دوماہ میں تجارتی خسارہ 18 فیصد بڑھ گیا
- گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے دوران تجارتی خسارہ 6.03 ارب ڈالر رہا تھا
رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ (جولائی تا اگست) کے دوران تجارتی خسارہ سالانہ 18.1 فیصد بڑھ کر 7.12 ارب ڈالر ہوگیا۔
ادارہ شماریات کے مطابق گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے دوران تجارتی خسارہ 6.03 ارب ڈالر رہا تھا۔
اس اضافے کی بنیادی وجہ درآمدات میں تیز رفتار اضافہ ہے جو رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ کے دوران سالانہ 13 فیصد بڑھ کر 12.58 ارب ڈالر ہوگئیں جبکہ گزشتہ سال کی اسی مدت میں درآمدات 11.13 ارب ڈالر رہی تھیں۔
اس دوران برآمدات سالانہ 7 فیصد اضافے سے 5.46 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئیں جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 5.10 ارب ڈالر تھیں۔
اگست 2026 میں تجارتی خسارہ 19.7 فیصد کم ہوکر 3.17 ارب ڈالر رہا جو جولائی میں 3.95 ارب ڈالر تھا۔
اگست میں درآمدات جولائی کے 6.89 ارب ڈالر کے مقابلے میں 17.7 فیصد کمی سے 5.68 ارب ڈالر رہیں جبکہ برآمدات بھی 15 فیصد کمی سے 2.51 ارب ڈالر ہوگئیں جو جولائی میں 2.95 ارب ڈالر تھیں۔
ماہانہ کمی کے باوجود اگست میں تجارتی خسارہ گزشتہ سال کی اسی ماہ کے مقابلے میں 10.4 فیصد زیادہ رہا جو اگست 2025 میں 2.87 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔
اگست میں برآمدات گزشتہ سال کی اسی مدت کے 2.42 ارب ڈالر کے مقابلے میں 3.8 فیصد بڑھیں جبکہ درآمدات اگست 2025 کے 5.29 ارب ڈالر سے 7.4 فیصد اضافے کے ساتھ رہیں جو ملک کے بیرونی تجارتی توازن پر درآمدی شعبے کی جانب سے مسلسل دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔
تجارتی خسارے میں اضافہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان اپنے جاری اقتصادی اصلاحاتی پروگرام کے تحت بیرونی کھاتے کی پوزیشن مضبوط بنانے کی کوشش کررہا ہے۔