✕
کھیل

سیریز کے دوران ٹیم میں اکھاڑ پچھاڑ، گلیسپی کی سلیکٹرز پر کڑی تنقید

  • گلیسپی کی پاکستانی ٹیم میں مسلسل اکھاڑ پچھاڑ پر تنقید، میدان سے باہر عدم استحکام کارکردگی متاثر کرتا ہے، سابق پاکستانی کوچ
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان کے سابق کوچ جیسن گلیسپی نے کہا ہے کہ ٹیم میں حالیہ اکھاڑ پچھاڑ میدان سے باہر عدم استحکام کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کا یہ بیان پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے دوران اسکواڈ اور کوچنگ اسٹاف میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کے بعد سامنے آیا ہے۔

پہلے دو ٹیسٹ میچوں میں بھاری شکستوں کے بعد پاکستان نے سابق کپتان سلمان علی آغا سمیت 7 کھلاڑیوں کو وطن واپس بھیج دیا، جبکہ ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور بولنگ کوچ عمر گل سے بھی راستے جدا کرلیے گئے۔

پاکستان کو پہلے ٹیسٹ میں اننگز اور 103 رنز جبکہ دوسرے میں 194 رنز سے شکست ہوئی، جس کے بعد 3 میچوں کی سیریز میں انگلینڈ نے 2-0 کی فیصلہ کن برتری حاصل کرلی۔ پاکستان چاروں اننگز میں 200 رنز کا ہندسہ عبور کرنے میں بھی ناکام رہا۔

اپریل سے دسمبر 2024 تک پاکستان کی کوچنگ کرنے والے جیسن گلیسپی نے کہا کہ ٹیم میں مسلسل تبدیلیوں کے باعث اس کے لیے مستقل مزاجی پیدا کرنا مشکل ہوگیا ہے۔

گلیسپی نے آسٹریلین اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’مجھے ان کھلاڑیوں کے لیے افسوس ہوتا ہے، کیونکہ یہی ان کا روزگار ہے۔

’’باہر سے ایسا لگتا ہے کہ وہ خوف کے عالم میں کھیل رہے ہیں۔ سلمان علی آغا پہلے ٹیسٹ میں انگلینڈ کے خلاف ٹیم کی کپتانی کرتے ہیں، پھر دوسرے ٹیسٹ سے باہر ہوجاتے ہیں اور تیسرے ٹیسٹ سے پہلے ہی وطن واپسی کی پرواز پر سوار ہوجاتے ہیں۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے؟

’’اگر آپ میدان میں مستقل مزاجی چاہتے ہیں تو میدان سے باہر بھی مستقل مزاجی ضروری ہے۔ اس کا تعلق بورڈ کی سطح، سلیکشن اور کوچنگ، تینوں سے ہے۔‘‘

پاکستان نے گزشتہ 3 برس کے دوران 6 ٹیسٹ کوچز تبدیل کیے ہیں، جن میں سابق آسٹریلوی فاسٹ بولر گلیسپی بھی شامل ہیں۔

اگست 2024 سے پاکستان نے اپنی آخری 8 ٹیسٹ سیریز میں صرف ایک سیریز جیتی ہے، جو گلیسپی کی کوچنگ میں انگلینڈ کے خلاف 2-1 سے حاصل کی گئی تھی۔

گلیسپی نے کہا، ’’عاقب جاوید (پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس) نے حال ہی میں سامنے آکر پاکستان کی موجودہ صورتحال کا سارا ملبہ (سابق پاکستانی وائٹ بال کوچ) گیری کرسٹن اور مجھ پر ڈال دیا۔ عاقب گزشتہ 2 برس سے چیف سلیکٹر رہے ہیں۔ ہم تو وہاں موجود ہی نہیں تھے۔

’’کسی نہ کسی طرح وہ دعویٰ کررہے ہیں کہ یہ سب ہماری وجہ سے ہورہا ہے۔ ذرا اس بات کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ میرے خیال میں جاوید کو آئینے میں اپنا چہرہ دیکھنے کی ضرورت ہے۔‘‘

رائٹرز نے اس معاملے پر پاکستان کرکٹ بورڈ سے مؤقف طلب کیا ہے۔

گلیسپی نے بعض کھلاڑیوں کو ٹیم سے باہر کیے جانے کے طریقۂ کار پر بھی تنقید کی۔

انہوں نے کہا، ’’جن کھلاڑیوں کو ٹیم سے نکالا گیا، انہیں اپنے اخراج کا علم اہل خانہ، دوستوں اور میڈیا کے ذریعے ہوا۔ اس سے زیادہ بے توقیری اور کیا ہوسکتی ہے؟‘‘

تاہم تنقید کے باوجود گلیسپی نے کہا کہ وہ پاکستانی کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کے اب بھی بڑے مداح ہیں۔

انہوں نے مزید کہا، ’’یہاں موجود ٹیلنٹ دنیا کے کسی بھی حصے سے کم نہیں۔ ان کھلاڑیوں کو صرف میدان سے باہر مناسب تعاون اور حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔‘‘

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان تیسرا اور آخری ٹیسٹ 9 سے 13 ستمبر تک کھیلا جائے گا۔