ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں بہتری کا سلسلہ جاری
- ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 3 پیسے کی بہتری سے 277.17 روپے پر بند
انٹربینک مارکیٹ میں جمعرات کو بھی ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں بہتری کا سلسلہ جاری رہا۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 3 پیسے کی بہتری سے 277.17 روپے پر بند ہوا۔
یاد رہے کہ بدھ کو مقامی کرنسی 277.20 روپے پر بند ہوئی تھی۔
بین الاقوامی سطح پر امریکی ڈالر جمعرات کو دو ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب برقرار رہا۔ مضبوط مینوفیکچرنگ ڈیٹا نے مہنگائی کے خدشات اور شرحِ سود میں اضافے کی توقعات کو دوبارہ تقویت دی جبکہ امریکی ٹریژری کی کمزور نیلامی کے باعث مختلف مدت کے بانڈز کی ییلڈز میں اضافہ ہوا جس سے امریکی کرنسی کو مزید تقویت ملی۔
امریکی ڈالر کی مجموعی مضبوطی کے باعث یورو کی قدر کم ہو کر 1.1378 ڈالر پر آگئی جو دو ماہ کی کم ترین سطح ہے جبکہ برطانوی پاؤنڈ بھی 1.3231 ڈالر کی تین ماہ کی کم ترین سطح کے قریب رہا۔ ڈالر انڈیکس 101.1 کی سطح پر دو ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب برقرار رہا۔
رات گئے جاری ہونے والی توقع سے زیادہ مضبوط پرچیزنگ منیجرز رپورٹ نے قیمتوں میں اضافے کے نئے خدشات کو ہوا دی جبکہ پانچ سالہ امریکی ٹریژری نوٹس کی کمزور پذیرائی والی نیلامی نے بانڈز کی فروخت کی ایک نئی لہر کو جنم دیا جس کے نتیجے میں پانچ سالہ بانڈز کی ییلڈ 2007 کے بعد پہلی بار 5 فیصد سے تجاوز کر گئی۔
مہنگائی کے خطرات میں بدھ کو تیل کی قیمتوں میں تقریباً 4 فیصد اضافے سے بھی اضافہ ہوا جس کے بعد ایران کے صدر نے کبھی ہتھیار نہ ڈالنے کے عزم کا اظہار کیا۔ دوسری جانب مارکیٹیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ڈیزل کی برآمدات پر پابندی کے ممکنہ اثرات کا بھی جائزہ لے رہی ہیں۔
سی ایم ای گروپ کے فیڈ واچ ٹول کے مطابق، اب ٹریڈرز اکتوبر میں امریکی مرکزی بینک کے آئندہ اجلاس میں شرحِ سود میں مزید اضافے کے تقریباً 70 فیصد امکانات دیکھ رہے ہیں جبکہ ایک ہفتہ قبل یہ امکان 50 فیصد تھا۔