✕
مارکٹس

سعودی عرب ایٹمی توانائی ایجنسی کو مزید اختیارات دینے کی تیاری کررہا ہے، گروسی

  • امریکا اور سعودی عرب کے درمیان جولائی میں سول جوہری توانائی کے شعبے میں تعاون کا معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت ریاض کو یورینیم افزودہ کرنے اور امریکی ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے جوہری ری ایکٹرز تعمیر کرنے کی اجازت ہوگی
شائع اپ ڈیٹ

ایٹمی توانائی سے متعلق امریکا اور سعودی عرب کے مجوزہ معاہدے میں ریاض کی جانب سے اضافی پروٹوکول پر دستخط شامل نہیں ہیں، جو اقوام متحدہ کے جوہری نگراں ادارے کو وسیع پیمانے پر معائنہ کرنے کے اختیارات فراہم کرتا ہے۔ تاہم، بعض معاملات میں اس سے ملتے جلتے انتظامات پر کام جاری ہے۔ عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ رافائل گروسی نے پیر کو یہ بات کہی۔

امریکا اور سعودی عرب کے درمیان جولائی میں سول جوہری توانائی کے شعبے میں تعاون کا معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت ریاض کو یورینیم افزودہ کرنے اور امریکی ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے جوہری ری ایکٹرز تعمیر کرنے کی اجازت ہوگی۔

جوہری عدم پھیلاؤ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں، بشمول آرمز کنٹرول ایسوسی ایشن، نے مجوزہ ’’123 معاہدے‘‘ پر تنقید کی ہے کیونکہ اس میں اضافی پروٹوکول شامل نہیں کیا گیا۔ یہ پروٹوکول عالمی جوہری توانائی ایجنسی کو اضافی اختیارات دیتا ہے، جن میں غیر اعلانیہ مقامات پر اچانک معائنہ کرنے کی صلاحیت بھی شامل ہے۔

ایران نے بڑی طاقتوں کے ساتھ طے پانے والے جوہری معاہدے کے تحت 2016 سے 2021 تک اضافی پروٹوکول پر عمل درآمد کیا تھا، تاہم امریکا کے 2018 میں اس معاہدے سے دستبردار ہونے کے بعد یہ معاہدہ عملاً ختم ہوگیا۔

عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ رافائل گروسی نے کہا کہ اگرچہ اضافی پروٹوکول ’’مثالی انتظام‘‘ ہوگا، تاہم ریاض عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے ساتھ تعلقات کو منظم کرنے والے جامع حفاظتی معاہدے کے تحت اپنی بنیادی ذمہ داریوں سے آگے بڑھنے کی تیاری کررہا ہے۔

انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں کہا، ’’اہم بات یہ ہے کہ مشاورت اور تیاری کے عمل کے دوران دوطرفہ معاہدے میں متعدد ایسی شقیں شامل کرنا ممکن ہوا ہے جو ایجنسی کو اضافی تصدیق اور نگرانی کے اختیارات فراہم کریں گی۔‘‘

ان اختیارات کا تعلق یورینیم کی افزودگی اور اس سے قبل کے مرحلے، یعنی یورینیم کی کنورژن، کے علاوہ ری پروسیسنگ جیسی سرگرمیوں سے ہوگا، جس کے ذریعے استعمال شدہ جوہری ایندھن سے پلوٹونیم الگ کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا، ’’جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں، یہ حساس سرگرمیاں ہیں۔ چنانچہ ان معاملات میں ہمیں ایسے اختیارات اور صلاحیتیں حاصل ہوں گی جو اضافی پروٹوکول میں فراہم کردہ اختیارات سے بہت، بہت مشابہ ہوں گی۔‘‘ تاہم انہوں نے اس کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

گروسی نے کہا کہ تفصیلات کو حتمی شکل دیے جانے کے بعد عالمی جوہری توانائی ایجنسی اور سعودی عرب کے درمیان دوطرفہ معاہدہ ایجنسی کے 35 رکنی بورڈ آف گورنرز کے سامنے پیش کیا جائے گا۔