✕

آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد منگل کو4 رہی جو ایک روز قبل کے 7 جہازوں کے مقابلے میں کم ہے۔ بدھ کو جاری کیے گئے ابتدائی شپنگ ڈیٹا کے مطابق یہ تعداد گزشتہ 10 روز کی اوسط 18 جہازوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم رہی۔

ایران جنگ سے قبل دنیا کے تیل اور ایل این جی کی تقریباً پانچویں حصے کی ترسیل کا راستہ رہنے والی اس آبی گزرگاہ سے بحری آمدورفت میں کمی خطے میں حملوں میں اضافے کے بعد سامنے آئی ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق منگل کو گزرنے والے کل 4 جہازوں میں سے 2 آبنائے سے باہر نکلے جبکہ 2 اندر داخل ہوئے۔

ان میں کوئی انتہائی بڑے خام تیل بردار جہاز یا مائع قدرتی گیس کے ٹینکر شامل نہیں تھے۔

ممکن ہے کہ بعض بحری جہاز اپنے ٹرانسپونڈر بند کرکے آبنائے سے گزر رہے ہوں جس کے باعث انہیں اعدادوشمار میں شمار نہیں کیا جاتا۔

سیلوٹ نامی ایک انتہائی بڑا گیس بردار جہاز تقریباً 4 لاکھ 70 ہزار بیرل مائع پٹرولیم گیس لے کر ایرانی راستے سے آبنائے سے باہر نکلا جبکہ نوٹیلس نامی پانامیکس سائز کا ٹینکر تقریباً 5 لاکھ 10 ہزار بیرل نیفتھا لے کر ایک نامعلوم خفیہ راستے سے باہر نکلا۔

آبنائے میں داخل ہونے والے دونوں جہاز مال سے لدے ہوئے تھے جن میں سے ایک قلیل فاصلے کے لیے استعمال ہونے والا ڈرٹی پراڈکٹس ٹینکر تھا جبکہ دوسرا خشک بلک کارگو بردار جہاز تھا۔

دونوں جہاز ایرانی راستے سے آبنائے میں داخل ہوئے۔ دریں اثنا، باب المندب آبنائے سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد 22 رہی جو ایک روز قبل کی 24 کے مقابلے میں معمولی کمی ہے۔