قطری ایل این جی کارگو پاکستان پہنچ گیا
- پاکستان کو ایل این جی کی ترسیل کے حصول میں اس وقت اہم مشکلات کا سامنا ہے
قطر سے ایل این جی لے جانے والا ٹینکر المارونا جمعرات کو پاکستان کی بندرگاہ قاسم پہنچ گیا۔
پورٹ قاسم اتھارٹی کے حکام نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ 142,217.21 مکعب میٹر ایل این جی لے جانے والے جہاز المارونا نے جمعرات کو تقریباً 11 بج کر 38 منٹ پر اینگرو ایلنگی ٹرمینل (ای ای ٹی ایل) پر کامیابی سے لنگر انداز ہو گیا۔
مزید برآں قطر سے ایل این جی لے جانے والے ایک اور جہاز کے بھی آنے والے دنوں میں پاکستان پہنچنے کی توقع ہے۔ بلومبرگ نے بدھ کو معاملے سے واقف تاجروں کے حوالے سے رپورٹ کیا۔
پاکستان کو اس وقت جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور اسپاٹ مارکیٹ میں بلند قیمتوں کے باعث ایل این جی کی ترسیل کے حصول میں نمایاں مشکلات کا سامنا ہے۔
پاکستان مستحکم اور نسبتاً سستی ایل این جی کی فراہمی کے لیے قطر کے ساتھ طویل مدتی معاہدوں پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔
تاہم آبنائے ہرمز میں دوبارہ کشیدگی کے باعث جولائی 2026 کے لیے مقرر قطر کی ایل این جی کھیپ منسوخ ہوگئی اور قطر نے فورس میژر کا اعلان کردیا، جس سے ایل این جی کی درآمدات متاثر ہوئیں۔ اس صورتحال کے باعث پاکستان کو ہنگامی بنیادوں پر ایل این جی کی فراہمی کے انتظامات اور متبادل ایندھن یا مہنگی اسپاٹ کارگو خریدنے کی کوشش کرنا پڑی۔
چند روز قبل مہنگی ایل این جی خریدنے کی پیشکش دو مرتبہ مسترد کرنے کے بعد سرکاری ادارے پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) نے اتوار کو دوبارہ ایل این جی ٹینڈر جاری کیا اور 12 سے 16 ستمبر کے درمیان ایل این جی کارگو کی ترسیل طلب کی۔
پہلے ایل این جی ٹینڈر میں بی پی سنگاپور واحد بولی دہندہ تھا، جس نے 4 سے 8 ستمبر کی ترسیل کے لیے 26.9 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی قیمت پیش کی مگر یہ بولی مسترد کردی گئی۔
اسی طرح دوسرے ٹینڈر میں بی پی سنگاپور نے 8 سے 12 ستمبر کی ایل این جی کارگو ترسیل کے لیے اپنی پیشکش کم کرکے 26.7128 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کردی، جو پہلے مقررہ مدت کے لیے پیش کردہ 26.9 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو سے کم تھی، تاہم پی ایل ایل نے یہ قیمت بھی زیادہ قرار دی۔