✕
کاروبار اور معیشت

تجارتی خسارہ معاشی استحکام اور زرمبادلہ ذخائر کیلئے خطرہ بن رہا، ایف پی سی سی آئی

  • بنیادی مسائل کو فوری حل نہ کیا گیا تو صنعتی سرگرمیوں، برآمدات اور ملکی معاشی استحکام پر اس کے سنگین اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، عاطف اکرام شیخ
شائع اپ ڈیٹ

صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے مالی سال - 27 2026 (FY27)کے ابتدائی دو ماہ، یعنی جولائی اور اگست، کے دوران پاکستان کے تجارتی توازن کی تشویشناک صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اس عرصے میں ملک کا تجارتی خسارہ 18.1 فیصد بڑھ کر 7.1 ارب ڈالر ہوگیا جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ خسارہ 6.025 ارب ڈالر تھا۔

صدرایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے مجموعی معاشی سرگرمیوں میں کچھ بحالی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ برآمدات میں اضافہ درآمدات میں ہونے والے غیر معمولی اضافے کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ ملک کے معاشی استحکام اور زرمبادلہ ذخائر کے لیے خطرہ بن رہا ہے۔

عاطف اکرام شیخ نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ برآمدات کا درآمدات کے ساتھ رفتار برقرار نہ رکھ پانا صنعتی صلاحیت یا کاروباری جذبے کی کمی کا نتیجہ نہیں بلکہ کاروبار کرنے کی بڑھتی ہوئی لاگت کا براہِ راست نتیجہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ برآمدی صنعتوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ، جس کے باعث وہ عالمی منڈیوں میں علاقائی حریفوں کے مقابلے میں اپنی مسابقتی حیثیت برقرار رکھنے سے قاصر ہوتی جا رہی ہیں۔

صدرایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے صنعتی پیداوار کو متاثر کرنے والی اہم رکاوٹوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ بلند شرحِ سود سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ مرکزی بینک کی بلند پالیسی شرح صنعت اور تجارت کے ہموار آپریشن میں ایک بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔

ان کے مطابق کوئی بھی صنعت اتنا منافع کمانے کی پوزیشن میں نہیں کہ اتنے مہنگے قرضوں کی لاگت برداشت کرسکے۔ اس صورتحال نے نجی شعبے کے لیے قرضوں کی فراہمی کو محدود کردیا ہے اور مینوفیکچررز کے لیے ورکنگ کیپیٹل حاصل کرنے اور ضروری طویل مدتی ماڈرنائزیشن میں سرمایہ کاری کرنا مشکل بنا دیا ہے۔

عاطف اکرام شیخ نے مزید کہا کہ بجلی کے نرخوں میں مسلسل اور بلا روک ٹوک اضافہ، جس کی بڑی وجوہات میں بھاری کیپیسٹی چارجز اور کراس سبسڈی کا بوجھ شامل ہے ، فیکٹریوں کے لیے پیداوار میں توسیع تقریباً ناممکن بنا چکا ہے۔

ایف پی سی سی آئی کی قیادت نے زور دیا کہ جب تک بجلی کے نرخ علاقائی مسابقت کے مطابق نہیں کیے جاتے ، اہم برآمدی شعبے مسلسل کمزور کارکردگی کا مظاہرہ کرتے اور عالمی منڈی میں اپنا حصہ کھوتے رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ گیس کی فراہمی میں رکاوٹوں اور اس کی بڑھتی ہوئی لاگت نے برآمد کنندگان کے محدود منافع کو مزید متاثر کیا ہے ، جس کی وجہ سے وہ بین الاقوامی آرڈرز حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔اسی طرح پٹرولیم مصنوعات کی بلند قیمتیں بھی ایک بڑی رکاوٹ ہیں، جو اندرونِ ملک لاجسٹکس، سپلائی چین اور مال برداری کے اخراجات میں کئی گنا اضافہ کرتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں برآمدی اشیاء کی لاگت بندرگاہوں تک پہنچنے سے پہلے ہی نمایاں طور پر بڑھ جاتی ہے۔

صدرایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے نشاندہی کی کہ مقامی صنعتیں خطے میں سب سے بلند شرحِ سود اور انتہائی مہنگے توانائی کے اخراجات کے بوجھ تلے دب رہی ہیں۔اس صورتحال میں مقامی مینوفیکچرنگ سکڑتی ہے اور ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے معیشت مہنگی درآمدات کی جانب منتقل ہونے پر مجبور ہوجاتی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ یہ ایک تباہ کن چکر ہے، جو تجارتی خسارے میں مزید اضافے ، برآمدی آرڈرز میں کمی اور قومی خزانے پر شدید دباؤ کا باعث بنے گا۔صدرایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے وزیراعظم، وزارتِ خزانہ، وزارتِ تجارت اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر کاروباری برادری کے ساتھ بیٹھ کر موجودہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک ہنگامی حکمتِ عملی مرتب کریں۔

صنعتی یونٹس کی بڑے پیمانے پر بندش روکنے اور مالی سال 2027 کے برآمدی اہداف کو محفوظ بنانے کے لیے ایف پی سی سی آئی نے مطالبہ کیا ہے کہ صنعتی پیداوار کے لیے سستے اور قابلِ رسائی سرمائے کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے پالیسی ریٹ میں جارحانہ انداز میں کمی کی جائی، بجلی اور گیس کے نرخوں کو فوری طور پر معقول بنایا جائے اور انہیں علاقائی مسابقتی سطح کے برابر لایا جائی، سامان کی نقل و حمل کے اخراجات کم کرنے کے لیے پٹرولیم لیویز میں ہدفی ریلیف فراہم کیا جائے۔

ایف پی سی سی آئی نے خبردار کیا کہ اگر ان بنیادی مسائل کو فوری طور پر حل نہ کیا گیا تو صنعتی سرگرمیوں، برآمدات اور ملکی معاشی استحکام پر اس کے سنگین اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026