بھارت، نیوزی لینڈ آزاد تجارتی معاہدہ 20 اکتوبر سے نافذ ہوگا
- معاہدے کے تحت نیوزی لینڈ کی 95 فیصد برآمدات پر ٹیرف ختم، بھارتی اشیا کو ڈیوٹی فری رسائی ملے گی
بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان اپریل میں طے پانے والا آزاد تجارتی معاہدہ 20 اکتوبر سے نافذ العمل ہوگا۔ بھارتی وزیر تجارت پیوش گوئل نے بتایا کہ اس معاہدے کا مقصد برآمدات میں اضافہ اور عالمی تجارتی تبدیلیوں کے دوران سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔
یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک قانون پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت روسی تیل خریدنے والے ممالک بشمول بھارت پر 100 فیصد تک ٹیرف عائد کیا جاسکتا ہے۔
بھارت نے امریکا پر انحصار کم کرنے اور اپنی برآمدی منڈیوں کو وسعت دینے کے لیے برطانیہ اور یورپی یونین سمیت بڑی معیشتوں کے ساتھ تجارتی معاہدوں کی کوششیں تیز کردی ہیں۔
نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ نے گزشتہ ہفتے معاہدے پر عملدرآمد کے لیے قانون منظور کیا، جس کے تحت بھارت کو کی جانے والی تقریباً 95 فیصد نیوزی لینڈ کی برآمدات، جن میں شراب، کیوی فروٹ اور سیب شامل ہیں، پر ٹیرف ختم یا نمایاں طور پر کم کردیا جائے گا۔
معاہدے کے تحت تمام بھارتی اشیا کو نیوزی لینڈ میں ڈیوٹی فری رسائی حاصل ہوگی جبکہ طلبہ اور کارکنوں کے لیے نقل و حرکت کے قوانین میں بھی نرمی کی جائے گی۔ نیوزی لینڈ آئندہ 15 برس میں بھارت میں 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔
دونوں ممالک کے وزرائے اعظم نے 2030 تک دوطرفہ تجارت دگنی کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے، جو جون تک 12 ماہ میں تقریباً 2.3 ارب ڈالر رہی۔
نیوزی لینڈ کے وزیر تجارت ٹوڈ میک کلی نے کہا کہ عالمی تجارت میں غیر یقینی اور بڑھتی ہوئی تجارتی رکاوٹوں کے باوجود بھارت اور نیوزی لینڈ نے کاروبار اور تجارت کے لیے باہمی فائدہ مند معاہدہ کیا ہے۔