✕
کاروبار اور معیشت

اسٹاک مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ، کے ایس ای 100 انڈیکس میں تقریباً 400 پوائنٹس کا اضافہ

  • بینچ مارک انڈیکس 175,328.82 پوائنٹس پر بند
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں کاروباری ہفتے کے آخری روز اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، تاہم بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس مثبت انداز میں کاروبار کے اختتام تک پہنچا۔

بینچ مارک انڈیکس نے کاروبار کا آغاز کمزور انداز میں کیا اور تقریباً 175,300 پوائنٹس کی سطح سے تیزی سے گر کر دن کی کم ترین سطح 174,515.38 پوائنٹس پر آ گیا۔

بعد ازاں انڈیکس نے ریکوری کی، جبکہ خریداری میں دلچسپی بڑھنے لگی، خصوصاً دوپہر کے اوقات میں۔ کاروبار کے آخری مرحلے میں خریداری کا رجحان مزید تیز ہوا، جس کے نتیجے میں انڈیکس تیزی سے بڑھ کر دن کی بلند ترین سطح 175,418.29 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔

کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 399.14 پوائنٹس یا 0.23 فیصد اضافے کے بعد 175,328.82 پوائنٹس پر بند ہوا۔

یاد رہے کہ جمعرات کو پی ایس ایکس میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا جہاں جاری جغرافیائی سیاسی تنازعات کے باعث عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے نے سرمایہ کاروں کو محتاط رکھا تاہم کاروبار کے اختتامی مرحلے میں منافع کے حصول کے لیے فروخت کا دباؤ کے ایس ای 100 انڈیکس کی معمولی بحالی کو ختم نہ کرسکا۔

گزشتہ روز بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 153.09 پوائنٹس یا 0.09 فیصد اضافے کے ساتھ 174,929.69 پوائنٹس پر بند ہوا۔

عالمی سطح پر جمعہ کو ایشیائی حصص میں اضافہ ہوا کیونکہ اہم امریکی روزگار کے اعدادوشمار کے اجراء سے قبل سرمایہ کاروں نے عالمی سطح پر جاری تیزی کا خیرمقدم کیا جبکہ فیڈرل ریزرو کے ایک اعلیٰ عہدیدار کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے خدشات کم کیے جانے کے بعد بانڈز کو کچھ ریلیف ملا اور ڈالر کی قدر میں کمی ہوئی۔

ڈالر کی قدر میں کمی نے ین کی تیزی کو مزید تقویت دی جو رواں ہفتے 2.6 فیصد مضبوط ہوکر ایک ڈالر کے مقابلے میں 155.7 کی سطح پر پہنچ گیا جو جولائی کے اواخر میں ٹوکیو اور واشنگٹن کی مشترکہ مداخلت کے بعد 155.2 کی سطح کے قریب ہے۔

فیڈرل ریزرو کے گورنر کرسٹوفر والر نے رائٹرز نیکسٹ نیوز میکر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ اعداد و شمار میں افراطِ زر میں کمی کے کچھ آثار سامنے آئے ہیں اور اگر آنے والی رپورٹس نے اس رجحان کی مزید تصدیق کی تو وہ رواں ماہ ہونے والے پالیسی اجلاس میں شرح سود کو موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کے حق میں ہوں گے۔

فیوچرز مارکیٹ میں رواں ماہ شرح سود میں اضافے کے امکان کو فوری طور پر کم کرکے صرف 50 فیصد کردیا گیا جو ایک روز قبل تقریباً 63 فیصد تھا۔

ایشیا میں جاپان کے علاوہ ایشیا بحرالکاہل کے حصص پر مشتمل ایم ایس سی آئی کے وسیع ترین انڈیکس میں 1 فیصد اضافہ ہوا جو وال اسٹریٹ میں مجموعی تیزی کے رجحان کی پیروی کر رہا تھا، تاہم یہ اضافہ ہفتے کے دوران ہونے والے پہلے کے نقصانات کا ازالہ کرنے کے لیے کافی نہیں تھا اور انڈیکس اب بھی رواں ہفتے 0.4 فیصد کمی کا شکار ہے۔

جاپان کے نکئی انڈیکس میں 0.8 فیصد اضافہ ہوا تاہم رواں ہفتے مجموعی طور پر یہ 2.7 فیصد نیچے رہا۔ چینی بلیو چِپ حصص میں 1 فیصد تیزی آئی جبکہ جنوبی کوریا کے کوسپی انڈیکس میں 1.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

دریں اثنا جمعے کے روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی اضافے کا سلسلہ برقرار رہا۔ مقامی کرنسی ڈالر کے مقابلے میں ایک پیسے کے معمولی اضافے کے بعد 277.41 روپے پر بند ہوئی۔

آل شیئر انڈیکس میں کاروباری حجم گزشتہ سیشن کے 627.45 ملین حصص کے مقابلے میں بڑھ کر 874.32 ملین حصص ہوگیا۔

حصص کی مجموعی مالیت بھی گزشتہ سیشن کے 25.19 ارب روپے کے مقابلے میں بڑھ کر 32.42 ارب روپے ہوگئی۔

سینرجیکو پی کے 149.30 ملین حصص کے کاروبار کے ساتھ حجم کے لحاظ سے سرفہرست رہی، جبکہ تصدیق انفارمیشن کے 132.41 ملین اور ورلڈ کال ٹیلی کام کے 78.72 ملین حصص کا کاروبار ہوا۔

جمعہ کے روز مجموعی طور پر 496 کمپنیوں کے حصص میں کاروبار ہوا، جن میں سے 235 کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ، 218 میں کمی جبکہ 43 کے حصص کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔