✕
کاروبار اور معیشت

پاکستان چین کو گدھوں کا نیا سپلائر بن کر ابھر رہا ہے، رپورٹ

  • چین میں ای جیاؤ کی مارکیٹ 2021 میں تقریباً 7.8 ارب ڈالر مالیت کی تھی
شائع اپ ڈیٹ

بلومبرگ نے منگل کو رپورٹ کیا ہے کہ پاکستان چین کو گدھوں کی فراہمی کرنے والے ایک نئے ملک کے طور پر ابھر رہا ہے کیونکہ روایتی چینی دوا ای جیاؤ میں استعمال ہونے والی گدھے کی کھالوں کی بڑھتی ہوئی طلب نے ملک کیلئے برآمدات کی ایک نئی اور مخصوص مارکیٹ کھول دی ہے۔

چین میں گدھے کی کھالوں کی طلب میں اضافے اور مقامی سطح پر رسد میں کمی کے باعث یہ شعبہ وسعت اختیار کررہا ہے۔ گدھے کی کھالوں سے ای جیاؤ تیار کیا جاتا ہے جو گدھے کی کھال کو ابال کر تیار کیا جانے والا کولیجن سے بھرپور جیلی نما مادہ ہے اور روایتی چینی طب میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔

بلومبرگ کے مطابق 2023 کی امریکی کانگریشنل ریسرچ سروس کی ایک رپورٹ کے مطابق چین میں ای جیاؤ کی مارکیٹ 2021 میں تقریباً 7.8 ارب ڈالر مالیت کی تھی جب کہ رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا کہ دنیا بھر میں ہر سال 23 لاکھ سے 48 لاکھ گدھے ان کی کھالوں کے حصول کے لیے ذبح کیے جاتے ہیں۔

چین میں گدھوں کی آبادی میں مسلسل کمی کے باعث دنیا کی دوسری بڑی معیشت میں خریداروں نے پاکستان، برازیل اور آسٹریلیا سمیت بیرون ملک منڈیوں سے گدھوں کی کھالوں کی فراہمی حاصل کرنا شروع کردی ہے۔

پاکستان میں گدھوں کی آبادی کا تخمینہ 60 لاکھ سے زائد ہے جبکہ چین ایک اہم منڈی ہے جہاں گدھے کا گوشت کھانے کے لیے اور ای جیاؤ، جو روایتی چینی طب میں استعمال ہونے والا جیلی نما مادہ ہے، کی تیاری کے لیے گدھے استعمال کیے جاتے ہیں۔

جنوبی ایشیائی ملک پاکستان چین کو گدھے کا گوشت اور کھالیں برآمد کرنے کی تیاری کررہا ہے جس کے لیے کئی برسوں سے مذاکرات، ضوابط کی تیاری اور ضروری انفرااسٹرکچر کے قیام کا عمل جاری ہے۔

اکتوبر 2024 میں چینی وزیراعظم لی چیانگ کے دورۂ پاکستان کے دوران پاکستان اور چین نے ایک پروٹوکول پر دستخط کیے جس میں گدھے کے گوشت اور کھالوں کی برآمد کے لیے قرنطینہ سے متعلق ضروریات وضع کی گئیں۔

اپریل 2025 میں حکومت نے اعلان کیا کہ چین کو گدھے کے گوشت کی تجارتی برآمد سے پاکستان کی تجارت کو فروغ ملے گا جبکہ گوادر میں گدھوں کی تجارتی افزائش اور پروسیسنگ کی سہولیات قائم کرنے کا منصوبہ بھی بنایا گیا۔ چینی کمپنیوں کو گوادر کے ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں فارمز، مذبح خانے اور برآمدی سہولیات قائم کرنے کی اجازت دی گئی جس کا مقصد پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔

مئی 2026 میں اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے گوادر نارتھ فری زون سے گدھے کے گوشت کی برآمد کی باضابطہ منظوری دے دی، تاہم اس کے لیے درآمد کرنے والے ملک کی درآمدی پالیسی پر سختی سے عمل درآمد لازم قرار دیا گیا۔

جولائی 2026 تک اینڈی نامی ایک چینی کاروباری شخصیت نے گوادر میں مذبح خانہ قائم کرکے چین کو برآمدات شروع کردی تھیں۔ ان کی کمپنی ہانگینگ گروپ سالانہ 2 لاکھ 16 ہزار تک گدھوں کو پروسیس کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ اینڈی نے 50 لاکھ چینی یوآن (تقریباً 7 لاکھ 40 ہزار ڈالر) ڈیجیٹل ٹریس ایبلٹی نظام میں سرمایہ کاری کی جس کے ذریعے ہر گدھے کو کسان سے لے کر چینی صارف تک ٹریک کیا جائے گا تاکہ شفافیت، غذائی تحفظ اور ضوابط کی پابندی یقینی بنائی جاسکے۔

بلومبرگ کے مطابق بلوچستان کے گوادر کے قریب گدھوں کا مذبح خانہ اور پروسیسنگ کی سہولیات چلانے والا ہانگینگ گروپ چند ماہ کے اندر اپنی یومیہ ذبح کرنے کی صلاحیت بڑھا کر 800 گدھے کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے جس کا مقصد چینی خریداروں کی بڑھتی ہوئی طلب سے فائدہ اٹھانا ہے۔

چیف ایگزیکٹو آفیسر اینڈی لیاؤ نے اسلام آباد میں ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ یہ کاروبار چھ ماہ کے اندر ماہانہ تقریباً 50 لاکھ ڈالر کی زرمبادلہ آمدنی پیدا کرسکتا ہے جو دو سال میں بڑھ کر 70 لاکھ ڈالر ماہانہ تک پہنچنے کی توقع ہے۔

کمپنی نے گزشتہ چھ برس کے دوران پاکستان میں تقریباً 5 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے جبکہ اس وقت ذبح، پروسیسنگ، پیکنگ اور نقل و حمل کے شعبوں میں 9 چینی منیجرز اور تقریباً 500 مقامی کارکن خدمات انجام دے رہے ہیں۔

اینڈی لیاؤ نے کہا کہ کمپنی گدھوں کی افزائش اور لیبارٹری کی سہولیات کے شعبوں میں توسیع کا منصوبہ رکھتی ہے جبکہ مستقبل میں سمندری خوراک کی برآمدات کے شعبے میں بھی کاروبار کو وسعت دی جائے گی۔

جولائی 2026 میں چین اور پاکستان کے وزرائے اعظم نے سالانہ 2 لاکھ گدھوں (گوشت، ہڈیاں اور کھالیں) کی برآمد کا ہدف مقرر کرنے پر اتفاق کیا۔ اندازہ ہے کہ مالی سال 2026-27 کے دوران تقریباً 15 ہزار ٹن گوشت، 20 ہزار ٹن ہڈیاں اور 2 لاکھ 16 ہزار ٹن کھالیں برآمد کی جاسکتی ہیں جس سے سالانہ 37 کروڑ 50 لاکھ سے 40 کروڑ ڈالر تک زرمبادلہ حاصل ہونے کی توقع ہے۔