✕
کاروبار اور معیشت

پاکستان میں مہنگائی اگست میں 11.1 فیصد کی سطح پر پہنچ گئی

  • جولائی میں صارف قیمت اشاریہ 9.2 فیصد ریکارڈ کیا گیا
شائع اپ ڈیٹ

میکرو اکنامک اشاریے

سالانہ بنیادوں پر مجموعی مہنگائی

  • بلند ترین شرح: 28.3 فیصد — جنوری 2024
  • کم ترین شرح: 0.3 فیصد — اپریل 2025
  • تازہ ترین شرح: 11.1 فیصد — اگست

پاکستان میں مجموعی مہنگائی کی شرح اگست 2026 میں سالانہ بنیادوں پر 11.1 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو جولائی میں ریکارڈ کی گئی 9.2 فیصد شرح کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کے اعدادوشمار کے مطابق یہ اضافہ سامنے آیا ہے۔

اگست 2025 میں صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) 3.1 فیصد ریکارڈ کیا گیا تھا۔

ماہانہ بنیادوں پر اگست 2026 میں مہنگائی کی شرح 1.2 فیصد پر برقرار رہی، جو گزشتہ ماہ بھی اتنی ہی تھی، جبکہ اگست 2025 میں ماہانہ بنیادوں پر مہنگائی میں 0.6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔

شہری علاقوں میں صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) پر مبنی مہنگائی اگست 2026 میں سالانہ بنیادوں پر 10.4 فیصد تک بڑھ گئی، جو گزشتہ ماہ 8.7 فیصد اور اگست 2025 میں 3.5 فیصد تھی۔

ماہانہ بنیادوں پر شہری علاقوں میں مہنگائی اگست 2026 میں 0.9 فیصد بڑھی، جبکہ گزشتہ ماہ اس میں 1.2 فیصد اضافہ اور اگست 2025 میں 0.7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔

دیہی علاقوں میں صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) پر مبنی مہنگائی اگست 2026 میں سالانہ بنیادوں پر 12.2 فیصد تک پہنچ گئی، جو گزشتہ ماہ 9.9 فیصد اور اگست 2025 میں 2.5 فیصد تھی۔

ماہانہ بنیادوں پر دیہی علاقوں میں مہنگائی اگست 2026 میں 1.6 فیصد بڑھی، جبکہ گزشتہ ماہ اس میں 1.2 فیصد اضافہ اور اگست 2025 میں 0.5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔

حکومتی اندازے

حکومت نے اگست 2026 کے اپنے ماہانہ اقتصادی جائزے میں عالمی اجناس اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے دباؤ کے باعث اگست میں مہنگائی کی شرح 10 سے 11 فیصد کی بلند سطح پر رہنے کی توقع ظاہر کی تھی۔

اقتصادی جائزے کے مطابق جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورت حال، عالمی توانائی کی قیمتوں اور ان کے مہنگائی اور بیرونی کھاتے پر ممکنہ اثرات کے باعث خطرات بدستور موجود ہیں۔

جائزے میں کہا گیا کہ مالی سال 2026-27 میں معاشی استحکام کے تحفظ اور معاشی نمو کی رفتار برقرار رکھنے کے لیے محتاط معاشی انتظام اور اصلاحات پر عمل درآمد جاری رکھنا اہم ہوگا۔

جائزے میں مزید کہا گیا کہ پائیدار اور جامع معاشی نمو کے لیے پالیسی نظم و ضبط برقرار رکھنا اور ساختی اصلاحات کو آگے بڑھانا ضروری ہوگا، جس سے معیشت کی بیرونی جھٹکوں کے مقابلے میں مزاحمت بہتر بنانے اور معاشی استحکام کے حاصل کردہ فوائد کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔