زرعی اصلاحات پر ازسرِنو غور
- پاکستان نے زرعی اصلاحات کا تصور ضرور پیش کیا تھا اور اس کی بانی جماعت نے اس کے حق میں دوٹوک مؤقف بھی اختیار کیا تھا۔ المیہ یہ ہے کہ مغربی حصے میں زمین دار طبقہ اس وعدے سے زیادہ طاقتور ثابت ہوا اور بالآخر اس نے اپنے تحفظ کو قانون کا حصہ بنا لیا۔ بدقسمتی سے یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔
75 برس قبل اُس وقت کے ڈھاکا سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ پاکستان کی زرعی تاریخ سے متعلق ایک آسان مفروضے کو چیلنج کرتی ہے۔ 30 اگست 1951 کو سابق مشرقی پاکستان زمینداری نظام کے خاتمے کا عمل شروع کرنے والا پہلا صوبہ بن گیا تھا۔ جن جاگیروں کو سرکاری تحویل میں لینے کے لیے منتخب کیا گیا، ان میں ڈھاکا کے نواب کی اراضی بھی شامل تھی، جو صوبے کے سب سے بڑے زمیندار تھے۔ اُس وقت کے وزیرِ مال تفاضل علی نے اس اقدام کو مسلم لیگ کے ایک وعدے کی تکمیل قرار دیا تھا۔
حال ہی میں ایک انگریزی روزنامے میں دوبارہ شائع ہونے والا یہ ریکارڈ ثابت کرتا ہے کہ مسلم لیگ پر جاگیردار طبقے کے تحفظ کے عام الزام کے برعکس، جماعت کے پاس زرعی اصلاحات کا باقاعدہ ایجنڈا موجود تھا۔ اصل سوال یہ ہے کہ مشرقی بنگال میں اس پروگرام کو قانونی اور انتظامی قوت کیوں حاصل ہوئی، جبکہ مغربی حصے میں اسے بے اثر کر دیا گیا؟
ڈھاکا میں کیا جانے والا اعلان محض ایک صوبائی اقدام نہیں تھا۔ فروری 1949 میں آل پاکستان مسلم لیگ کی کونسل نے وراثت میں ملنے والے زمین داری نظام کو ’’فرسودہ اور نقصان دہ‘‘ قرار دیتے ہوئے اس میں بنیادی تبدیلی کا مطالبہ کیا تھا۔ اپریل میں ممتاز محمد دولتانہ کی سربراہی میں قائم کی گئی زرعی کمیٹی میں بیگم جہاں آرا شاہ نواز، خان عبدالقَیوم خان، قاضی محمد عیسیٰ اور حاجی علی اکبر شاہ بھی شامل تھے۔
کمیٹی کی رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ پاکستان کی اولین ترجیح ’’وقت کے فرسودہ جاگیردارانہ نظام کی جابرانہ گرفت‘‘ سے ملکی معیشت کو آزاد کرانا ہونی چاہیے۔ رپورٹ میں جاگیروں کے خاتمے، مزارعین کے حقوق، زرعی مزدوروں کے تحفظ، مقررہ حد سے زیادہ اراضی کی لازمی تحویل اور بڑی جاگیروں کی جگہ ریاست کے زیرِنگرانی کاشت کاروں کی ملکیتی اراضی کا نظام قائم کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔ اراضی کی حد 150 ایکڑ قابلِ آبپاشی اوسط زمین مقرر کی گئی تھی، جبکہ کم پیداوار والی بارانی زمین کے لیے یہ حد 450 ایکڑ تک رکھی گئی تھی۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کی کتاب ’’لینڈ ریفارمز اِن پاکستان: اے ہسٹوریکل پرسپیکٹو‘‘ میں محفوظ یہ شواہد اس دعوے کو غلط ثابت کرتے ہیں کہ زرعی اصلاحات بانی جماعت کے پروگرام کا حصہ نہیں تھیں۔ اس سے ایک زیادہ پریشان کن حقیقت سامنے آتی ہے: اصلاحات کے لیے باضابطہ عزم تو موجود تھا، لیکن انہیں نافذ کرنے والی سیاسی قوتیں نوآبادیاتی دور کے بعد ریاست کے استحکام کے عمل کے ساتھ برقرار نہ رہ سکیں۔
مشرقی بنگال میں اصلاحات کے لیے ادارہ جاتی راستہ بھی موجود تھا اور عوامی حمایت بھی۔ 1793 کے مستقل بندوبست نے ریاست اور حقیقی کاشت کاروں کے درمیان لگان وصول کرنے والے درمیانی طبقے کی ایک درجہ بندی قائم کر دی تھی۔
1938 کے فلاؤڈ کمیشن نے پہلے ہی سفارش کی تھی کہ درمیانی درجے کے زمین دارانہ مفادات حاصل کر لیے جائیں تاکہ کاشت کار براہِ راست ریاست سے معاملہ کر سکیں۔ اپریل 1947 میں ’’بنگال اسٹیٹ ایکوزیشن اینڈ ٹیننسی بل‘‘ بھی پیش کیا گیا تھا، تاہم تقسیمِ ہند کے باعث اس پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔ یوں مشرقی بنگال کو محض ایک خواہش ہی نہیں بلکہ ایک تیار شدہ قانون سازی کا خاکہ بھی ورثے میں ملا۔
’’ایسٹ بنگال اسٹیٹ ایکوزیشن اینڈ ٹیننسی ایکٹ‘‘ کے تحت مرحلہ وار لگان وصول کرنے والے درمیانی طبقے کے حقوق ختم کیے گئے، زمین داروں کو حکومت کے براہِ راست مزارعین میں تبدیل کیا گیا اور زمینداروں کو معاوضہ دیا گیا۔ ابتدا میں اراضی کی زیادہ سے زیادہ حد 100 معیاری بیگھہ، یعنی تقریباً 33 ایکڑ، مقرر کی گئی تھی، تاہم خاندان کے حجم کو بھی مدنظر رکھا جاتا تھا۔ اس قانون پر عمل درآمد میں کئی سال لگے اور بعد میں اراضی کی حد میں نرمی بھی کی گئی۔ اس کے باوجود اس کی کامیابی غیر معمولی تھی، کیونکہ زمینداری نظام کی بنیادی ادارہ جاتی ساخت ختم کر دی گئی۔
کاشت کاروں کی سیاسی و عوامی متحرک کاری نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ بنگال میں کسان پرجا اور تیبھاگا تحریکوں کا تجربہ موجود تھا اور لگان کی وصولی کے خلاف مسلسل احتجاج ہوتا رہا تھا۔ تقسیم نے پرانے زمین دار طبقے کے بعض حصوں کو کمزور کیا، تاہم ڈھاکا کے مسلمان نواب کی اراضی کو بھی تحویل میں لیا جانا اس وضاحت کو رد کرتا ہے کہ اصلاحات کا مقصد صرف ہندو زمینداروں کی زمین ضبط کرنا تھا۔
مغربی حصے کو اقتدار کی ایک مختلف ساخت ورثے میں ملی۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نے سکھ سلطنت کو شکست دینے کے بعد 1849 میں پنجاب پر قبضہ کیا۔ تاریخی طور پر یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ اس فتح میں پنجاب کا پورا زمین دار طبقہ یکساں طور پر انگریزوں کا معاون تھا۔
اصل مفاہمت قبضے کے بعد، بالخصوص 1857 کے بعد، بتدریج پختہ ہوئی۔ محصولات کے بندوبست، نہری کالونیوں میں اراضی کی الاٹمنٹ، فوج میں بھرتیوں اور انتظامی سرپرستی کے ذریعے برطانوی راج نے ایک ’’قابلِ اعتماد‘‘ دیہی اشرافیہ کی ازسرِنو تشکیل کی اور اسے اپنے ساتھ ملا لیا۔
بعد ازاں یونینسٹ پارٹی نے زمین داروں، قبائلی سرداروں اور جاگیردار مزارات سے وابستہ خاندانوں پر مشتمل ایک مضبوط سیاسی نظام قائم کر لیا۔ جب بااثر دیہی شخصیات اور پیر 1946 کے انتخابات سے قبل یونینسٹ پارٹی سے مسلم لیگ کی طرف منتقل ہوئے تو مسلم لیگ کو دیہی ووٹ بینک تک رسائی حاصل ہو گئی۔
تاہم یونینسٹ پارٹی نے اسی دوران نوآبادیاتی زرعی نظام کے بڑے حصے کو بھی اپنے اندر سمو لیا۔ جماعت قومی سطح پر اصلاحات کا وعدہ تو کر سکتی تھی، لیکن صوبائی سطح پر اس کی مشینری بتدریج انہی عناصر پر انحصار کرنے لگی جن کی زمین، لگان اور اختیار زرعی اصلاحات کے نتیجے میں کم ہو سکتا تھا۔
سندھ اس کی سب سے واضح ابتدائی مثال پیش کرتا ہے۔ ہاری کمیٹی کے لیے مسعود کھدرپوش کی اقلیتی رپورٹ میں زمینداری کے خاتمے، ضبط کی جانے والی جاگیروں کے لیے کم از کم معاوضے اور کاشت کاروں کو زمین کا مالک بنانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
صوبائی حکومت نے ابتدا میں یہ رپورٹ جاری کرنے سے گریز کیا۔ سولہ علما نے ان تجاویز کو غیر اسلامی اور کمیونسٹ قرار دے کر مسترد کر دیا، جبکہ نوجوان مسلم لیگیوں اور طلبہ نے رپورٹ کی اشاعت کا مطالبہ کیا۔
بالآخر سندھ ٹیننسی ایکٹ 1950 کے ذریعے پیداوار کی تقسیم اور زمینداروں اور ہاریوں کے باہمی تعلق کو منظم کیا گیا، لیکن زمین کی ملکیت کی ازسرِنو تقسیم نہیں کی گئی۔
ہاری زمین، قرض، تحفظ اور سرکاری اختیار تک رسائی کے لیے بدستور زمینداروں کے محتاج رہے۔ اس صورتِ حال میں بااثر زمیندار پیروں کا سیاسی کردار نہایت اہم ہو گیا۔
روحانی تقدس، موروثی ملکیت اور انتخابی حمایت دلانے کا کردار اکثر ایک دوسرے سے جڑ گئے۔ اصلاحات سے صرف زرعی آمدنی ہی کو خطرہ نہیں تھا بلکہ وہ پورا دیہی سیاسی و معاشی ڈھانچا بھی متاثر ہوتا تھا جس کے ذریعے مزارعین کے ووٹ اور انتظامیہ سے ان کے تعلقات کو منظم کیا جاتا تھا۔ زمیندار پیر پنجاب اور سندھ دونوں میں دیہی سیاسی معیشت کا اہم حصہ بن گئے۔
ایوب خان کی 1959 اور ذوالفقار علی بھٹو کی 1972 اور 1977 میں نافذ کردہ اصلاحات نے اراضی کی حد تو کم کی، لیکن اس سیاسی و معاشی ڈھانچے کو ختم نہ کر سکیں۔ باغات، گھوڑوں کے فارم اور مشینی کاشت کے لیے استثنیٰ، رشتہ داروں کے درمیان زمین کی منتقلی، پیداوار کے اشاریہ جاتی یونٹس میں ردوبدل اور کمزور عمل درآمد نے سرکاری تحویل میں لی جانے والی اراضی کی مقدار محدود کر دی۔
فوجی حکومتوں نے بھی ریاستی زمین تقسیم کی اور اس مقصد کے لیے بااثر زمین داروں کا تعاون حاصل کیا۔ یوں زرعی اصلاحات کا مقصد کاشت کاروں کو اختیار منتقل کرنے کے بجائے اشرافیہ کو منظم اور منضبط کرنے کا ایک ذریعہ بن گیا۔
بالآخر سیاسی پسپائی ایک مضبوط عدالتی رکاوٹ میں تبدیل ہو گئی۔ مقدمہ ’’قزلباش وقف بنام چیف لینڈ کمشنر‘‘، پی ایل ڈی 1990 سپریم کورٹ 99، میں سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بینچ نے 1972 اور 1977 کی اصلاحات کی بنیادی دفعات کو اسلامی احکام سے متصادم قرار دے دیا، جس کا اطلاق 23 مارچ 1990 سے ہوا۔ یہ فیصلہ پہلے ہی مکمل ہو چکی تمام اراضی کی واپسی پر ماضی سے لاگو نہیں ہوتا تھا، تاہم اس نے اراضی کی حد مقرر کرنے کے موجودہ نظام کو غیر مؤثر کر دیا اور ان معاملات میں دعووں کی راہ ہموار کر دی جہاں اراضی کا حصول حتمی شکل اختیار نہیں کر سکا تھا۔
لغاری مقدمہ اس کے نتائج کی ایک مثال ہے، اگرچہ اس کی ادارہ جاتی تاریخ درست طور پر بیان کرنا ضروری ہے۔ فاروق لغاری کے صدر بننے کے بعد سپریم کورٹ نے براہِ راست زمینیں واپس کرنے کا حکم نہیں دیا تھا۔ ’’سردار محمد جعفر خان لغاری و دیگر بنام بلوچستان‘‘، 1997 ایم ایل ڈی 1934، میں بلوچستان ہائی کورٹ نے بارکھان میں وسیع خاندانی اراضی سے متعلق درخواستیں منظور کیں، جن میں فیصلے کے مطابق تقریباً 14 ہزار ایکڑ اراضی فاروق لغاری سے منسوب تھی۔
قزلباش وقف مقدمے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی قانونی صورتِ حال اور اراضی کی تحویل کی کارروائی کے وقت کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت نے قرار دیا کہ یہ کارروائی مؤثر نہیں تھی۔ یہ واقعہ اس امر کی غیر معمولی مثال ہے کہ کس طرح طاقتور زمین دار طبقہ مسلسل نافذ ہونے والی اصلاحات کے باوجود اپنا اثر برقرار رکھنے میں کامیاب رہا اور بعد ازاں اصلاحات کے بعد تشکیل پانے والے قانونی نظام میں بھی اسے تحفظ مل گیا۔
اس صورتِ حال کے نتائج تازہ ترین سرکاری اعدادوشمار میں بھی نمایاں ہیں۔ 2024 کی زرعی مردم شماری کے مطابق سندھ میں 100 ایکڑ یا اس سے زیادہ رقبے والے صرف 5,295 فارمز ہیں، جو ہر ایک ہزار فارمز میں تقریباً تین کے برابر ہیں۔ تاہم یہ چھوٹا سا گروہ تقریباً 13 لاکھ 30 ہزار ایکڑ اراضی کا مالک یا قابض ہے، جو صوبے کے کل زرعی رقبے کا 14.5 فیصد بنتا ہے؛ یعنی تقریباً ہر سات ایکڑ میں سے ایک ایکڑ۔
زرعی مردم شماری میں زیرِکاشت یا زیرِانتظام فارمز کا ریکارڈ رکھا جاتا ہے، ضروری نہیں کہ حتمی یا حقیقی ملکیت کا۔ ایک بڑی جاگیر اگر خاندان کے مختلف افراد میں تقسیم ہو یا مختلف انتظامی طریقوں کے تحت چلائی جائے تو وہ کئی الگ فارمز کے طور پر ظاہر ہو سکتی ہے۔ اس لیے مردم شماری زمین اور دولت کے حقیقی ارتکاز کی مکمل تصویر پیش نہیں کر سکتی۔
پاکستان میں زمین کی اس قدر مرتکز ملکیت کو محض ماضی کی باقیات قرار دے کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ سیاسی نمائندگی، آبپاشی کے وسائل کی تقسیم، محصولات کے انتظام، انتخابی انحصار اور عدالتی تشریحات کے مسلسل اثرات کا نتیجہ ہے۔
مشرقی بنگال میں نسبتاً کامیابی اس لیے ممکن ہوئی کہ وہاں درمیانی زمین دار طبقے کو پورے صوبائی ریاستی ڈھانچے کو منہدم کیے بغیر ختم کیا جا سکتا تھا۔ اس کے برعکس مغربی پاکستان میں زمین دار، قبائلی سردار، زمیندار پیر، بیوروکریٹک سرپرست اور بعد میں فوجی حکومتوں سے مستفید ہونے والے عناصر ریاست کے دیہی انتظامی ڈھانچے کا حصہ بن گئے تھے۔
بامعنی زرعی اصلاحات کے لیے محض ایک نئی اراضی حد مقرر کرنا کافی نہیں۔ اس کے لیے شفاف ڈیجیٹل لینڈ ریکارڈ، حقیقی یا بالواسطہ ملکیت کی مکمل تفصیلات اور خاندان کے زیرِکنٹرول اراضی کی نشاندہی، من مانے استثنیٰ کا خاتمہ، مزارعین کا تحفظ اور ان کی رجسٹریشن، زرعی آمدنی پر ترقی پسند ٹیکس، قابلِتحویل اور ریاستی اراضی کی کاشت کاروں میں تقسیم، اور ایسے آزاد لینڈ ٹربیونلز کا قیام ضروری ہے جو محکمہ مال اور سیاسی اثرورسوخ سے محفوظ ہوں۔
پاکستان نے زرعی اصلاحات کا تصور ضرور پیش کیا تھا اور اس کی بانی جماعت نے اس کے حق میں دوٹوک موقف بھی اختیار کیا تھا۔ المیہ یہ ہے کہ مغربی حصے میں زمین دار طبقہ اس وعدے سے زیادہ طاقتور ثابت ہوا اور بالآخر اس نے اپنے تحفظ کو قانون کا حصہ بنا لیا۔ بدقسمتی سے یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر،2026