✕
اداریہ

آن لائن بچوں کا تحفظ

  • ایک ہی سال کے دوران تقریباً 20 ملین بچوں کو آن لائن کسی نہ کسی شکل میں جنسی استحصال یا زیادتی کا سامنا کرنا پڑا
شائع اپ ڈیٹ

بچوں کے آن لائن جنسی استحصال اور زیادتی کے پیمانے سے متعلق یونیسیف کی رپورٹ کے نتائج حکومتوں، ٹیکنالوجی کمپنیوں، والدین اور مجموعی طور پر معاشرے کے لیے ایک فوری انتباہ کا باعث ہونے چاہئیں۔

پاکستان، کینیا، برازیل اور سربیا سمیت 21 ممالک میں 2020 سے 2025 کے درمیان انٹرنیٹ استعمال کرنے والے تقریباً 21,000 بچوں کے درمیان کیے گئے قومی سطح پر نمائندہ سرویز کی بنیاد پر رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ ایک ہی سال کے دوران تقریباً 20 ملین بچوں کو آن لائن کسی نہ کسی شکل میں جنسی استحصال یا زیادتی کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ کوئی الگ تھلگ مسئلہ نہیں بلکہ بچوں کے تحفظ کا ایک تیزی سے پھیلتا ہوا بحران ہے، جو سرحدوں سے تجاوز کر رہا ہے اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی رسائی سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔

رپورٹ کا ایک خاص طور پر تشویش ناک پہلو سوشل میڈیا کا کردار ہے۔ رپورٹ کیے گئے تقریباً 60 فیصد کیسز فیس بک، واٹس ایپ، انسٹاگرام، اسنیپ چیٹ اور ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز پر پیش آئے، جبکہ آن لائن گیمنگ بھی ایک نمایاں حصے کا سبب بنی۔ یہ پلیٹ فارمز بچوں کی زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکے ہیں، لیکن ان کی وسیع رسائی اور نسبتاً گمنامی مجرموں کو کم عمر اور غیر محفوظ نوجوانوں کو نشانہ بنانے کے غیر معمولی مواقع بھی فراہم کر سکتی ہے۔

یہ مسئلہ اس حقیقت سے مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے کہ نصف سے زیادہ کیسز میں ملوث شخص وہ تھا جسے بچہ پہلے سے جانتا تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطرہ صرف آن لائن موجود گمنام اجنبیوں کی جانب سے نہیں ہے۔

انتہائی کم رپورٹنگ کی شرح بھی تشویش کا ایک اور سبب ہے۔ ایک فیصد سے بھی کم کیسز پولیس، سوشل ورکر یا ہیلپ لائن کو رپورٹ کیے گئے، جو تحفظ اور معاونت کے نظام میں سنگین خلا کی نشاندہی کرتا ہے۔ بچے شرمندگی، خوف، دھمکیوں، سماجی بدنامی یا اس بارے میں غیر یقینی کے باعث خاموش رہنے کو ترجیح دیتے ہیں کہ مدد کے لیے کہاں رجوع کیا جائے۔

لہٰذا حکومتوں کو قابلِ رسائی، خفیہ اور بچوں کے لیے موزوں رپورٹنگ نظام قائم کرنے کی ضرورت ہے، جبکہ اسکولوں کو بچوں کو نہ صرف ٹیکنالوجی کو محفوظ طریقے سے استعمال کرنے کا طریقہ سکھانا چاہیے بلکہ یہ بھی سکھانا چاہیے کہ وہ جوڑ توڑ، دباؤ اور آن لائن گرومنگ کو کیسے پہچانیں۔

ٹیکنالوجی کمپنیوں کی بھی واضح ذمہ داری ہے۔ پلیٹ فارمز کو عمر کے لحاظ سے موزوں ڈیزائن، مؤثر عمر کی تصدیق، فوری رپورٹنگ اور ردعمل کے نظام، زیادہ مضبوط مواد کی نگرانی اور جنسی استحصال کی فعال طور پر نشاندہی کے لیے سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔

آزادانہ آڈٹس کے ذریعے یہ طے کیا جانا چاہیے کہ آیا یہ اقدامات حقیقت میں مؤثر ہیں یا نہیں، بجائے اس کے کہ صرف ٹیکنالوجی کمپنیوں کی یقین دہانیوں پر انحصار کیا جائے۔ والدین کو بھی ان خطرات کے بارے میں زیادہ آگاہی حاصل کرنے کی ضرورت ہے جن کا بچوں کو آن لائن سامنا ہوتا ہے، اور انہیں ایسا ماحول پیدا کرنے کی ترغیب دی جانی چاہیے جہاں بچے الزام یا سزا کے خوف کے بغیر مدد حاصل کر سکیں۔

مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا ابھرنا اس صورتحال کو مزید فوری نوعیت کا بنا دیتا ہے۔ یونیسیف کی یہ دریافت کہ نو ممالک میں اندازاً 1.1 ملین بچوں کی جعلی جنسی تصاویر یا ویڈیوز مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کرکے ان کی عکاسی کی گئی، یہ ظاہر کرتی ہے کہ ٹیکنالوجی کس طرح پہلے سے موجود جنسی زیادتی کی شکلوں کو مزید بڑھا سکتی ہے۔

اب بچوں کو اس وقت بھی متاثر کیا جا سکتا ہے جب ان کی کوئی حقیقی تصویر کبھی لی ہی نہ گئی ہو، جس سے بچوں کے تحفظ کے روایتی طریقہ کار تیزی سے ناکافی ہوتے جا رہے ہیں۔ نفسیاتی اثرات بھی اتنے ہی تشویش ناک ہیں: ٹیکنالوجی کے ذریعے جنسی استحصال کا شکار ہونے والے بچوں میں خودکشی کے خیالات، خود کو نقصان پہنچانے اور اضطراب کی شکایات کا امکان نمایاں طور پر زیادہ پایا گیا۔ لہٰذا اس نقصان کے اثرات ڈیجیٹل دنیا سے کہیں آگے تک پھیلتے ہیں۔

بچوں کو ٹیکنالوجی سے دور رکھنا نہ تو حقیقت پسندانہ ہے اور نہ ہی مطلوبہ۔ اصل کام ڈیجیٹل ماحول کو محفوظ بنانا ہے۔ حکومتوں کو قوانین اور ان کے نفاذ کو مضبوط بنانا ہوگا، اسکولوں اور والدین کو ڈیجیٹل آگاہی بہتر بنانا ہوگی، جبکہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ بچوں کا تحفظ ایک ذمہ داری ہے، محض تعلقاتِ عامہ کی سرگرمی نہیں۔

آن لائن بچوں کا تحفظ ڈیجیٹل معیشت کی کوئی اختیاری سہولت نہیں بلکہ بنیادی عوامی تحفظ کی ذمہ داری کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026