✕
کاروبار اور معیشت

پاکستان نے آبنائے ہرمز کے راستے قطر سے ایل این جی کی ایک اور کھیپ حاصل کرلی

  • ٹینکر کے منگل تک پاکستان کی ایل این جی درآمدی سہولت پر پہنچنے کی توقع ہے
شائع اپ ڈیٹ

بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے ایل این جی کی ایک اور کھیپ کی محفوظ ترسیل کے لیے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت یقینی بنانے کی غرض سے ایران سے مذاکرات کیے ہیں جس سے توانائی کے بڑھتے ہوئے بحران سے دوچار ملک کو کسی حد تک ریلیف ملنے کی توقع ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایل این جی ٹینکر نے جون کے اواخر میں قطر کی راس لفان سہولت سے کھیپ لادنے کے بعد ہفتے کے آخر میں آبنائے ہرمز عبور کرلی۔ بحری جہازوں کی نگرانی کے ڈیٹا کے مطابق ٹینکر کے منگل تک پاکستان کی ایل این جی درآمدی سہولت پر پہنچنے کی توقع ہے۔

بلومبرگ نے معاملے سے باخبر افراد کے حوالے سے کہا کہ اس گزرگاہ کے لیے حکام کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے۔

یہ رواں ماہ قطر سے ایل این جی کی دوسری ایسی کھیپ ہے۔ اس سے قبل قطر سے ایل این جی لے کر آنے والا ٹینکر المروّنا پاکستان کی بندرگاہ پورٹ قاسم پہنچا تھا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اگر یہ کھیپ آبنائے ہرمز سے نہ گزر پاتی تو پاکستان ایل این جی کی خریداری کے لیے ٹینڈر جاری کرنے پر غور کررہا تھا۔

انہوں میں مزید کہا گیا کہ تاہم کھیپ کی کامیاب ترسیل حکومت کیلئے زیادہ بہتر ہے کیونکہ وہ اسپاٹ مارکیٹ سے مزید مہنگی کھیپیں خریدنے سے گریز کرنا چاہتی ہے جہاں قیمتیں 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔

پاکستان کو اس وقت جغرافیائی سیاسی رکاوٹوں اور اسپاٹ مارکیٹ میں بلند قیمتوں کے باعث ایل این جی کی ترسیل کے حصول میں نمایاں مشکلات کا سامنا ہے۔

پاکستان مستحکم اور نسبتاً سستی ایل این جی کی فراہمی کے لیے قطر کے ساتھ طویل مدتی سپلائی معاہدوں پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔

تاہم آبنائے ہرمز میں دوبارہ شروع ہونے والی کشیدگی کے باعث جولائی 2026 کے لیے مقرر قطر کی ایل این جی کی ایک کھیپ منسوخ ہوگئی اور قطر نے فورس میجر کا اعلان کردیا جس سے ایل این جی کی درآمد متاثر ہوئی۔ اس صورتحال کے باعث پاکستان کو ہنگامی بنیادوں پر سپلائی حاصل کرنے، متبادل ایندھن تلاش کرنے یا مہنگی اسپاٹ کھیپیں خریدنے پر مجبور ہونا پڑا۔

پاکستان کے وزیرِ پٹرولیم علی پرویز ملک نے اتوار کو خبردار کیا کہ اگر ایندھن کی قلت پیدا ہوئی تو قیمت 1,000 روپے فی لیٹر تک پہنچ سکتی ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں ایندھن کی کوئی قلت نہیں ہے۔

لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تقریباً 80 فیصد اضافہ ہوا جبکہ رواں سال یکم مارچ سے پاکستان میں پٹرول کی قیمت میں صرف 50 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔