✕
دنیا

کینیڈا بھارت کے ساتھ تجارتی مذاکرات سال کے آخر تک مکمل ہونے کے لیے پُرامید ہے، وزیر

  • بھارتی تجارتی مذاکرات کاروں کی آئندہ ماہ کینیڈا آمد متوقع
شائع اپ ڈیٹ

کینیڈا کے وزیر برائے بین الاقوامی تجارت نے ہفتہ کو کہا ہے کہ کینیڈا کو امید ہے کہ بھارت کے ساتھ جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے (سیپا) کے لیے مذاکرات سال کے آخر تک مکمل ہوجائیں گے۔

کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے اس سے قبل مارچ میں نئی دہلی کے دورے کے دوران کہا تھا کہ دونوں ممالک سال کے اختتام تک آزاد تجارتی معاہدے پر اتفاق کرنے کی کوشش کریں گے۔

کینیڈا کے وزیر تجارت منیندر سدھو نے بھارت کے مالیاتی مرکز ممبئی کے دورے کے دوران رائٹرز کو ایک انٹرویو میں بتایا، ’’مجھے بہت، بہت پُرامید اور پُرجوش محسوس ہورہا ہے کہ ہم آنے والے مہینوں میں یہ کام مکمل کرسکتے ہیں۔‘‘

سدھو نے کہا کہ بھارتی تجارتی مذاکرات کاروں کی اگلے ماہ کینیڈا آمد متوقع ہے، جبکہ دونوں ممالک کے رہنماؤں کی دسمبر میں ہونے والے جی 20 اجلاس کے موقع پر ملاقات کا امکان ہے۔

مذاکرات کا ایک اہم شعبہ توانائی ہے۔ گزشتہ سال کینیڈا میں شیل کی قیادت میں ایل این جی برآمدی تنصیب نے کام شروع کیا تھا، جبکہ ملک میں مزید پانچ منصوبے مختلف مراحل میں زیر تکمیل ہیں۔

سدھو نے کہا، ’’ہم بھارتی کمپنیوں کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں کہ وہ ان منصوبوں تک رسائی کیسے حاصل کرسکتی ہیں، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہ ان منصوبوں میں سرمایہ کاری اور رسد کے حصول کو کیسے یقینی بناسکتی ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔

مائع قدرتی گیس کے علاوہ دونوں ممالک جوہری توانائی کے شعبے میں بھی تعاون بڑھانے کے خواہاں ہیں، جہاں بھارت اپنی پیداواری صلاحیت میں نمایاں اضافہ کرنا چاہتا ہے۔

سدھو نے کہا، ’’کینیڈا کی جوہری صنعت میں طویل تاریخ ہے اور مجھے یہاں بھارت میں سپلائی چین کی تعمیر میں کینیڈین کمپنیوں اور صنعتوں کے کردار کے لیے بہت سے مواقع نظر آتے ہیں۔‘‘

سدھو نے مزید تفصیلات بتائے بغیر کہا کہ ریلائنس انڈسٹریز سے لے کر مہندرا اینڈ مہندرا اور جے ایس ڈبلیو گروپ تک متعدد بڑے بھارتی کاروباری گروپ کینیڈا میں اہم معدنیات کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ اپنی سپلائی چینز کے لیے رسد یقینی بناسکیں۔

انہوں نے کہا کہ کمپنیاں مشترکہ سرمایہ کاری کے طریقوں کا جائزہ لے رہی ہیں کیونکہ سپلائی چینز کو بطور ہتھیار استعمال کیا جارہا ہے۔