✕
پاکستان

ایندھن کی قلت ہوئی تو قیمت ایک ہزار روپے فی لیٹر تک پہنچ سکتی ہے، وفاقی وزیر پٹرولیم

  • حکومت موسم سرما میں عوام کے لیے گیس کی قلت نہیں ہونے دے گی
شائع اپ ڈیٹ

پٹرولیم وزیر علی پرویز ملک نے اتوار کو خبردار کیا ہے کہ اگر ملک میں ایندھن کی قلت پیدا ہوئی تو اس کی قیمت ایک ہزار روپے فی لیٹر تک پہنچ سکتی ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ فی الحال ملک میں ایندھن کی کوئی قلت نہیں ہے۔

لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافے اور وسائل کی شدید کمی کے باوجود حکومت ایندھن کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ رواں سال یکم مارچ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تقریباً 80 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ پاکستان میں پٹرول کی قیمت میں صرف 50 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔

ملک نے کہا، ’’وزیراعظم شہباز شریف نے ایک ذمہ دار وزیراعظم کی حیثیت سے پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کو محدود رکھا ہے۔‘‘

وزیر نے بتایا کہ ایندھن ریلیف طریقہ کار کے تحت 30 ارب سے 40 ارب روپے کم آمدنی والے طبقات کے لیے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ ایک ہی روز میں 18 کروڑ روپے مالیت کے ٹوکن جاری کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں 7,400 پٹرول پمپس کو ادائیگیاں کی جاچکی ہیں تاکہ 20 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ شہریوں کو سہولت فراہم کی جاسکے۔

ملک نے کہا کہ حکومت نے جماعت اسلامی کے وفد کو ایندھن کی فراہمی کے انتظام میں درپیش مشکلات سے آگاہ کیا ہے اور جماعت سے اپیل کی ہے کہ عوام کو درپیش مشکلات کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے۔

موسم سرما میں توانائی کی ضروریات کے حوالے سے وزیر پٹرولیم نے کہا کہ حکومت گیس کی قلت سے بچنے کے لیے ایل این جی کی فراہمی کا محتاط انداز میں انتظام کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا، ’’ہم موسم سرما میں عوام کے لیے گیس کی قلت نہیں ہونے دیں گے، خواہ اس مقصد کے لیے ہمیں 30 لاکھ ڈالر کے بجائے 10 کروڑ ڈالر مالیت کی گیس درآمد کرنا پڑے۔‘‘