بھارت میں خوراک پر جعلی لیبلز، کینیڈا کا درآمدی خطرات کا جائزہ
- بھارت میں عالمی فوڈ برانڈز کے جعلی میعاد اور غذائی لیبلز تیار کیے گئے، کینیڈا میں درآمدی خطرات کا جائزہ
کینیڈین فوڈ انسپیکشن ایجنسی اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ بھارت میں جاری غیرقانونی کارروائی، جس کے تحت چپس اور دیگر اشیائے خورونوش پر غذائی معلومات اور میعاد ختم ہونے کی جعلی تاریخیں درج کی جا رہی تھیں، آیا کینیڈا میں درآمد ہونے والی اشیا کے لیے خطرہ بن سکتی ہے یا نہیں۔
بھارتی حکام نے گزشتہ ہفتے ممبئی کے ایک گودام پر چھاپا مارا، جہاں سے تقریباً 80 ہزار ڈالر مالیت کی مصنوعات کے علاوہ ایسے کیمیکلز اور پرنٹنگ مشینیں بھی ضبط کی گئیں جو پیپسی کو، نیسلے، کوکا کولا اور یونی لیور کی مصنوعات پر درج پرانی میعاد اور غذائی معلومات تبدیل کرکے انہیں برآمد کے لیے موزوں بنانے میں استعمال کی جا رہی تھیں۔ ان کمپنیوں پر کسی غلط کاری کا الزام عائد نہیں کیا گیا اور تحقیقات کا مرکز غیرقانونی طریقوں سے کام کرنے والے برآمد کنندگان ہیں۔
کینیڈین ایجنسی نے رائٹرز کو جاری بیان میں کہا کہ ’’ایجنسی صورتِ حال پر نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ آیا اس سے کینیڈا درآمد ہونے والی اشیا کو کوئی خطرہ لاحق ہے۔ فی الحال کینیڈین فوڈ انسپیکشن ایجنسی کے پاس ایسی کوئی معلومات نہیں جن سے ظاہر ہو کہ اس کارروائی سے منسلک مصنوعات کینیڈا پہنچی ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’کینیڈین فوڈ انسپیکشن ایجنسی خوراک میں جعل سازی، جس میں میعاد ختم ہونے کی غلط تاریخیں درج کرنا، غذائی معلومات میں غلط بیانی اور مصنوعات کی اصل کے بارے میں گمراہ کن دعوے شامل ہیں، کو انتہائی سنجیدگی سے لیتی ہے۔‘‘
یہ اس واقعے پر ردِعمل دینے والا پہلا غیرملکی ادارہ ہے۔
ممبئی میں کی جانے والی یہ کارروائی بھارت میں خوراک کے تحفظ کے حوالے سے جاری ایک غیرمعمولی کریک ڈاؤن کا حصہ ہے، جس کے تحت وفاقی اور ریاستی حکام صفائی کے ناقص انتظامات یا خوراک کے تحفظ سے متعلق قوانین کی خلاف ورزیوں کی جارحانہ انداز میں جانچ کر رہے ہیں اور بعض مواقع پر فوری طور پر کاروبار معطل کرنے کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔
انگریزی اور فرانسیسی زبانوں میں لیبل برآمد
چھاپے کے دوران رائٹرز کے ایک فوٹوگرافر کو گودام کے اندر پیپسی کو کے بھارتی برانڈ ’’کُرکُرے‘‘ کے پفڈ چپس کا ایک پیکٹ ملا، جس پر غذائی معلومات انگریزی اور فرانسیسی دونوں زبانوں میں درج تھیں اور لیبل کا انداز کینیڈا میں مقررہ فارمیٹ سے مماثل تھا۔
کینیڈا کے خوراک سے متعلق قوانین کے تحت ایسی معلومات دونوں زبانوں میں درج کرنا ضروری ہے۔
بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ گودام میں دوبارہ لیبل لگائی جانے والی مصنوعات یا تو پہلے ہی زائدالمیعاد ہوچکی تھیں یا ان کی میعاد ختم ہونے والی تھی۔ حکام نے مزید بتایا کہ ممبئی کے گودام کے مالکان 19 غیر معروف برآمد کنندگان کی جانب سے یہ سرگرمیاں انجام دے رہے تھے، تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ مصنوعات کن ممالک کو بھیجی جانی تھیں۔
پیپسی کو نے رائٹرز کو جاری بیان میں کہا کہ حالیہ میڈیا رپورٹس میں جن برآمدی کمپنیوں کا حوالہ دیا گیا ہے، ان کے ساتھ اس کا کوئی تجارتی تعلق نہیں اور کمپنی اپنی مصنوعات کی کسی بھی غیرمجاز برآمد کی نہ حمایت کرتی ہے اور نہ ہی اس کی اجازت دیتی ہے۔
کمپنی نے کہا، ’’بھارت میں تیار کی جانے والی ہماری اسنیک فوڈ مصنوعات بھارت میں فروخت کے لیے ہوتی ہیں، جب تک کہ ہم خصوصی طور پر کسی مصنوعات کو برآمد کرنے کی اجازت نہ دیں۔‘‘
بھارت کی وزارتِ تجارت، جو برآمدات کی نگرانی کرتی ہے، نے تبصرے کے لیے بھیجی گئی درخواست کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔
مہاراشٹر فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے کمشنر توکارام منڈھے، جنہوں نے اس کارروائی کی قیادت کی، نے جمعرات کو رائٹرز کو بتایا، ’’ہم نے اپنی تحقیقات سے متعلق معلومات متعلقہ حکام کو ارسال کردی ہیں، جو اس میں ملوث برآمد کنندگان کی تفصیلات کی تحقیقات کریں گے۔‘‘
کینیڈین فوڈ انسپیکشن ایجنسی نے رائٹرز کو دیے گئے بیان میں کہا کہ جب خوراک سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی مصنوعات کی نشاندہی ہوتی ہے تو صارفین کے تحفظ کے لیے مناسب کارروائی کی جاتی ہے، جس میں مصنوعات کی مارکیٹ سے واپسی، لائسنس کی معطلی اور جرمانے عائد کرنا شامل ہوسکتا ہے۔