✕
کاروبار اور معیشت

اسٹاک ایکسچینج ، 100 انڈیکس کا اتار چڑھاؤ کے بعد مثبت اختتام

  • کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 171,153.16 پوائنٹس پر بند
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں پیر کو کاروبار کے دوران اتار چڑھاؤ دیکھا گیا جبکہ کے ایس ای-100 انڈیکس نسبتاً محدود دائرے میں اتار چڑھاؤ کے بعد 250 سے زائد پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ بند ہوا۔

تفصیلات کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر بینچ مارک انڈیکس ٹریڈنگ کے دوران 171,732.62 پوائنٹس کی سیشن کی بلند ترین سطح تک پہنچا،بعد ازاں فروخت کے دباؤ میں آکر 170,900 پوائنٹس کے قریب آگیا جو سیشن کی کم ترین سطح 170,902.75 پوائنٹس رہی۔

بعد ازاں انڈیکس نے کچھ ریکوری کی اور دوپہر کے قریب 171,300 سے 171,400 پوائنٹس کے درمیان کاروبار کرتا رہا، تاہم پھر دوبارہ کمی کا شکار ہوگیا۔

بینچ مارک انڈیکس نے دوپہر کے سیشن میں ایک بار پھر ریکوری کی اور مختصر وقت کے لیے 171,400 پوائنٹس کے قریب پہنچ گیا، تاہم کاروبار کے اختتامی مرحلے میں دوبارہ کمی کا شکار ہوگیا۔

کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 268.58 پوائنٹس یا 0.16 فیصد اضافے سے 171,153.16 پوائنٹس پر بند ہوا۔

ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی مارکیٹ کے بعد کی رپورٹ میں کہا کہ آج مقامی اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا معمولی رجحان واپس آیا، جبکہ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں کمی اور امریکا، ایران کشیدگی میں ممکنہ کمی کے آثار نے سرمایہ کاروں کے جذبات کو کچھ سہارا دیا۔

بروکریج ہاؤس کے مطابق خام تیل کی قیمتوں میں کمی نے سرمایہ کاروں کو ریلیف دیا اور مہنگائی کے دباؤ، بیرونی کھاتے اور مجموعی معاشی استحکام سے متعلق خدشات کم ہوئے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے جاری سفارتی کوششوں نے بھی سرمایہ کاروں کی رسک لینے کی صلاحیت بہتر بنانے میں مدد کی۔

ٹاپ لائن کے مطابق انڈیکس میں ایل یو سی کے، اے ٹی آر ایل، ایف ایف سی، ایم اے آر آئی اور ای ایف ای آر ٹی نمایاں مثبت کردار ادا کرنے والے حصص رہے، جنہوں نے مجموعی طور پر کے ایس ای 100 انڈیکس میں تقریباً 254 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔

گزشتہ ہفتے پی ایس ایکس میں نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا جبکہ سرمایہ کاروں کے جذبات میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کے باوجود بینچ مارک انڈیکس ایک محدود دائرے میں کاروبار کرتا رہا۔

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگی، خطے میں توانائی کی فراہمی سے متعلق دوبارہ پیدا ہونے والی تشویش اور عالمی و مقامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں تیز اضافے نے سرمایہ کاروں کو محتاط رکھا جس کے باعث ایکویٹی مارکیٹ میں اضافے کی گنجائش محدود رہی۔ بینچ مارک 100 انڈیکس انڈیکس ہفتہ وار بنیاد پر صرف 372.73 پوائنٹس یعنی 0.22 فیصد اضافے کے ساتھ 170,884.59 پوائنٹس پر بند ہوا۔

بین الاقوامی سطح پر پیر کو ایشیا کی حصص مارکیٹوں میں معمولی اضافہ ہوا کیونکہ مصنوعی ذہانت کی ڈیٹا کی بڑھتی ہوئی طلب نے چِپ بنانے والی کمپنیوں کے حصص کو سہارا دیا۔ دوسری جانب خلیج میں جاری تنازع کے باوجود، ان اطلاعات کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی آئی کہ مشرقِ وسطیٰ سے توقع سے زیادہ تیل باہر پہنچ رہا ہے۔

جاپان کی نکئی مارکیٹ بند رہی تاہم فیوچرز میں 0.5 فیصد اضافہ ہوا جبکہ جنوبی کوریا کے ٹیکنالوجی پر مبنی انڈیکس میں 1.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ جاپان سے باہر ایشیا بحرالکاہل کے حصص کے لیے ایم ایس سی آئی کے وسیع ترین انڈیکس میں 0.8 فیصد اضافہ ہوا جبکہ چینی بلیو چِپ اسٹاکس میں 0.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں 0.4 فیصد اضافہ ہوا جبکہ نیس ڈیک فیوچرز میں 0.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یورپ میں یورو اسٹاکس 50 فیوچرز اور ڈی اے ایکس فیوچرز دونوں میں 0.4 فیصد اضافہ ہوا جبکہ ایف ٹی ایس ای فیوچرز 0.2 فیصد مضبوط ہوئے۔

بانڈ مارکیٹیں بدستور دباؤ کا شکار رہیں کیونکہ شدید فروخت کے باعث گزشتہ دو ہفتوں کے دوران امریکی 2 سالہ بانڈز کی ییلڈ 36 بیسس پوائنٹس بڑھ کر 4.7604 فیصد کی سطح پر پہنچ گئی جو 2024 کے وسط کے بعد بلند ترین سطح ہے۔

گزشتہ ہفتے فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود کے حوالے سے سخت گیر رہنمائی کے بعد فیوچرز مارکیٹ میں اکتوبر میں شرح سود میں مزید اضافے کے امکان کو 56 فیصد قرار دیا جارہا ہے جبکہ سال کے اختتام تک شرح سود میں اضافے کو تقریباً یقینی سمجھا جا رہا ہے۔

دریں اثنا پاکستانی روپے نے امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی بہتری کا سلسلہ جاری رکھا اور پیر کو انٹربینک مارکیٹ میں اس کی قدر میں 0.01 فیصد اضافہ ہوا۔ مقامی کرنسی 3 پیسے کی بہتری کے ساتھ 277.22 روپے فی ڈالر پر بند ہوئی۔

آل شیئر انڈیکس میں کاروباری حجم گزشتہ سیشن کے 57 کروڑ 62 لاکھ 60 ہزار حصص کے مقابلے میں بڑھ کر 69 کروڑ 28 لاکھ 80 ہزار حصص ہوگیا۔

تاہم حصص کی مجموعی مالیت 2241 کروڑ روپے سے کم ہوکر 2010 کروڑ روپے رہی۔

تصدیق انفارمیشن 11 کروڑ 96 لاکھ 30 ہزار حصص کے کاروبار کے ساتھ حجم کے لحاظ سے سرفہرست رہی، ایف نیٹ ایکویٹیز کے 7 کروڑ 37 لاکھ 10 ہزار حصص جبکہ میڈیا ٹائمز لمیٹڈ کے 7 کروڑ 5 ہزار حصص کا کاروبار ہوا۔

پیر کو مجموعی طور پر 494 کمپنیوں کے حصص میں کاروبار ہوا، جن میں 238 کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ، 213 میں کمی جبکہ 43 کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں مستحکم رہیں۔