✕
ٹیکنالوجی

لیپ 2026، پاکستانی آئی ٹی برآمد کنندگان کی نظریں خلیجی خطے پر

  • لیپ 2026 میں شرکت کے نتیجے میں برآمدات میں اضافہ ہوگا،آئی ٹی برآمد کنندگان
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان کی آئی ٹی اور آئی ٹی سے متعلق خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کو غیر ملکی سرمایہ کاروں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملی ہے، جو خلیجی خطے، بالخصوص سعودی عرب میں برآمدات میں اضافے کے امکانات دیکھ رہی ہیں۔

آئی ٹی برآمد کنندگان کا کہنا ہے کہ لیپ 2026 میں شرکت کے نتیجے میں برآمدات میں اضافہ ہوگا، کیونکہ جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باوجود دنیا کے مختلف حصوں سے علاقائی اور بین الاقوامی کمپنیوں نے اس ٹیکنالوجی ایونٹ میں شرکت کی۔

لیپ دنیا کے سب سے بڑے اور بااثر ٹیکنالوجی ایونٹس میں سے ایک ہے، جو دنیا بھر سے ٹیکنالوجی کے عالمی رہنماؤں، اسٹارٹ اپس، سرمایہ کاروں اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرتا ہے۔ یہ ایونٹ 31 اگست سے 3 ستمبر 2026 تک سعودی عرب کے شہر ریاض میں منعقد ہوا۔

ہیکسا لائز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سعد شاہ نے کہا کہ لیپ 2026 میں پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں کو سعودی کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کی جانب سے انتہائی مثبت ردعمل ملا، بالخصوص پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مضبوط ہوتے تعلقات کے تناظر میں۔

انہوں نے کہا کہ ریاستی سطح پر دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے دوطرفہ تعلقات پاکستانی کمپنیوں کو سعودی عرب میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) آٹومیشن، سائبر سیکیورٹی اور انٹرپرائز سلوشنز سمیت مختلف شعبوں میں کاروباری مواقع تلاش کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

سعد شاہ نے کہا کہ سعودی عرب خلیجی ممالک میں ایک مستحکم اور ترقی کرتا ہوا بازار ہے اور خطے میں حالیہ کشیدگی کے باوجود سرمایہ کاروں کے لیے کاروبار دوست پالیسیوں کی پیشکش جاری رکھے ہوئے ہے۔

ہیکسا لائز کے سی ای او نے کہا کہ پاکستانی کمپنیوں کو سعودی عرب میں آف شور دفاتر قائم کرنے اور وہاں موجود بڑی پاکستانی تارکین وطن کمیونٹی کو دیگر ممالک کی کمپنیوں کے مقابلے میں مسابقتی فائدے کے طور پر استعمال کرنے پر غور کرنا چاہیے۔ انہوں نے لیپ 2026 میں اپنی کمپنی کا بوتھ قائم کیا تھا، جس کا مقصد اپنی مصنوعات اور خدمات کو متعارف کرانا اور ممکنہ کاروباری مواقع تلاش کرنا تھا۔

ایونٹ میں 100 سے زائد پاکستانی کمپنیوں اور تقریباً 1,000 مندوبین نے شرکت کی، جبکہ 18 کمپنیوں نے ’’تھینک ٹیک، تھینک پاکستان‘‘ کے عنوان کے تحت پاکستان پویلین میں اپنے بوتھ قائم کیے۔

پاکستانی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے مختلف نوعیت کے حل پیش کیے، جن میں انٹرپرائز سطح کی سائبر سیکیورٹی، کلاؤڈ مائیگریشن اور مینیجڈ سروسز، مصنوعی ذہانت سے لیس ایپلی کیشنز، ذہین آٹومیشن، ڈیٹا اور اینالیٹکس پلیٹ فارمز، ڈیجیٹل حکومتی حل اور بینکنگ، صحت، توانائی، لاجسٹکس، رئیل اسٹیٹ، ریٹیل اور اسمارٹ سٹیز جیسے شعبوں کے لیے خصوصی ٹیکنالوجی خدمات شامل ہیں۔

پاکستان آئی ٹی ایسوسی ایشن (P@SHA) کے چیئرمین سجاد مصطفیٰ سید نے کہا کہ یہ تیسرا موقع ہے جب پاکستانی کمپنیاں دنیا کے سب سے بڑے ٹیکنالوجی ایونٹس میں سے ایک میں شرکت کر رہی ہیں، جہاں عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ عالمی معیار کی مصنوعات اور خدمات پیش کرکے اپنی موجودگی مزید مضبوط کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی ٹیکنالوجی ایونٹس میں پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی موجودگی اور فعال شرکت اس صنعت کی عالمی سطح پر مسابقت کرنے کی صلاحیت کی عکاسی کرتی ہے، بالخصوص جدید ترین مصنوعات اور خدمات کے شعبے میں۔

پاکستانی کمپنیوں کو سعودی سرمایہ کاروں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے بھرپور دلچسپی حاصل ہوئی ہے اور انہوں نے شراکت داری، کاروباری مواقع اور ممکنہ سرمایہ کاری کے امکانات تلاش کرنے کے لیے متعدد معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔

سجاد مصطفیٰ سید نے کہا کہ توقع ہے کہ اس شرکت سے پاکستان کی آئی ٹی صنعت کے لیے ایک اہم تبدیلی آئے گی، کیونکہ اس کے ذریعے مقامی کمپنیاں خلیجی خطے اور دیگر بین الاقوامی مارکیٹوں میں اپنی خدمات کی برآمدات کو وسعت دے سکیں گی۔

معروف ٹیکنالوجی ماہر سید عبدالقادر نے کہا کہ پاکستان کو سائبر سیکیورٹی، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، مصنوعی ذہانت، آٹومیشن، سافٹ ویئر انجینئرنگ، ڈیٹا اینالیٹکس اور مینیجڈ ٹیکنالوجی سروسز میں مہارت حاصل ہے، اور سعودی عرب کی جانب سے اپنے وژن 2030 پروگرام کے مقاصد کو آگے بڑھانے کے ساتھ ان تمام شعبوں کا کردار مزید اہم ہونے کی توقع ہے۔

سید عبدالقادر نے کہا کہ وسیع تر موقع یہ ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مضبوط برادرانہ تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے ایک مضبوط سعودی-پاک ٹیک برج قائم کیا جائے۔ پاکستانی کمپنیاں مملکت کے وژن 2030 کے عزائم کو تقویت دینے والے ڈیلیوری، جدت اور ٹیکنالوجی کے ایکو سسٹم کا اہم حصہ بن سکتی ہیں، جبکہ سعودی عرب پاکستان کے آئی ٹی شعبے کے لیے بین الاقوامی سطح پر ترقی کی اہم ترین مارکیٹوں میں سے ایک بن سکتا ہے۔

سید عبدالقادر نے لیپ میں سائبر سیکیورٹی سے متعلق ایک پینل مباحثے میں پاکستان کی نمائندگی بھی کی۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کے قیام کی جانب پیش رفت کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ انفراسٹرکچر اور ڈیجیٹل رابطوں کے شعبوں میں نمایاں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ یہ صورتحال پاکستانی کمپنیوں کے لیے اپنی صلاحیتیں ظاہر کرنے کا ایک موقع ہے کہ وہ نہ صرف ہنرمند اور لاگت کے لحاظ سے مسابقتی پیشہ ور افراد بلکہ جدید، قابلِ توسیع اور بین الاقوامی سطح پر مسابقتی ٹیکنالوجی حل بھی فراہم کرسکتی ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون ایک مضبوط پاکستان سعودی ٹیکنالوجی پل قائم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوسکتا ہے، جس کے ذریعے پاکستانی کمپنیاں سعودی عرب کے وژن 2030 کے مقاصد کی حمایت کرنے والے ڈیلیوری، جدت اور ٹیکنالوجی کے ایکو سسٹم کا حصہ بن سکیں گی۔

2 لاکھ سے زائد زائرین، 1,800 عالمی ٹیکنالوجی برانڈز، 600 اسٹارٹ اپس، 1,900 سرمایہ کاروں اور 1,000 سے زائد مقررین کی شرکت کے ساتھ اس ایونٹ نے مملکت میں تجارتی شراکت داریاں قائم کرنے اور کاروباری مواقع تلاش کرنے کی خواہش رکھنے والی کمپنیوں کے لیے ایک بڑا پلیٹ فارم فراہم کیا۔