✕
اداریہ

سندھ طاس معاہدہ برقرار ہے

  • ہیگ میں قائم مستقل عدالتِ ثالثی کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے جاری کیا گیا فیصلہ پاکستان کے مؤقف کی توثیق کے طور پر سامنے آیا ہے
شائع اپ ڈیٹ

ہیگ میں قائم مستقل عدالتِ ثالثی کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے جاری کیا گیا فیصلہ پاکستان کے مؤقف کی توثیق کے طور پر سامنے آیا ہے اور بین الاقوامی قانون کے ایک بنیادی اصول کو تقویت دیتا ہے کہ معاہدوں کو یکطرفہ طور پر محض معطل یا ختم نہیں کیا جا سکتا۔ فیصلے نے اہم قانونی وضاحت فراہم کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ مکمل طور پر نافذالعمل ہے اور بھارت کو معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی، جن میں مغربی دریاؤں پر اس کے پن بجلی منصوبوں کے ڈیزائن اور آپریشن سے متعلق ذمہ داریاں بھی شامل ہیں۔

پاکستان مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ دریائے سندھ، جہلم اور چناب کے پانی کے استعمال کے انتظام کے لیے ایک قواعد پر مبنی فریم ورک فراہم کرتا ہے، اور پن بجلی منصوبوں سے متعلق تنازعات کو معاہدے میں وضع کردہ طریقہ کار کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان جنگوں، سیاسی بحرانوں اور کئی دہائیوں کی کشیدگی کے باوجود برقرار رہا ہے۔ اس کی غیر معمولی پائیداری نے یہ ثابت کیا کہ جب اہم مشترکہ وسائل داؤ پر ہوں تو انتہائی مخاصمت رکھنے والے پڑوسی ممالک بھی تعاون کے طریقہ کار برقرار رکھ سکتے ہیں؛ تاہم بدقسمتی سے اس اصول کو اس وقت چیلنج کیا گیا جب مودی حکومت نے یکطرفہ طور پر معاہدے کو التوا میں ڈال دیا۔

پاکستان کے لیے اس معاملے کی اہمیت شاید ہی اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ ملک زراعت، غذائی تحفظ، پن بجلی اور لاکھوں افراد کے روزگار کے لیے دریائے سندھ کے نظام پر انحصار کرتا ہے۔ لہٰذا پانی کو سیاسی یا اسٹرٹیجک آلہ بنانے کی کوئی بھی کوشش عام سفارتی تنازع سے کہیں آگے کے نتائج کی حامل ہوگی۔ اسلام آباد پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس کے پانی میں پاکستان کا حصہ روکنے یا بند کرنے کی کوئی بھی کوشش جنگی اقدام تصور کی جائے گی۔ ان حالات میں ثالثی عدالت کی جانب سے معاہدے کی مسلسل قانونی حیثیت کی دوبارہ توثیق خاص طور پر اہم ہے۔

عدالت کے نتائج نے بھارت کی جانب سے اپنے فیصلے کے جواز میں پیش کیے گئے کئی دلائل کو بھی کمزور کر دیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ پاکستان کی جانب سے معاہدے میں ترامیم پر رضامندی نہ دینے کی مبینہ ناکامی مادی خلاف ورزی نہیں تھی، اور یہ بھی نوٹ کیا کہ سندھ طاس معاہدہ پاکستان کو ایسی بات چیت میں شامل ہونے کا پابند نہیں کرتا تھا۔ عدالت نے یہ بھی نتیجہ اخذ کیا کہ دہشت گردی سے متعلق بھارت کے الزامات معاہدہ معطل کرنے کے لیے قانونی بنیاد فراہم نہیں کر سکتے، کیونکہ یہ معاہدہ خاص طور پر سندھ کے پانیوں سے متعلق دونوں ممالک کے حقوق اور ذمہ داریوں کا تعین کرتا ہے۔

رتلے پن بجلی منصوبے سے متعلق عبوری اقدامات بھی اتنے ہی اہم ہیں۔ غیر جانبدار ماہر کے حتمی فیصلے کے 90 دن بعد تک، جو 2027 میں متوقع ہے، بعض تعمیراتی سرگرمیوں کو محدود کرکے مستقبل ثالثی عدالت نے یہ یقینی بنانے کی کوشش کی ہے کہ ناقابلِ واپسی تعمیراتی پیش رفت کے باعث تنازع متاثر نہ ہو۔ پاکستان طویل عرصے سے مغربی دریاؤں پر بھارتی منصوبوں کے ڈیزائن اور آپریشن کے حوالے سے جائز خدشات اٹھاتا رہا ہے۔ یہ قانونی توثیق حکومت کے لیے بے فکری کا باعث نہیں بننی چاہیے۔ اس لیے معاہدے کے تحت دوبارہ بامعنی رابطے کی جانب راستہ تلاش کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے ظاہر کی گئی آمادگی اہم ہے۔ عدالتیں قانونی ذمہ داریوں کو واضح کر سکتی ہیں؛ تاہم وہ مسلسل سفارت کاری اور ادارہ جاتی تعاون کا متبادل نہیں ہو سکتیں۔

بھارت کی جانب سے مستقل ثالثی عدالت کے دائرہ اختیار کو مسترد کرنا افسوسناک ہے، تاہم اس سے فیصلے کی اہمیت کم نہیں ہوتی۔ اگر بین الاقوامی معاہدوں کی کوئی معنویت برقرار رکھنی ہے تو ریاستوں کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ سہولت کے وقت معاہدے کی ذمہ داریاں قبول کریں اور حالات تبدیل ہونے پر انہیں نظرانداز کر دیں۔

اب پاکستان کو چاہیے کہ وہ اپنے قانونی مؤقف کو مزید مستحکم کرے، مغربی دریاؤں پر ہونے والی پیش رفت کی کڑی نگرانی کرے، غیر جانبدار ماہر کے عمل کو آگے بڑھائے اور بامعنی ادارہ جاتی رابطے کی بحالی کے لیے کوشش کرے۔ سندھ طاس معاہدہ اس لیے برقرار رہا ہے کہ یہ اختلافات کے انتظام کے لیے قواعد فراہم کرتا ہے۔ اسے بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کا ایک اور شکار نہیں بننا چاہیے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026