حوثیوں کی پیش قدمی کے بعد سعودی دفاعی فنڈ نے بحری شعبے میں سرمایہ کاری کا عمل تیز کردیا
- سعودی عرب کا ماسنا وینچرز فنڈ خطے کے تحفظ کے لیے امریکی دفاعی ٹیکنالوجی کو تیزی سے مقامی سطح پر منتقل کر رہا ہے، جس کی توجہ خودکار نظام اور ڈرون شکن ٹیکنالوجی پر مرکوز ہے
سعودی عرب کا دفاعی شعبے پر توجہ مرکوز کرنے والا پہلا وینچر کیپیٹل فنڈ ماسنا وینچرز خلیج میں جاری تنازع کے باعث خطے کی دفاعی کمزوریوں کے نمایاں ہونے کے بعد امریکی اور اتحادی ممالک کی دفاعی ٹیکنالوجی کی مقامی سطح پر تیاری کے لیے مزید سرمایہ کاری کرنے کا خواہاں ہے۔
فنڈ کے جنرل پارٹنر لوسیئن زیگلر نے رائٹرز کو بتایا کہ ایک معروف سعودی فیملی آفس کی معاونت سے قائم اور شریعت سے ہم آہنگ یہ فنڈ کیپٹل مارکیٹس اتھارٹی سے اپنی سرمایہ کاری کی گنجائش 100 ملین ڈالر سے بڑھا کر 150 ملین ڈالر کرنے کی اجازت طلب کرچکا ہے۔
زیگلر کے مطابق اب تک فنڈ میں شامل سرمایہ صرف سعودی شہریوں کا ہے، تاہم کمپنی اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ آیا بین الاقوامی سرمایہ بھی شامل کیا جائے۔ انہوں نے قواعد و ضوابط کا حوالہ دیتے ہوئے سرمایہ کاروں یا رقوم کی مزید تفصیلات بتانے سے انکار کردیا۔
انہوں نے کہا، ’’یہ سعودی خودمختاری پر ایک اعتماد ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ اس شعبے پر یقین رکھنے والے سعودی شہری بھی اس کی کامیابیوں میں شریک ہوں۔‘‘
زیگلر کے مطابق کمپنی بڑے دفاعی سازوسامان تیار کرنے والے اداروں، جنہیں ’’پرائم اوریجنل ایکوئپمنٹ مینوفیکچررز‘‘ کہا جاتا ہے، اور ایک ارب ڈالر سے زائد مالیت رکھنے والے اسٹارٹ اپس کے ساتھ تعاون تیز کر رہی ہے۔ ان کے بقول ان کمپنیوں کے رابطہ شدہ اور خودکار پلیٹ فارمز کو بالخصوص خلیج اور بحیرہ احمر میں موجودہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
انہوں نے رازداری کے معاہدوں کا حوالہ دیتے ہوئے کمپنیوں کے نام بتانے سے انکار کیا۔ ’’پرائم‘‘ دفاعی سازوسامان تیار کرنے والی بڑی کمپنیوں سے مراد ہے، جن میں لاک ہیڈ مارٹن اور بوئنگ شامل ہیں۔
’’بحری شعبہ ترجیح ہے‘‘
ماسنا وینچرز کی توجہ خودکار نظاموں پر مرکوز ہے، جن میں بغیر پائلٹ کے فضائی، بحری اور زیرِ آب گاڑیاں شامل ہیں۔
زیگلر نے کہا، ’’بحری شعبہ یقینی طور پر ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔۔۔ ہم اس شعبے میں اس وقت فعال طور پر کام تیز کر رہے ہیں۔‘‘
پچ بک کے مطابق رواں سال دنیا بھر میں وینچر کیپیٹل فرموں نے دفاعی ٹیکنالوجی میں 19.4 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے، جو گزشتہ سال کی مجموعی سرمایہ کاری سے دگنی ہے۔ ڈیٹا پلیٹ فارم کے مطابق 2026 میں سعودی عرب میں وینچر کیپیٹل کے معاہدوں کی مالیت تقریباً 200 ملین ڈالر رہی ہے۔
زیگلر نے گزشتہ 15 برسوں میں زیادہ تر وقت سعودی عرب میں سعودی اور امریکی کاروباری اداروں کے ساتھ ساتھ وینچر کیپیٹل، دفاع اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں کام کرتے ہوئے گزارا ہے۔ اس سے قبل وہ سلیکان ویلی کی پائلیٹس وینچر کیپیٹل میں مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے آپریشنز کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں۔
ماسنا نے سعودی عرب میں جدید دفاعی ٹیکنالوجی تیار کرنے کے لیے مقامی دفاعی سازوسامان تیار کرنے والی کمپنی ایس آر 2 ڈیفنس سسٹمز کے ساتھ شراکت داری کی ہے، جس کی شریک بنیاد زیگلر نے رکھی تھی۔