اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، 100 انڈیکس میں ایک ہزار سے زائد پوائنٹس کا اضافہ
- 100 انڈیکس 169,043.19 پوائنٹس پر بند
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعرات کو خریداری کا رجحان ایک بار پھر واپس آگیا جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس ایک ہزار سے زائد پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ بند ہوا۔
تفصیلات کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں بینچ مارک انڈیکس کو ابتدا میں دباؤ کا سامنا کرنا پڑا اور انڈیکس تیزی سے گر کر 168,222.91 کی انٹرا ڈے کم ترین سطح تک پہنچ گیا، بعد ازاں صبح کے آخری سیشن کے دوران اس میں بتدریج بہتری آتی رہی۔
بینچ مارک انڈیکس نے صبح 11 بجے کے قریب رفتار پکڑی اور 169,300 کی سطح کی جانب بڑھا جبکہ دوپہر کے قریب اس نے مزید اضافہ کرتے ہوئے 169,576.52 کی انٹرا ڈے بلند ترین سطح کو چھو لیا۔
تاہم دوپہر کے سیشن میں تیزی کی رفتار ماند پڑ گئی، انڈیکس بتدریج نیچے آتا رہا اور زیادہ تر ایک محدود دائرے میں کاروبار کرتا رہا، تاہم آخری گھنٹوں میں ایک بار پھر تیز کمی کے باعث یہ دن کی کم ترین سطح کے قریب پہنچ گیا۔
بعد ازاں مارکیٹ میں کاروبار کے اختتامی سیشن میں بحالی ہوئی جس سے کے ایس ای-100 انڈیکس 169,300 کی سطح تک پہنچ گیا۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 1,021.39 پوائنٹس یا 0.61 فیصد اضافے سے169,043.19 پوائنٹس پر بند ہوا۔
ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے مارکیٹ کے بعد جاری اپنی کمنٹری میں کہا کہ حالیہ کریکشن کے بعد انڈیکس پر اثرانداز ہونے والے اہم حصص میں محدود پیمانے پر خریداری کے باعث مارکیٹ میں بحالی دیکھی گئی مگر عالمی تیل کی قیمتوں، جغرافیائی سیاسی صورتحال، ملکی میکرو اکنامک اشاریوں اور ادارہ جاتی سرمایہ کاری کے بہاؤ پر مسلسل توجہ کے باعث مارکیٹ کا رجحان محتاط رہا۔
اس نے مزید کہا کہ یو بی ایل، پی پی ایل، ماری، بی اے ایف ایل اور ایچ بی ایل انڈیکس میں اضافے کے بڑے محرک رہے، جنہوں نے مجموعی طور پر تقریباً 493 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔ دوسری جانب این بی پی، جی ایچ این آئی اور ایف ایف سی نمایاں منفی اثر ڈالنے والے حصص رہے، جنہوں نے مجموعی طور پر کے ایس ای 100 انڈیکس سے تقریباً 88 پوائنٹس کم کیے۔
بدھ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) پر فروخت کا دباؤ دیکھا گیا کیونکہ عالمی سطح پر تیل کی بلند قیمتوں اور خطے میں جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگی نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا، جس کے نتیجے میں اہم شعبوں میں بڑے پیمانے پر منافع حاصل کرنے کا رجحان دیکھا گیا۔
میکرو اکنامک استحکام سے متعلق خدشات، بیرونی کھاتے پر دباؤ اور عالمی تیل کی منڈیوں میں طویل عرصے تک خلل برقرار رہنے کے خطرے نے پورے کاروباری سیشن کے دوران مارکیٹ پر دباؤ ڈالا۔
گزشتہ روز بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1,370.52 پوائنٹس یا 0.81 فیصد کمی سے 168,021.80 پوائنٹس پر بند ہوا۔
عالمی سطح پر جمعرات کو ایشیا میں حصص کی قیمتوں میں معمولی اضافہ ہوا، کیونکہ سرمایہ کاروں نے توقع ظاہر کی کہ امریکی فیڈرل ریزرو بالآخر مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مؤثر اقدامات کررہا ہے۔ فیڈرل ریزرو نے 3 سال سے زائد عرصے میں پہلی بار شرح سود میں اضافہ کیا جس سے عالمی بانڈ مارکیٹ میں جاری فروخت کا دباؤ کم ہوا جس کے نتیجے میں طویل مدتی بانڈز کی ییلڈز میں نمایاں اضافہ ہوا تھا۔
امریکی ڈالر اپنی بڑی حریف کرنسیوں کے مقابلے میں سات ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا جسے قلیل مدتی امریکی ٹریژری بانڈز کی ییلڈز میں اضافے سے تقویت ملی۔ مارکیٹ میں یہ توقعات بڑھ گئیں کہ فیڈرل ریزرو کو دوبارہ شرح سود میں اضافہ کرنا پڑسکتا ہے جبکہ دسمبر تک شرح میں ایک اور اضافے کے امکان کو مکمل طور پر قیمتوں میں شامل کرلیا گیا ہے۔ اس صورتحال نے اجناس کی قیمتوں پر دباؤ ڈالا جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ بھی کسی حد تک ختم ہوگیا۔
اب توجہ بینک آف انگلینڈ پر مرکوز ہے جس سے توقع ہے کہ وہ آج بعد میں شرح سود کو موجودہ سطح پر برقرار رکھے گا، تاہم تمام نظریں اس بات کے کسی بھی اشارے پر ہوں گی کہ آیا توانائی کی بلند قیمتیں اسے نومبر میں شرح سود بڑھانے پر مجبور کرسکتی ہیں۔ اس کے برعکس بینک آف جاپان کی جانب سے جمعہ کو شرح سود میں اضافہ تقریباً یقینی سمجھا جارہا ہے۔
ایم ایس سی آئی کے جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک کے حصص کا وسیع ترین انڈیکس 0.4 فیصد بڑھا جبکہ جاپان کا نکئی انڈیکس 0.5 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوا۔ چین کے بلیو چِپ اسٹاکس میں 0.4 فیصد کمی ہوئی جبکہ ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس 0.9 فیصد گرگیا۔
وال اسٹریٹ پر معمولی کمی کے بعد نیسڈیک فیوچرز میں 0.6 فیصد جبکہ ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں 0.5 فیصد اضافہ ہوا۔
توقعات کے عین مطابق فیڈرل ریزرو نے گزشتہ شب شرح سود میں 25 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کیا تاہم متفقہ فیصلے کا رجحان قدرے سخت گیر رہا کیونکہ بورڈ نے رواں سال شرح سود میں مزید ایک اضافے کا عندیہ دیا۔ گولڈمین سیکس نے اب اکتوبر میں فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں ایک اور اضافے کی توقع ظاہر کی ہے۔
علاوہ ازیں آل شیئر انڈیکس پر کاروباری حجم گزشتہ سیشن کے 356.14 ملین کے مقابلے میں بڑھ کر 386.37 ملین حصص ہوگیا۔
حصص کی مالیت بھی گزشتہ سیشن کے 19.49 ارب روپے کے مقابلے میں بڑھ کر 20.09 ارب روپے ہوگئی۔
میڈیا ٹائمز لمیٹڈ 42.16 ملین حصص کے کاروبار کے ساتھ حجم کے اعتبار سے سرفہرست رہا جبکہ سائنرجی کو پی کے 25.97 ملین حصص اور نیا ناظم آباد 15.73 ملین حصص کے ساتھ بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔
مجموعی طور پر 500 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جن میں سے 296 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ، 152 میں کمی اور 52 میں استحکام رہا۔