✕
کاروبار اور معیشت

فوجی فاؤنڈیشن نے عسکری جنرل انشورنس کے 51 فیصد حصص حاصل کرلیے

  • اے جی آئی سی ایل کے 51,337,953 عام حصص، جو کمپنی کے جاری اور ادا شدہ حصص کے 51 فیصد کے مساوی ہیں آرمی ویلفیئر ٹرسٹ سے فوجی فاؤنڈیشن کو کیریئنگ کاسٹ پر منتقل کیے گئے
شائع اپ ڈیٹ

فوجی فاؤنڈیشن نے آرمی ویلفیئر ٹرسٹ سے عسکری جنرل انشورنس کمپنی لمیٹڈ (اے جی آئی سی ایل) کے 51 فیصد حصص اور انتظامی کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ یہ لین دین 28 اگست 2026 کو معاہدے پر عمل درآمد کے بعد مکمل ہوا۔

عسکری جنرل انشورنس نے منگل کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو جمع کرائے گئے نوٹس میں اس پیش رفت سے آگاہ کیا۔

فائلنگ کے مطابق اے جی آئی سی ایل کے 51,337,953 عام حصص، جو کمپنی کے جاری اور ادا شدہ حصص کے 51 فیصد کے مساوی ہیں آرمی ویلفیئر ٹرسٹ سے فوجی فاؤنڈیشن کو کیریئنگ کاسٹ پر منتقل کیے گئے۔

اے جی آئی سی ایل نے وضاحت کی کہ یہ لین دین حصول، انضمام یا انتظامی کنٹرول میں تبدیلی کے زمرے میں نہیں آتا اور نہ ہی یہ ایسی تجارتی سرمایہ کاری ہے جس سے مارکیٹ یا مسابقت پر کوئی اثر پڑے۔

کمپنی کے نوٹس میں کہا گیا کہ یہ بات دوبارہ واضح کی جاتی ہے کہ یہ کسی تجارتی سرمایہ کاری کی نوعیت کا حصول، انضمام یا انتظامی کنٹرول میں تبدیلی نہیں ہے جس کا مارکیٹ یا مسابقت پر کوئی اثر ہو۔

مزید کہا گیا کہ اس لین دین کے نتیجے میں کمپنی کے حتمی مستفید ہونے والے یا معاشی کنٹرول میں کوئی اہم تبدیلی نہیں آتی۔

فوجی فاؤنڈیشن ایک سوشل ہائبرڈ انٹرپرائز اور پاکستان کے بڑے سماجی اداروں میں سے ایک ہے۔ اسے سابق فوجیوں اور ان کے خاندانوں کی فلاح و بہبود کے لیے ایک فلاحی ٹرسٹ کے طور پر قائم کیا گیا تھا۔ اس کا مقصد کمیونٹی، شہدا اور سابق فوجیوں کے خاندانوں کی معاونت کرنا اور روزگار کے مواقع اور مفت طبی سہولیات کے ذریعے فلاحی خدمات فراہم کرنا ہے۔

یہ ادارہ ریٹائرڈ مسلح افواج کے اہلکاروں کو بھی باعزت روزگار فراہم کرتا ہے۔

2025 کے اواخر میں متحدہ عرب امارات نے فوجی فاؤنڈیشن میں 1 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا عزم کیا تھا۔ اس کے تحت اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں موجود بعض ڈپازٹس کو فوجی فاؤنڈیشن کے ساتھ شراکت میں قائم کیے جانے والے نئے فنڈ یا ٹرسٹ کے لیے ایکویٹی میں تبدیل کیا جانا تھا۔

توقع ہے کہ یہ نیا فنڈ نئے منصوبوں میں سرمایہ کاری کرے گا، جن میں ممکنہ طور پر زراعت، توانائی اور کان کنی کے شعبے شامل ہوں گے۔