✕
دنیا

آبنائے ہرمز کا بحران ایل این جی توسیعی منصوبوں میں تاخیر کا باعث بن سکتا ہے، قطر انرجی

  • آبنائے ہرمز کے بحران کے باعث قطر کے بڑے ایل این جی توسیعی منصوبوں میں تاخیر کا خدشہ ہے، جس سے عالمی توانائی کی فراہمی اور منصوبوں کی تکمیل کے اوقات متاثر ہوسکتے ہیں
شائع اپ ڈیٹ

قطر انرجی کو توقع ہے کہ اس کے نارتھ فیلڈ ایسٹ (این ایف ای) مائع قدرتی گیس (ایل این جی) توسیعی منصوبے کی پہلی پروڈکشن ٹرین 2027 کی پہلی ششماہی میں پیداوار شروع کردے گی، تاہم مزید ٹرینوں کا انحصار آبنائے ہرمز کے بحران پر ہوگا۔

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع کیے جانے کے بعد آبنائے ہرمز کی عملی بندش کے نتیجے میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں سے دنیا کے سب سے بڑے ایل این جی توسیعی منصوبے کے ایک حصے میں تاخیر کا خدشہ ہے، ایسے وقت میں جب قطر اپنے راس لفان برآمدی مرکز پر حملوں کے بعد ہونے والی سپلائی میں کمی کو پورا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

قطر انرجی کے چیف ایگزیکٹو اور وزیر مملکت برائے توانائی امور سعد الکعبی نے اتوار کو نیویارک میں قطر اکنامک فورم کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ توسیعی منصوبے کے لیے درکار آلات آبنائے ہرمز میں جاری رکاوٹ کے باعث اب بھی قطر نہیں پہنچ پا رہے۔

راس لفان کی مرمت کا کام جاری

انہوں نے کہا کہ این ایف ای توسیعی منصوبے کے تحت ایل این جی کی چند پیداواری ٹرینیں 2027 کے دوران پیداوار شروع کریں گی، جبکہ نارتھ فیلڈ ساؤتھ (این ایف ایس) توسیعی منصوبے سے 2028 میں پیداوار شروع ہونے کی توقع ہے۔

قطر راس لفان پر ہونے والے حملوں سے پہنچنے والے نقصانات سے اب بھی نمٹ رہا ہے، جن کے نتیجے میں ملک کی ایل این جی پیداواری صلاحیت کا 17 فیصد متاثر ہوا۔

سعد الکعبی نے کہا کہ حملوں سے ایل این جی کی دو پیداواری ٹرینوں کو نقصان پہنچا، جن کی مرمت مکمل ہونے میں تین سال لگ سکتے ہیں، جبکہ ایک گیس ٹو لیکوئڈز (جی ٹی ایل) پلانٹ کی مرمت 2027 کی پہلی سہ ماہی میں مکمل ہوجائے گی۔

الکعبی کے مطابق نقصانات کے باوجود آبنائے ہرمز دوبارہ کھلنے کے چند ہفتوں کے اندر قطر معمول کے مطابق گیس آپریشنز بحال کرنے کے قابل ہوگا، تاہم انہوں نے کہا کہ قطر انرجی اس وقت بہت کم ایل این جی پیدا کر رہی ہے۔

قطر انرجی کی جانب سے مارکیٹ سے ایل این جی خریدنے سے متعلق رپورٹس کے بارے میں سوال پر الکعبی نے کہا کہ قطر انرجی اپنی تجارتی سرگرمیوں کو مسلسل وسعت دے رہی ہے اور مستقبل قریب میں ’’بہت بڑے فرق کے ساتھ دنیا کی سب سے بڑی ایل این جی تاجر‘‘ بن جائے گی۔

کعبی نے کہا کہ ٹیکساس میں قطر انرجی اور ایکسون موبل کے مشترکہ منصوبے گولڈن پاس ایل این جی پروجیکٹ کی دوسری اور تیسری پیداواری ٹرینوں کے 2027 میں مکمل طور پر فعال ہونے کی توقع ہے۔

گولڈن پاس نے مارچ میں اپنی پہلی پیداواری ٹرین سے پیداوار شروع کرنے کے بعد اپریل میں ایل این جی کی پہلی کھیپ برآمد کی تھی۔ منصوبہ مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد سالانہ 18 ملین میٹرک ٹن ایل این جی پیدا کرنے کی توقع ہے۔

کعبی نے ان تجاویز کو مسترد کردیا کہ ہمسایہ ممالک کے راستے پائپ لائنوں کے ذریعے گیس کی ترسیل آبنائے ہرمز کے ذریعے برآمدات کا ایک عملی متبادل ثابت ہوسکتی ہے۔ انہوں نے ہمسایہ ممالک کی جانب سے اپنی سرزمین تک رسائی کی پیشکش پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ قطر نے تجارتی اور تکنیکی وجوہات کی بنیاد پر یہ آپشن مسترد کردیا ہے۔