اسٹاک ایکسچینج میں خریداری کا رجحان برقرار، 100 انڈیکس میں 800 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ
- بینچ مارک انڈیکس 172,232.51 پوائنٹس پر بند
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں بدھ کو خریداری کا رجحان دیکھا گیا اور اتار چڑھاؤ سے بھرپور کاروباری سیشن میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 800 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق بینچ مارک انڈیکس نے کاروبار کے آغاز پر تیزی دکھائی، تاہم ابتدائی سیشن میں فروخت کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔
انڈیکس مختصر وقت کے لیے 172,400 پوائنٹس سے اوپر جانے کے بعد 172,000 پوائنٹس کی سطح کے قریب آگیا، مگر بعد ازاں صبح کے آخری حصے میں بتدریج بحالی دیکھی گئی۔ دوپہر کے قریب خریداری کا رجحان مزید مضبوط ہوا، جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس کاروباری سیشن کی بلند ترین سطح 172,762.41 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔
لیکن بلند سطح پر تیزی برقرار نہ رہ سکی اور دوپہر کے دوران انڈیکس بتدریج نیچے آتا گیا۔ دوپہر 2 بجے تک یہ 172,600 پوائنٹس سے کم ہوکر تقریباً 172,100 سے 172,000 پوائنٹس کی سطح پر آگیا۔
کاروبار کے آخری حصے میں انڈیکس زیادہ تر محدود دائرے میں رہا، جبکہ آخری گھنٹے میں معمولی بحالی دیکھی گئی۔
کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 830.43 پوائنٹس یا 0.48 فیصد اضافے سے 172,232.51 پوائنٹس پر بند ہوا۔
ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے مارکیٹ کے بعد جاری اپنی رپورٹ میں بتایا کہ مقامی اسٹاک مارکیٹ میں آج مضبوط بحالی دیکھی گئی، جبکہ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں کمی اور امریکا، ایران تعلقات میں بہتری نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو تقویت دی۔
بروکریج ہاؤس کے مطابق عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں کمی اور امریکا، ایران کشیدگی میں کمی کے آثار سے مثبت رجحان کو تقویت ملی، جس سے سرمایہ کاروں میں خطرہ مول لینے کی رغبت بحال ہوئی اور علاقائی صورتحال اور کرنٹ اکاؤنٹ پر دباؤ سے متعلق خدشات میں کمی آئی۔
رپورٹ کے مطابق ریفائنری سیکٹر کاروبار کا مرکز رہا، جہاں پاکستان ریفائنری لمیٹڈ (پی آر ایل) نے اپر سرکٹ ہٹ کیا، جبکہ اٹک ریفائنری (اے ٹی آر ایل)، نیشنل ریفائنری (این آر ایل) اور سینرجیکو پی کے کے حصص بھی اضافے کے ساتھ بند ہوئے۔ مارکیٹ میں یہ قیاس آرائیاں جاری رہیں کہ طویل عرصے سے زیرِ انتظار ریفائنری پالیسی پر کل یا جمعہ تک دستخط ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ انڈیکس پر بھاری وزن رکھنے والی کمپنیوں نے بھی تیزی کو مزید تقویت دی، جن میں ایف ایف سی، یو بی ایل، میزان بینک، اے ٹی آر ایل اور اینگرو ہولڈنگز نمایاں رہیں۔ ان کمپنیوں نے مجموعی طور پر انڈیکس میں تقریباً 493 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔
سرکاری ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ آئی ایم ایف کا اسٹاف مشن پاکستان پہنچ گیا ہے جو توسیعی فنڈ سہولت (ای ای ایف) کے تحت چوتھے جائزے اور لچک و پائیداری سہولت (آر ایس ایف) کے تحت تیسرے جائزے کے لیے مذاکرات کا آغاز کرے گا،
منگل کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) معمولی اضافے کے ساتھ بند ہوئی، کیونکہ کاروبار کے اختتامی مرحلے میں ویلیو ہنٹنگ نے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں سے متعلق پیش رفت کے باعث ابتدائی کمزوری سے مارکیٹ کو بحال ہونے میں مدد دی۔
بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس کاروباری سیشن کے دوران ایک محدود دائرے میں رہا اور بالآخر 171,402.08 پوائنٹس پر بند ہوا۔
عالمی سطح پر بدھ کو ایشیائی حصص مسلسل چھٹے کاروباری سیشن میں اضافے کی جانب گامزن رہے کیونکہ اے آئی ایپلی کیشنز کی صارفین میں طلب کے آثار ٹیکنالوجی اسٹاکس کو سہارا دیتے رہے جب کہ مشرق وسطیٰ سے سپلائی میں اضافے کی اطلاعات کے باعث تیل کی قیمتوں میں کمی آئی۔
ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ سعودی عرب نے ایسٹ ویسٹ پائپ لائن میں آپریشنز دوبارہ شروع کردیئے ہیں اور ممکنہ طور پر بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع سے تیل کی برآمدات بھی بحال کردی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی دعویٰ کیا کہ نیویارک میں ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم بعد ازاں انہوں نے معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں ایران کو تباہ کرنے کی دھمکی بھی دی۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان بدھ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے جبکہ مارکیٹ میں ان اطلاعات پر بھی نظر ہے کہ وہ ٹرمپ کے ساتھ مذاکرات کرسکتے ہیں۔
چینی صدر شی جن پنگ بھی دن کے اواخر میں واشنگٹن پہنچ رہے ہیں جہاں یہ قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی جنگ بندی میں توسیع ہوسکتی ہے اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں تعاون بھی ممکن ہے۔
مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے متعلق تازہ جوش و خروش کے باعث جنوبی کوریا کے اسٹاکس میں 1.2 فیصد اضافہ ہوا جبکہ سام سنگ اور ایس کے ہائنکس دونوں کے حصص 2 فیصد سے زیادہ بڑھ گئے۔ تائیوان کی مارکیٹ میں بھی 0.9 فیصد بہتری آئی اور انڈیکس تقریباً اپنی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گیا۔
جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک کے حصص پر مشتمل ایم ایس سی آئی کا وسیع ترین انڈیکس 0.7 فیصد بڑھ گیا اور مسلسل چھٹے روز اضافے کی جانب گامزن رہا۔ چینی بلیو چپ اسٹاکس میں معمولی اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔
جاپانی مارکیٹس تعطیل کے باعث بند رہیں، تاہم نکئی فیوچرز 66,745 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہے تھے جو جمعہ کو کیش نکئی انڈیکس کی اختتامی سطح سے تقریباً 2,000 پوائنٹس زیادہ ہے۔
دریں اثنا پاکستانی روپے نے بدھ کو انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی بہتری کا سلسلہ جاری رکھا۔ مقامی کرنسی ایک پیسے کی بہتری کے ساتھ 277.20 روپے فی ڈالر پر بند ہوئی۔
آل شیئر انڈیکس میں کاروباری حجم گزشتہ سیشن کے 641.83 ملین حصص کے مقابلے میں بڑھ کر 773.59 ملین حصص ہوگیا۔
حصص کی مجموعی مالیت بھی گزشتہ سیشن کے 18.47 ارب روپے کے مقابلے میں بڑھ کر 26.45 ارب روپے رہی۔
حجم کے لحاظ سے سائنرجیکو پی کے 150.27 ملین حصص کے کاروبار کے ساتھ سرفہرست رہی، اس کے بعد ورلڈ کال ٹیلی کام کے 91.08 ملین اور تصدیق انفارمیشن کے 58.64 ملین حصص کا کاروبار ہوا۔
بدھ کو مجموعی طور پر 496 کمپنیوں کے حصص میں کاروبار ہوا، جن میں 262 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ، 196 میں کمی جبکہ 38 کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں مستحکم رہیں۔