مہنگائی کے خدشات بڑھنے کے بعد ڈالر کی قدر مستحکم
- ڈالر انڈیکس، جو امریکی کرنسی کی 6 بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں قدر ظاہر کرتا ہے، 99.67 پر رہا۔
مشرق وسطیٰ میں تازہ کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافے اور افراط زر کے خدشات دوبارہ بڑھنے کے بعد بدھ کو امریکی ڈالر کی قدر مستحکم رہی۔ امریکی ٹریژری ییلڈز میں اضافے اور فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود بڑھانے کے امکانات نے بھی ڈالر کی محفوظ سرمایہ کاری کی حیثیت کو تقویت دی۔
امریکا نے منگل کو ایران پر فضائی حملوں کی نئی لہر شروع کی، جس کے جواب میں ایران نے بھی کارروائی کی۔ اس کشیدگی کے باعث بدھ کو ابتدائی کاروبار میں تیل کی قیمتیں تقریباً 1 فیصد بڑھ گئیں۔
ڈالر انڈیکس، جو امریکی کرنسی کی 6 بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں قدر ظاہر کرتا ہے، 99.67 پر رہا۔
دوسری جانب جولائی کی جاب اوپننگز اور اگست کے آئی ایس ایم مینوفیکچرنگ انڈیکس کے اعدادوشمار مارکیٹ کی توقعات سے کم رہے۔ تاہم مالیاتی منڈیوں میں ستمبر میں فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات بڑھ کر 67 فیصد ہوگئے ہیں، جو ایک ہفتہ قبل تقریباً 40 فیصد تھے۔
فیڈ گورنر مائیکل بار نے کہا ہے کہ اگر افراط زر تیزی سے کم نہ ہوا تو مرکزی بینک کے لیے شرح سود بڑھانے کا وقت ہوگا۔
امریکی 10 سالہ ٹریژری نوٹ کی ییلڈ بڑھ کر 4.8 فیصد ہوگئی، جبکہ جاپان کی 10 سالہ بانڈ ییلڈ 3 فیصد رہی۔
دریں اثنا جاپانی ین 160.21 فی ڈالر پر دباؤ میں رہا۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے جاپانی وزیر خزانہ کے ساتھ ملاقات میں ین کی کمزوری سے نمٹنے کے لیے فیصلہ کن مالیاتی اقدامات کی حمایت کی۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم ہونے تک امریکا اور جاپان کی جانب سے ین کی قدر میں بہتری کے لیے دوبارہ مشترکہ مداخلت کے امکانات محدود ہیں۔