اسرائیل اور یونان کے درمیان 3.5 ارب ڈالر کا فضائی دفاعی معاہدہ طے پا گیا
- یونان کی فوجی جدید کاری؛ اسرائیل سے 3 ارب یورو کا ’اَکیلیز شیلڈ‘ فضائی دفاعی نظام خریدنے کا معاہدہ
اسرائیل اور یونان نے پیر کو 3 ارب یورو (3.5 ارب ڈالر) کے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت اسرائیل یونان کے لیے کثیر سطحی فضائی دفاعی نظام تیار کرے گا۔ یہ معاہدہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایتھنز اپنی فوج کو وسیع پیمانے پر جدید بنانے کے پروگرام پر تیزی سے عمل پیرا ہے۔
اسرائیلی وزارتِ دفاع نے کہا کہ یہ یونان کے ساتھ اسرائیل کا اب تک کا سب سے بڑا دفاعی برآمدی معاہدہ اور ملکی تاریخ کے بڑے ترین معاہدوں میں سے ایک ہے۔ یہ معاہدہ رائٹرز کی جانب سے پہلے دی گئی خبر کی بھی تصدیق کرتا ہے۔
اسرائیلی وزارتِ دفاع کے ڈائریکٹر جنرل امیر بارام نے کہا کہ ’اَکیلیز شیلڈ‘ کے نام سے موسوم یہ معاہدہ ’’اسرائیل کی تکنیکی برتری اور میدانِ عمل میں اس کے دفاعی نظاموں کی ثابت شدہ کارکردگی‘‘ کا عکاس ہے۔
معاہدے کے تحت اسرائیل یونان کو رافیل ایڈوانسڈ ڈیفنس سسٹمز کے تیار کردہ ’ڈیوڈز سلنگ‘ اور ’اسپائیڈر‘ نظام فراہم کرے گا، جبکہ اسرائیل ایرو اسپیس انڈسٹریز کا تیار کردہ ’باراک ایم ایکس‘ نظام بھی فراہم کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ فضائی نگرانی کے لیے ایم ایم آر ملٹی مشن ریڈارز بھی دیے جائیں گے، جو اسرائیل ایرو اسپیس انڈسٹریز کے ذیلی ادارے ’ایلٹا سسٹمز‘ تیار کرتا ہے۔
رواں سال ایران کے ساتھ جنگ کے دوران اسرائیل نے ایرانی میزائلوں کو روکنے کے لیے ’ڈیوڈز سلنگ‘ نظام استعمال کیا تھا۔ یونان اس نظام کا فن لینڈ کے بعد دوسرا خریدار ہوگا۔
یونان اپنی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا تقریباً 3.5 فیصد دفاع پر خرچ کرتا ہے، جو نیٹو کے کئی دیگر رکن ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ اس کی بڑی وجہ پڑوسی ملک ترکیے کے ساتھ طویل عرصے سے جاری تنازع ہے۔
ایتھنز نے 2036 تک ’اَکیلیز شیلڈ‘ کے کثیر سطحی اینٹی بیلسٹک، طیارہ شکن اور ڈرون شکن فضائی دفاعی نظام کی تیاری پر تقریباً 28 ارب یورو خرچ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس کے علاوہ امریکا سے 40 تک ایف-35 لڑاکا طیارے اور فرانس و اٹلی سے جنگی بحری جہاز خریدنے کا بھی ارادہ ہے۔
پیر کو طے پانے والے معاہدے کے تحت یونان کو رافیل کا تیار کردہ ایک نیا قومی کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام بھی فراہم کیا جائے گا، جو ملک کی فضائی دفاعی صلاحیتوں کو مربوط کرے گا۔
مزید 26 ملین یورو کے ایک ضمنی معاہدے کے تحت اسرائیل یونان کو رافیل کے ’ڈرون ڈوم‘ نظام فراہم کرے گا، جو اہم تنصیبات کو ڈرون حملوں سے محفوظ بنانے اور موجودہ دفاعی نظام کو مزید مضبوط کرنے کے لیے استعمال ہوگا۔
اسرائیل یونان کے ساتھ دفاعی صنعت کے شعبے میں تعاون بھی بڑھائے گا، جس میں مقامی صنعت کو ٹیکنالوجی اور فنی مہارت کی منتقلی بھی شامل ہے۔