجہ بندی مطمئن کن سے کم کرکے درمیانے درجے کی مطمئن کن کردی گئی۔ مجموعی عملدرآمد بھی درمیانے درجے کا مطمئن کن رہا، جبکہ مجموعی خطرے کی سطح نمایاں قرار دی گئی۔ ایف بی آر کی وصولیاں مالی سال 2024 میں مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے 9 فیصد سے بڑھ کر 2025 میں 10 فیصد ہوگئیں۔
انکم ٹیکس ریٹرن فائل کرنے والوں کی تعداد 47 لاکھ 38 ہزار سے بڑھ کر 69 لاکھ 81 ہزار ہوگئی۔ ڈیٹا شیئرنگ میں اضافہ ہوا، بعض کاروباری امور کو خودکار بنایا گیا اور مرکزی ڈیٹا سینٹر کا بنیادی سامان نصب کیا گیا۔ اس لیے یہ کہنا درست اور منصفانہ نہیں ہوگا کہ منصوبے کے تحت کچھ بھی حاصل نہیں ہوا۔
تاہم اسی رپورٹ سے واضح ہوتا ہے کہ صرف اعدادوشمار کافی نہیں۔ مالی سال 2023 میں 44 لاکھ 35 ہزار افراد فعال ٹیکس دہندگان قرار دیے گئے، لیکن ان میں سے صرف 23 لاکھ 25 ہزار افراد نے اپنے ریٹرن کے ساتھ کوئی ٹیکس ادا کیا۔
فائلرز کی تعداد میں اضافہ بذات خود ٹیکس ادا کرنے والوں کے دائرے میں وسعت یا پی آر آر منصوبے کے نتیجے میں اضافی ٹیکس وصولی کا ثبوت نہیں۔ دو اہم نتائج کے حوالے سے اب بھی اعدادوشمار دستیاب نہیں تھے، جن میں ریٹرن تیار کرنے، فائل کرنے اور ٹیکس ادا کرنے میں درکار وقت اور کسٹمز کلیئرنس کی کارکردگی شامل ہیں۔ ٹیکس دہندگان کا سروے بھی نہیں کیا گیا تھا، جبکہ کسٹمز سے متعلق ڈیٹا اکٹھا کرنے کا عمل ابھی شروع ہوا تھا۔ واحد سیلز ٹیکس پورٹل اب بھی مخصوص شعبوں تک محدود تھا، جبکہ ٹیکس کٹوتی کی 33 مدیں ختم کرنے کے ہدف کے مقابلے میں بدستور برقرار تھیں۔
مالیاتی اصطلاحات نے بھی صورتحال کو مزید الجھا دیا ہے۔ جون 2026 تک نظرثانی شدہ اصل قرض میں سے 33 کروڑ 61 لاکھ 40 ہزار ڈالر یعنی 85.28 فیصد رقم جاری کی جاچکی تھی۔ اضافی 7 کروڑ ڈالر کے قرض میں سے کوئی رقم جاری نہیں ہوئی تھی۔ قرض کی رقم جاری ہونا اس بات کے مترادف نہیں کہ ٹیکنالوجی نصب ہوگئی یا اضافی ٹیکس وصول کرلیا گیا۔
32 کروڑ ڈالر کا نتائج سے مشروط حصہ طے شدہ شرائط کی تصدیق کے بعد ایف بی آر کے اہل اخراجات کی ادائیگی کے لیے فراہم کیا جاتا ہے۔ آڈیٹر جنرل کے مالی گوشواروں میں ملازمین کے اخراجات، انتظامی اخراجات اور مرمت سمیت دیگر مدیں شامل ہیں۔ اس لیے جاری کی گئی پوری رقم کو ڈیجیٹل نظام پر خرچ قرار دینا گمراہ کن ہوگا۔
آڈیٹر جنرل نے نتیجہ اخذ کیا کہ مالی گوشواروں میں نقد وصولیوں اور ادائیگیوں کی منصفانہ عکاسی کی گئی ہے اور اخراجات قانونی معاہدوں کے مطابق تھے۔ یہ اہم بات ہے کہ دستیاب آڈٹ رپورٹ میں رقم کے غائب ہونے یا خوردبرد ہونے کی نشاندہی نہیں کی گئی۔ تاہم رپورٹ میں یہ بھی درج ہے کہ جون 2025 تک انفارمیشن ٹیکنالوجی کے 8 کروڑ ڈالر کے حصے کے مقابلے میں مجموعی اخراجات صرف 2.28 ارب روپے رہے، جو عملدرآمد میں سنگین تاخیر کی نشاندہی کرتا ہے۔ آڈٹ کی کلیئر رائے مالیاتی ضوابط کی پابندی سے متعلق ہے۔ اس سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ منصوبے سے رقم کے مقابلے میں مطلوبہ فائدہ حاصل ہوا یا ٹیکس وصولیوں میں اضافہ اس منصوبے کی مداخلت کا نتیجہ تھا۔
ٹی اے ڈی آر اے کو اس نامکمل ریکارڈ کی روشنی میں جانچنا ہوگا۔ اطلاعات کے مطابق 8 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کنسلٹنسی خدمات کے لیے جبکہ مزید ایک کروڑ ڈالر منصوبے کے انتظام کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ دونوں مدیں ملا کر مجوزہ قرضے کا 45.5 فیصد بنتی ہیں۔
ایف بی آر کا کہنا ہے کہ پی آر آر نے بنیادی نظام تشکیل دیے مگر اس کے ڈیٹا سینٹرز گرافکس پروسیسنگ یونٹ پر مبنی مشین لرننگ کی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ یہ تکنیکی طور پر درست ہوسکتا ہے، لیکن محض دعویٰ فزیبلٹی اسٹڈی کا متبادل نہیں۔ جائزہ لینے والوں نے مناسب خلا کے تجزیے، جامع ڈیٹا سیکیورٹی فریم ورک، واضح ڈیٹا گورننس اور اوپن سورس متبادل کے جائزے کی عدم موجودگی کی نشاندہی کی۔ اس منصوبے کو ایف بی آر کے الگ سے منظور شدہ 350 ارب روپے کے ٹرانسفارمیشن پلان کے ساتھ بھی ہم آہنگ کرنا ہوگا۔
ڈیجیٹلائزیشن ناقص ٹیکس پالیسی کو درست نہیں کرسکتی۔ پاکستان کا نظام اب بھی ودہولڈنگ ٹیکس، کم از کم اور قیاسی ٹیکس، بالواسطہ محصولات اور پہلے سے دستاویزی افراد سے جبری وصولیوں پر حد سے زیادہ انحصار کرتا ہے۔ مصنوعی ذہانت ڈیٹا پر کارروائی کرسکتی ہے، لیکن یہ آئینی ٹیکس پالیسی، ادارہ جاتی دیانت داری یا سیاسی عزم فراہم نہیں کرسکتی۔
ہماری کتاب پاکستان میں ٹیکس اصلاحات : تاریخی و تنقیدی جائزہ (پائیڈ، 2020) میں واضح کیا گیا ہے کہ بیرون ملک سے مالی معاونت سے چلنے والے اصلاحاتی پروگرام بارہا ایسے نظاموں کے لیے فنڈز فراہم کرتے رہے ہیں جو انتظامی تقسیم، غیر منطقی قوانین، ٹیکس استثنیٰ، ریفنڈز میں رکاوٹوں اور طاقتور غیر ٹیکس ادا کرنے والے شعبوں کو حاصل سیاسی تحفظ جیسے بنیادی مسائل حل نہیں کرتے۔
ایکنک کو چاہیے کہ چار اہم ریکارڈ عوام کے سامنے آنے تک منظوری مؤخر کردے۔ پہلا ریکارڈ ہر ٹیکس اصلاحاتی قرض، گرانٹ اور تکنیکی معاونت کے منصوبے کی مکمل مفاہمتی تفصیل پر مشتمل ہو، جس میں منظوری، جاری شدہ رقوم، زیر التوا واجبات، اثاثے اور فراہم کیے گئے نظام کی تفصیلات شامل ہوں۔ دوسرا ریکارڈ سابقہ پروگراموں کا آزادانہ طور پر تیار کردہ مالی افادیت اور اثرات کا آڈٹ ہو۔
نوٹس :
1۔ 4.699 ارب ڈالر کا درست تخمینہ ایک آزادانہ طور پر مرتب کی گئی تفصیل ہے، منصوبہ بندی کمیشن کے طریقہ کار کا ثبوت نہیں، کیونکہ کمیشن کی مد وار تفصیل دستیاب نہیں ہوسکی۔
2۔ پائیڈ کے 2024 کے مقالے میں بھی تقریباً 1.1 ارب ڈالر کا ذکر ہے اور اس سے 4.7 ارب ڈالر کا مجموعہ ثابت نہیں ہوتا۔ اس میں ٹیکس ایڈمنسٹریشن ریفارم پروجیکٹ (ٹارپ) سے منسوب ابتدائی 400 ملین ڈالر کا ذکر ورلڈ بینک کی 102.9 ملین ڈالر کی قرض کمٹمنٹس سے مطابقت نہیں رکھتا۔
3۔ پرائم کی جدول میں میکرو اکنامک، صوبائی اور ٹیکس سے متعلق آپریشنز کو یکجا کیا گیا ہے۔ مصنف کی اصلاح کے مطابق اس کا عنوان پالیسی قرضوں سے متعلق ہونا چاہیے تھا، جبکہ نجی ای میل کے ذریعے حاصل کردہ ذریعے کو بھی مسترد کیا گیا ہے۔
4۔ منظور شدہ لاگت، کمٹمنٹ، ضمانت، حکومت کی جانب سے کیے گئے اخراجات اور جاری شدہ رقم ایک دوسرے کے متبادل نہیں ہیں۔
تیسرا ریکارڈ موجودہ نظاموں کی مکمل فہرست اور انہیں دوبارہ استعمال کرنے کا منصوبہ ہونا چاہیے، جس میں ہر مجوزہ کنسلٹنسی، لائسنس، ڈیٹا سینٹر اور خریداری کی وضاحت کی جائے۔ چوتھا ریکارڈ نتائج کا ایسا فریم ورک ہو جس میں حقیقی طور پر وصول کیے گئے اضافی ٹیکس، ٹیکس ادا کرنے کے ذمہ دار مثبت ذمہ داری رکھنے والے ٹیکس دہندگان، تعمیل میں صرف ہونے والے گھنٹے، ریفنڈ کے دورانیے، آڈٹ سے حاصل ہونے والی وصولی، کسٹمز کلیئرنس میں لگنے والے وقت، نظام کی دستیابی اور سائبر سیکیورٹی کی کارکردگی کی پیمائش کی جائے۔
اس تنازعے کو اس غیر ثابت شدہ دعوے تک محدود نہیں کرنا چاہیے کہ 5 ارب ڈالر غائب ہوگئے ہیں۔ دستاویزی طور پر سامنے آنے والی ناکامی ادارہ جاتی نوعیت کی ہے : ریاست نے ماضی کے قرضوں سے حاصل ہونے والے اثاثوں، نتائج اور اضافی آمدن کا جامع آڈٹ ریکارڈ شائع کیے بغیر ایک اور قرض لینے کی کوشش کی ہے۔
یہ واجبات پاکستان کے عوام سے متعلق ہیں، جنہیں آئین کے آرٹیکل 19 اے کے تحت یہ جاننے کا حق حاصل ہے کہ کیا قرض لیا گیا، کیا فراہم کیا گیا اور اس کے لیے کون جواب دہ تھا۔ ایکنک اور اے ڈی بی کو مزید ایک ڈالر کی منظوری سے قبل یہ ریکارڈ طلب کرنا چاہیے۔
کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر، 2026