✕
پاکستان

پمز آتشزدگی: عبوری تحقیقاتی رپورٹ کا مکمل متن جاری

  • تحقیقاتی کمیٹی نے پی آئی ایم ایس میں فائر سیفٹی، ہنگامی ردعمل اور انتظامی امور میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے آٹھ افسران کی معطلی اور ذمہ داروں کے خلاف محکمانہ و فوجداری کارروائی کی سفارش کی؛ رپورٹ کے مطابق آگ کا حتمی سبب تاحال معلوم نہیں ہوسکا، تاہم حفاظتی انتظامات کی عدم موجودگی اور پہلے سے نشاندہی شدہ خامیوں پر کارروائی نہ ہونا سامنے آیا ہے
شائع اپ ڈیٹ

وزیراعظم شہباز شریف نے ہفتے کے روز پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عمران سکندر سمیت 8 افسران کو فوری طور پر معطل کرنے کا حکم دیا ہے۔

ان افسران کے نام تحقیقاتی کمیٹی نے پمز کے نوزائیدہ بچوں کے وارڈ میں لگنے والی آگ کے واقعے کی ذمہ داری کے تعین کے دوران سامنے لائے تھے، جس میں کم از کم 14 بچے جاں بحق ہوئے۔

تحقیقاتی کمیٹی نے قرار دیا کہ پمز میں آگ یا دیگر ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے مفصل معیاری طریقۂ کار (ایس او پیز) یا تربیت موجود نہیں تھی۔ اسپتال کے 13 ایس او پیز میں سے صرف دو ذیلی حصوں میں آگ یا ہنگامی صورت حال سے متعلق حوالہ موجود تھا۔

تحقیقاتی کمیٹی نے یہ بھی پایا کہ واقعے کے وقت کوئی نگران عملہ ڈیوٹی پر موجود نہیں تھا۔ اس وقت وارڈ میں دو نرسیں، ایک خاتون سکیورٹی گارڈ اور ایک ہاؤس آفیسر موجود تھے۔

ذیل میں عبوری تحقیقاتی رپورٹ کا مکمل متن پیش کیا جارہا ہے، جس میں پمز آتشزدگی سے متعلق کمیٹی کے نتائج، فائر سیفٹی میں کوتاہیوں، ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے اقدامات اور متعلقہ افسران کی ذمہ داریوں کی تفصیلات شامل ہیں۔

پی آئی ایم ایس آتشزدگی: عبوری تحقیقاتی رپورٹ کا مکمل متن

وزیراعظم آفس، اسلام آباد

موضوع: 26 اگست 2026 کو پی آئی ایم ایس میں آتشزدگی کے واقعے کی تحقیقات — کمیٹی کی عبوری رپورٹ

اس دفتر کے 26 اگست 2026 کے احکامات کے تحت مذکورہ واقعے کی تحقیقات کے لیے قائم تحقیقاتی کمیٹی نے آج 29 اگست 2026 کو وزیراعظم کو اپنی عبوری رپورٹ پیش کردی۔

کمیٹی نے وزیراعظم کو اب تک جمع کیے گئے حقائق، واقعے کی دستیاب ویڈیو اور اپنی عبوری سفارشات پیش کیں۔

رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد وزیراعظم نے درج ذیل ہدایات جاری کیں:

1۔ آٹھ افسران معطل، محکمانہ کارروائی شروع کرنے کا حکم

تحقیقاتی کمیٹی کی سفارش پر پی آئی ایم ایس اور متعلقہ بیرونی اداروں کے درج ذیل افسران کو معطل کرکے ان کے خلاف فوری طور پر محکمانہ کارروائی شروع کی جائے:

  • پروفیسر ڈاکٹر عمران سکندر، ایگزیکٹو ڈائریکٹر، پی آئی ایم ایس

  • پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ ریاض، سربراہ شعبہ نیونٹولوجی، چلڈرن اسپتال، پی آئی ایم ایس

  • ڈاکٹر نغمہ، سینئر رجسٹرار، شعبہ نیونٹولوجی، پی آئی ایم ایس

  • ڈاکٹر مطاہر شاہ، جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر، ایم سی ایچ

  • چوہدری وارث علی رضا، جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر، نان میڈیکل، پی آئی ایم ایس

  • ڈاکٹر نوشیلہ امجد، ڈائریکٹر ایم سی ایچ

  • ڈاکٹر عبدالرحمٰن، ڈائریکٹر جنرل، کیپیٹل ایمرجنسی سروسز، سی ڈی اے

  • محمد عثمان، اسسٹنٹ ڈائریکٹر سکیورٹی

2۔ ذمہ دار افراد کے خلاف فوجداری کارروائی

وزیراعظم نے ذمہ دار افراد کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کرنے کی بھی ہدایت کی۔

3۔ چارج نرس اور سکیورٹی گارڈ کو ڈیوٹی سے ہٹانے کا حکم

چارج نرس نسرین اور سکیورٹی گارڈ ماریہ کو مزید احکامات تک ڈیوٹی سے ہٹا دیا جائے اور انہیں کوئی ذمہ داری نہ سونپی جائے۔

ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی یا نہیں، اس کا فیصلہ تحقیقاتی کمیٹی کی حتمی رپورٹ پیش کیے جانے کے بعد کیا جائے گا۔

4۔ بچے کو بچانے والی نرس کے لیے ایک کروڑ روپے انعام

اسٹاف نرس رضیہ، جس نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر آتشزدگی کے دوران واحد زندہ بچ جانے والے بچے کو باہر نکالا، کو ایک کروڑ روپے کا مالی انعام دیا جائے اور مناسب سول اعزاز کے لیے سفارش کی جائے۔

5۔ بیلفورٹ سکیورٹی کے معاہدے کا جائزہ

وزارت قومی صحت خدمات، ضوابط و رابطہ کاری ڈویژن اور پی آئی ایم ایس انتظامیہ، میسرز بیلفورٹ سکیورٹی کے ساتھ کیے گئے معاہدے کا جائزہ لیں، جو بادی النظر میں اپنی معاہداتی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہی۔

اگر مبینہ ناکامی کی تصدیق ہوجاتی ہے تو کمپنی کے خلاف معاہدے کی شرائط کے تحت کارروائی کی جائے اور متعلقہ قوانین و ضوابط کے تحت فرم کا لائسنس بھی زیرِ غور لانے کے لیے وزارت داخلہ و انسداد منشیات ڈویژن کو ریفرنس بھجوایا جائے۔

6۔ ڈاکٹر محمد سلمان پی آئی ایم ایس کے قائم مقام ایگزیکٹو ڈائریکٹر مقرر

نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف ہیلتھ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر محمد سلمان کو فوری طور پر ڈیپوٹیشن پر پی آئی ایم ایس کا ایگزیکٹو ڈائریکٹر تعینات کیا جائے۔

موزوں انتظام ہونے تک وہ این آئی ایچ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کا اضافی چارج بھی سنبھالیں گے۔

7۔ عبوری رپورٹ عوام کے لیے جاری کرنے کی ہدایت

تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ کو وزارت قومی صحت خدمات، ضوابط و رابطہ کاری ڈویژن کی ویب سائٹ پر جاری کرکے عوام کے لیے دستیاب کیا جائے۔

وزارت قومی صحت خدمات، ضوابط و رابطہ کاری، وزارت داخلہ و انسداد منشیات اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اس سلسلے میں مزید کارروائی کریں گے۔


تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ

28 اگست 2026

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، اسلام آباد کے ایم سی ایچ/نرسری میں 26 اگست 2026 کو آتشزدگی کے واقعے کی تحقیقات

پس منظر اور دائرۂ کار

وزیراعظم نے 26 اگست 2026 کو پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز اسلام آباد کے ایم سی ایچ/نرسری میں پیش آنے والے المناک آتشزدگی کے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے تحقیقاتی کمیٹی قائم کی تھی۔

کمیٹی کو واقعے کی فوری وجہ اور ٹائم لائن کا تعین کرنے، اسپتال کے عملے اور بیرونی اداروں کے ہنگامی ردعمل کا جائزہ لینے، یہ معلوم کرنے کہ آیا ہنگامی انخلا کے ایس او پیز پر عمل کیا گیا یا نہیں، بالخصوص نومولود بچوں کے انخلا کے حوالے سے، پی آئی ایم ایس کے فائر سیفٹی نظام اور متعلقہ ضوابط کی پابندی کا جائزہ لینے، غفلت اور ذمہ داری کا تعین کرنے اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے نظامی اصلاحات تجویز کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔

کمیٹی کو 48 گھنٹوں کے اندر فوری نتائج پر مشتمل عبوری رپورٹ جبکہ اس کے بعد جامع رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

کمیٹی نے فوری طور پر کارروائی شروع کی، جائے وقوع کا معائنہ کیا، نرسری اور ملحقہ علاقوں کا جائزہ لیا، سی سی ٹی وی فوٹیج کا تجزیہ کیا، تعمیراتی، برقی، بایومیڈیکل، دیکھ بھال، سکیورٹی اور فائر سیفٹی سے متعلق ریکارڈ حاصل کیے، پی آئی ایم ایس، سی ڈی اے/سی ای ایس، سی ڈی اے انجینئرنگ اینڈ مینٹیننس اور آئیسکو کی رپورٹس کا جائزہ لیا اور متعلقہ طبی، نرسنگ، انجینئرنگ، سکیورٹی اور ہنگامی امدادی عملے کے بیانات قلمبند کیے۔

کمیٹی نے 6 جولائی 2026 کو فیمیل نرسنگ ہاسٹل میں پیش آنے والی سابقہ آتشزدگی کی تحقیقات کا بھی جائزہ لیا، جو ادارے کی آگ سے متعلق آگاہی، تیاری اور سابقہ واقعات کے بعد کیے گئے اقدامات کے حوالے سے خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔

دستیاب ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ سابقہ تحقیق میں فائر ڈیٹیکشن، الارم، انخلا کی تیاری، برقی معائنہ، سکیورٹی ردعمل اور ریکارڈ رکھنے کے حوالے سے خامیوں کی پہلے ہی نشاندہی کی جاچکی تھی۔

یہ عبوری رپورٹ صرف ان حقائق اور بادی النظر میں سامنے آنے والے نتائج تک محدود ہے جن کی دستیاب شواہد سے فی الحال تائید ہوتی ہے۔ جن معاملات میں فرانزک، تکنیکی یا دستاویزی مزید جانچ درکار ہے، جن میں آگ لگنے کی درست وجہ، مختلف خامیوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصان میں کردار اور انفرادی ذمہ داری کا حتمی تعین شامل ہے، انہیں جامع رپورٹ کے لیے مؤخر کیا گیا ہے۔

کمیٹی نے پوری رپورٹ میں اس امر میں فرق رکھا ہے کہ آگ کس وجہ سے لگی، کون سی خامیوں نے اسے تباہ کن صورت اختیار کرنے دی اور قابلِ تدارک ناکامیوں کا ذمہ دار کون تھا۔

فوری وجہ اور ٹائم لائن

سی سی ٹی وی فوٹیج فی الحال واقعے کی سب سے زیادہ قابلِ اعتماد تصویر پیش کرتی ہے۔

تقریباً صبح 6 بج کر 38 منٹ 15 سیکنڈ پر پہلی ہنگامی صورت حال دکھائی دیتی ہے، جب چارج نرس نسرین عجلت میں نرسری سے باہر نکلتی اور مدد طلب کرتی نظر آتی ہیں۔

تقریباً 6:38:35 پر وہ اور سکیورٹی گارڈ ماریہ نرسری میں داخل ہوتی ہیں اور آگ کے شعلوں کے عکس بھی دکھائی دیتے ہیں۔

اسٹاف نرس رضیہ تقریباً 6:38:56 پر نرسری میں داخل ہوتی ہیں اور تقریباً 6:39:04 پر ایک بچے کو اٹھا کر باہر نکلتی ہیں، یوں وہ بچے کو بچانے میں کامیاب ہوجاتی ہیں۔ وہ کچھ ہی دیر بعد دوبارہ اندر جانے کی کوشش کرتی ہیں۔

ڈاکٹر عبدالرحمٰن تقریباً 6:39:12 پر باہر نکلتے دکھائی دیتے ہیں، جبکہ تقریباً 6:39:15 تک کیمرہ نمبر 16 بڑی حد تک دھویں کی زد میں آجاتا ہے۔

نرسری سے ملحق راہداری کا دروازہ، جو کیمرہ نمبر 12 میں دکھائی دیتا ہے، تقریباً 6:39:45 پر کھولا جاتا ہے اور تقریباً 6:40:08 تک کیمرہ نمبر 12 بھی دھویں سے ڈھک جاتا ہے۔

اس شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ نرسری کی صورتحال تقریباً دو منٹ کے اندر انتہائی خطرناک ہوگئی تھی۔

آگ لگنے کے درست تکنیکی ذریعے کا ابھی حتمی تعین نہیں ہوسکا۔ مختلف بیانات میں آگ لگنے کی وجہ اے سی، انکیوبیٹر/وارمر یا برقی شارٹ سرکٹ/پلگ پر اضافی بوجھ کو قرار دیا گیا ہے۔

آئیسکو کے ریکارڈ میں عین اس وقت بیرونی فیڈر میں کسی خرابی یا ٹرپنگ کے شواہد نہیں ملتے، جس کے باعث برقی وجہ کی تحقیقات کا رخ پی آئی ایم ایس کے اندرونی برقی نظام، ساکٹس، پلگز، وائرنگ اور منسلک آلات کی جانب ہوجاتا ہے۔

احتیاطی دیکھ بھال کے ریکارڈ سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ کئی انکیوبیٹرز کی حال ہی میں سروسنگ کی گئی تھی اور انہیں کام کرنے کی حالت میں واپس کیا گیا تھا، تاہم یہ ریکارڈ آلات، پلگ، ساکٹ یا متعلقہ سرکٹ کی برقی حفاظت کو حتمی طور پر ثابت نہیں کرتے۔

چنانچہ اندرونی برقی یا آلات سے متعلق وجہ کا امکان موجود ہے، لیکن کسی مخصوص آلے یا پرزے کو آگ لگنے کی حتمی وجہ قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔

کمیٹی کے مطابق آگ لگنے والی پہلی چنگاری کے بارے میں غیر یقینی صورت حال اس امر کی تحقیقات میں رکاوٹ نہیں بننی چاہیے کہ وہ حفاظتی نظام کہاں تھے جنہیں ابتدائی آگ کو بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کا سبب بننے سے روکنا چاہیے تھا۔

آگ لگنے کی وجہ اور اس کے تباہ کن نتائج کی وجوہات باہم منسلک ہونے کے باوجود الگ الگ معاملے ہیں۔

ہنگامی ردعمل اور امدادی کارروائیاں

دستیاب سی سی ٹی وی شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ موقع پر موجود عملے نے فوری ردعمل دیا اور بچوں کو بچانے کی کوشش کی۔

چارج نرس نسرین نے مدد طلب کی، سکیورٹی گارڈ ماریہ متاثرہ حصے میں داخل ہوئیں، اسٹاف نرس رضیہ جلتی ہوئی نرسری میں داخل ہوئیں، ایک نومولود کو بچایا اور دوبارہ اندر جانے کی کوشش کی جبکہ ڈاکٹر عبدالرحمٰن بھی متاثرہ حصے میں موجود تھے۔

اس لیے دستیاب شواہد سے یہ عمومی الزام ثابت نہیں ہوتا کہ طبی اور نرسنگ عملے نے نومولود بچوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا تھا۔

ریکارڈ خود انفرادی طور پر بچاؤ کی کوششوں اور اس سے قبل ادارہ جاتی سطح پر تیاری کی ذمہ داری میں فرق واضح کرتا ہے۔

تاہم بیرونی ہنگامی امداد طلب کرنے کے حوالے سے ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے۔

سی سی ٹی وی کے مطابق ہنگامی صورت حال تقریباً 6:38 بجے پیدا ہوئی، جبکہ سی ای ایس کے ریکارڈ میں پہلی ہنگامی کال تقریباً 6:54 بجے موصول ہونا، 6:55 بجے روانگی اور تقریباً 7:01 بجے جائے وقوع پر پہنچنا درج ہے۔

تاہم دیگر شواہد میں اس سے پہلے کی گئی کال کا بھی ذکر ہے۔

کمیٹی فی الحال 16 منٹ کی تاخیر کو کسی مخصوص شخص یا ادارے سے منسوب نہیں کرتی۔ ٹیلی فون ریکارڈ، پی آئی ایم ایس کنٹرول روم کے ریکارڈ، سی ای ایس کی کال ریکارڈنگز اور لاگز اور سی سی ٹی وی کے اوقات میں ہم آہنگی کا جائزہ لے کر یہ تعین کیا جائے گا کہ سب سے پہلے کس نے کال کی، مؤثر طور پر کال سی ای ایس تک کب پہنچی اور آیا کوئی قابلِ تدارک تاخیر ہوئی یا نہیں۔

سی ای ایس کے ریکارڈ کے مطابق ہنگامی کال موصول ہونے کے بعد اس کی آمد تقریباً چھ سے سات منٹ میں ہوئی۔

لہٰذا فی الحال زیادہ اہم سوال یہ نہیں کہ اطلاع ملنے کے بعد سی ای ایس نے طویل تاخیر کی، بلکہ یہ ہے کہ اس کال سے قبل آگ کا پتا چلنے، ہنگامی صورتحال بڑھنے اور اطلاع دینے کا اندرونی نظام کیسے کام کر رہا تھا۔

پی آئی ایم ایس کے دستیاب ایس او پیز سے واضح طور پر معلوم نہیں ہوتا کہ الارم کون فعال کرے گا، سی ای ایس/ریسکیو 1122 کو کون طلب کرے گا، ہنگامی صورتحال کی کمان کون سنبھالے گا، ہنگامی راستے کون کھولے گا اور نومولود بچوں کے انخلا کو کون مربوط کرے گا۔

انخلا، فائر سیفٹی کا بنیادی ڈھانچہ اور ایس او پیز

ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ بچوں کو بچانے اور انخلا کی کوشش کی گئی، تاہم فی الحال ایسا کوئی منظور شدہ، ابلاغ شدہ، تربیت یافتہ اور عملی مشق سے گزارا ہوا ایم سی ایچ/نرسری مخصوص فائر اور نومولود بچوں کے انخلا کا ایس او پی سامنے نہیں آیا۔

پی آئی ایم ایس کے دستیاب ایس او پیز متعدد طبی اور انتظامی امور کا احاطہ کرتے ہیں، تاہم آگ کا پتا چلنے، الارم بجانے، بیرونی امدادی ادارے کو اطلاع دینے، ہنگامی کمان سنبھالنے، فائر ایکسٹنگوشر استعمال کرنے، آکسیجن اور بجلی منقطع کرنے، ہنگامی راستے کھولنے، انخلا کی ترجیحات طے کرنے اور ایسے نومولود بچوں کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے لیے کوئی اسی درجے کا تفصیلی طریقہ کار سامنے نہیں آیا جو خود چل پھر نہیں سکتے۔

تاہم 27 مئی 2023 کا پی آئی ایم ایس سکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کا ایس او پی فائر سیفٹی کو ادارہ جاتی ذمہ داری قرار دیتا ہے۔

اس کے تحت سکیورٹی کو عمارت، آلات، مریضوں، آنے والوں اور عملے کے تحفظ کے لیے فائر سیفٹی یقینی بنانے کی ذمہ داری دی گئی ہے، جبکہ فائر سیفٹی ایگزٹس کی دستیابی، آگ بجھانے والے آلات کی کارکردگی اور متعلقہ عملے کی تربیت کی ذمہ داری خاص طور پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر سکیورٹی پر عائد کی گئی ہے۔

پی آئی ایم ایس نے سانحے سے قبل خصوصی فائر سیفٹی تربیت کے لیے عملے کو نامزد بھی کیا تھا۔

لہٰذا بنیادی سوال اب یہ نہیں رہا کہ انتظامی سطح پر آگ کے خطرے کو تسلیم کیا گیا تھا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ تفویض کردہ ذمہ داریوں اور دستیاب تربیت کو ایم سی ایچ/نرسری میں حقیقی تیاری میں کیوں نہیں بدلا جاسکا۔

سی ای ایس نے بھی آزادانہ طور پر رپورٹ کیا کہ آگ اور جانی تحفظ کے انتظامات ناکافی اور ناقص تھے، ہنگامی راستے بند یا رکاوٹوں کا شکار تھے، سکیورٹی نے ابتدائی امدادی کارروائی کے بعض پہلوؤں میں رکاوٹ ڈالی اور ہجوم کو منظم کرنے کے انتظامات بھی ناکافی تھے۔

سی ای ایس کی رپورٹ کے مطابق فائر فائٹرز کو بند فائر ایگزٹ دروازے اور دیگر داخلی راستے زبردستی کھولنے پڑے۔

یہ سنگین بادی النظر میں خامیاں ہیں، تاہم کمیٹی ذمہ داری عائد کرنے سے قبل ہر متعلقہ دروازے کی حیثیت اور مقام کی تصدیق کررہی ہے۔

نرسری سے متصل راہداری کا وہ دروازہ جو سی سی ٹی وی میں نظر آتا ہے، ابتدا میں بند تھا تاہم تقریباً 6:39:45 پر کھولا گیا، جبکہ امدادی کارروائی پہلے ہی ایک دوسرے راستے سے جاری تھی۔

نومولود بچوں کے یونٹ تک محدود رسائی کا سکیورٹی کے حوالے سے جائز مقصد ہوسکتا ہے، اس لیے محض کسی دروازے کا بند یا کنٹرولڈ ہونا بذات خود غفلت کا ثبوت نہیں۔

اصل سوال یہ ہے کہ آیا وہ دروازہ مقررہ یا لازمی ہنگامی راستہ تھا، کیا ہنگامی حالت میں اسے فوری طور پر کھولا جاسکتا تھا اور آیا اس کی حالت نے انخلا یا امدادی کارروائی میں نمایاں تاخیر پیدا کی۔

سابقہ تنبیہ اور ادارہ جاتی آگاہی

6 جولائی 2026 کو پی آئی ایم ایس فیمیل نرسنگ ہاسٹل میں لگنے والی آگ، یعنی تقریباً سات ہفتے قبل پیش آنے والا واقعہ، انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

سابقہ تحقیق میں دھویں کا پتا چلانے والے نظام، خودکار الارم، ہنگامی انتباہی نظام، فائر سیفٹی مشقوں، فائر سیفٹی معائنے کے ریکارڈ اور سکیورٹی ردعمل میں خامیوں یا عدم موجودگی کی نشاندہی کی گئی تھی۔

اس میں جامع فائر سیفٹی آڈٹ، دھویں کا پتا چلانے والے آلات، الارم اور وارننگ سسٹم، ہنگامی روشنی، واضح ہنگامی راستے، فعال فائر ایکسٹنگوشرز، باقاعدہ جانچ، سالانہ برقی معائنوں اور تحریری ہنگامی ردعمل کے انتظامات کی سفارش کی گئی تھی۔

جولائی کے واقعے کی اہمیت یہ نہیں کہ اس سے اگست میں لگنے والی آگ کی وجہ ثابت ہوتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ پی آئی ایم ایس میں آگ کا خطرہ اب محض ایک مفروضہ نہیں رہا تھا اور ادارہ جاتی خامیوں کی باضابطہ نشاندہی پہلے ہی کی جاچکی تھی۔

سابقہ تحقیق میں ریکارڈ رکھنے اور نگرانی کے نظام میں بھی سنگین خامیوں کی نشاندہی کی گئی تھی اور ہاسٹل وارڈن اور دو سکیورٹی گارڈز کے خلاف محکمانہ کارروائی کی سفارش کے ساتھ سکیورٹی ڈیپارٹمنٹ میں نگرانی کی ذمہ داری کا بھی جائزہ لینے کو کہا گیا تھا۔

یہ امر خاص طور پر اہم ہے کہ 25 اگست 2026 کو، یعنی نرسری میں مہلک آتشزدگی سے صرف ایک روز قبل، سابقہ تحقیقاتی رپورٹ اس لیے نظرثانی کے لیے واپس کی جارہی تھی کہ اس میں تحقیقات کے مقررہ نکات کا مناسب احاطہ نہیں کیا گیا تھا۔

یہ ثابت نہیں کرتا کہ اگر سابقہ تحقیق مکمل کرلی جاتی تو نرسری کا سانحہ ٹل جاتا، تاہم اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جولائی کی آگ سے حاصل ہونے والے اسباق اور خامیوں کی نشاندہی کے بعد اصلاحی اقدامات کا ادارہ جاتی عمل دوسری آتشزدگی سے پہلے تسلی بخش طور پر مکمل نہیں ہوا تھا۔

کمیٹی سابقہ سفارشات کا ایک ایک کرکے جائزہ لے رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ ہر سفارش کس تک پہنچی، اس پر عملدرآمد کی ذمہ داری کس افسر یا ادارے کی تھی، کیا اقدام کرنے کا حکم دیا گیا، 26 اگست تک عملی طور پر کیا کچھ کیا گیا اور کیا اقدامات زیر التوا رہے۔

اگر زندگی کے تحفظ سے متعلق اہم خامیوں سے ذمہ دار افسران کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا گیا تھا اور مناسب عبوری اصلاحی اقدامات بلاجواز طور پر نافذ نہیں کیے گئے تھے تو اس امر کا ذمہ داری اور پیشگی آگاہی کے تعین پر اہم اثر پڑے گا۔

بادی النظر میں انتظامی اور محکمانہ ذمہ داری

دستیاب ریکارڈ کی بنیاد پر سب سے واضح انتظامی مسئلہ پی آئی ایم ایس کے سکیورٹی اور فائر سیفٹی کے نظام میں سامنے آتا ہے۔

سکیورٹی ایس او پی میں فائر سیفٹی کے راستوں کی دستیابی، آگ بجھانے والے آلات کی فعالیت اور متعلقہ عملے کی تربیت یقینی بنانے کی ذمہ داری واضح طور پر عائد کی گئی ہے۔

ان ذمہ داریوں کو اب سی ای ایس کی آزادانہ رپورٹ سے ملایا جارہا ہے، جس میں ہنگامی راستوں کے بند یا رکاوٹ کا شکار ہونے، فائر اور لائف سیفٹی انتظامات ناکافی ہونے اور امدادی کارروائی کے دوران سکیورٹی سے متعلق مشکلات کی نشاندہی کی گئی ہے۔

کمیٹی کا کہنا ہے کہ متعلقہ افسر یا افسران کے خلاف اظہارِ وجوہ اور محکمانہ کارروائی شروع کی جاسکتی ہے، بشرطیکہ 26 اگست کو ان کے پاس واقعی یہ ذمہ داریاں موجود ہونے، فرائض کی درست تقسیم اور متعلقہ سروس قوانین کے تحت کارروائی کی تصدیق ہوجائے۔

ایم سی ایچ کی سکیورٹی نگرانی کے نظام کی عملی ذمہ داری کا بھی فوری جائزہ ضروری ہے۔

ڈیوٹی روسٹر، تعیناتی کے ریکارڈ، چابیوں کی تحویل، گیٹ اور ہنگامی راستوں کی ذمہ داری، سی سی ٹی وی اور ٹیلی فون ریکارڈ سے یہ معلوم کیا جانا چاہیے کہ متعلقہ راستوں کا کنٹرول کس کے پاس تھا، ہنگامی رسائی کے انتظامات کا علم کس کو تھا، وہ فعال تھے یا نہیں اور سکیورٹی کا ردعمل موجودہ ایس او پیز کے مطابق تھا یا نہیں۔

جہاں کسی مخصوص افسر کی تفویض کردہ ذمہ داری اور اس میں کوتاہی معروضی طور پر ثابت ہوجائے وہاں آگ لگنے کی حتمی وجہ کے تعین کا انتظار کیے بغیر محکمانہ کارروائی کی جاسکتی ہے۔

میسرز بیلفورٹ سکیورٹی سروسز پرائیویٹ لمیٹڈ کا معاملہ الگ نوعیت کا ہے اور اس کا معاہداتی بنیادوں پر جائزہ لیا جانا چاہیے۔

ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیلفورٹ کے سکیورٹی اہلکار ایم سی ایچ میں تعینات تھے اور ان میں سے بعض نے امدادی کارروائی، آگ بجھانے اور ہجوم و رسائی کو منظم کرنے میں حصہ لیا۔

کمیٹی فی الحال یہ نہیں سمجھتی کہ بیلفورٹ نے آگ لگائی یا اس کے اہلکار عمومی طور پر اپنی ذمہ داریوں سے دستبردار ہوگئے تھے۔

تاہم پی آئی ایم ایس کو یہ تصدیق کرنی چاہیے کہ معاہدے کے مطابق اہلکاروں کی تعیناتی برقرار تھی یا نہیں، ایم سی ایچ میں تعینات اہلکاروں کو مطلوبہ فائر فائٹنگ تربیت دی گئی تھی یا نہیں، ان کے لیے مناسب فائر فائٹنگ آلات دستیاب تھے یا نہیں اور ان کا ردعمل معاہداتی ذمہ داریوں کے مطابق تھا یا نہیں۔

اگر کسی کوتاہی کی تصدیق ہوتی ہے تو معاہدے کے تحت اظہارِ وجوہ، جرمانے، کٹوتیوں اور قانون و معاہدے کے تحت دیگر کارروائی کی جانی چاہیے، جبکہ مطلوبہ تربیت فراہم کرنے کی پی آئی ایم ایس کی اپنی ذمہ داری کا بھی الگ سے جائزہ لیا جانا چاہیے۔

ریکارڈ سینئر انتظامی اور ادارہ جاتی سطح پر بھی بادی النظر میں سوالات اٹھاتا ہے، بالخصوص اسپتال اور نرسری کے لیے فائر ایمرجنسی نظام کے مؤثر نفاذ اور پہلے سے نشاندہی کی گئی خامیوں پر عملدرآمد کے حوالے سے۔

تاہم محض عہدے کی بنیاد پر کسی کو محکمانہ غفلت کا ذمہ دار قرار نہیں دیا جانا چاہیے۔

انفرادی سینئر افسران کا نام لینے سے قبل کمیٹی تفویض کردہ ذمہ داری، خامی سے آگاہی، کارروائی کرنے کا اختیار اور موقع، عدم کارروائی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی حفاظتی خامی کے سلسلے کا تعین کررہی ہے۔

آگ سے متعلق خامیوں کا سانحے سے قبل علم اہم ہے، لیکن ذمہ داری کی یہ کڑی مکمل کیے بغیر اسے کسی مخصوص افسر کی غفلت قرار نہیں دیا جاسکتا۔

اسی طرح انجینئرنگ، الیکٹریکل اور بایومیڈیکل عملے کا مزید تکنیکی جائزہ ضروری ہے، تاہم محض اس بنیاد پر کہ آگ ممکنہ طور پر برقی وجہ سے لگی، انہیں آگ لگنے یا اموات کا ذمہ دار قرار دینے کے لیے فی الحال کافی شواہد موجود نہیں۔

حالیہ پریوینٹو مینٹیننس ریکارڈ سے طویل عرصے سے خراب انکیوبیٹر کے سادہ مفروضے کو تقویت نہیں ملتی، تاہم یہ سوال بدستور موجود ہے کہ اگر خرابی برقی تھی تو آیا وہ خود آلے کے اندر، پلگ، ساکٹ، وائرنگ یا سرکٹ میں پیدا ہوئی۔

اس کے برعکس، دستیاب ریکارڈ میں نرسری کے ڈاکٹروں اور نرسوں کے خلاف محض اموات ہونے کی بنیاد پر محکمانہ کارروائی کا فی الحال کوئی بادی النظر جواز نہیں ملتا۔

سی سی ٹی وی میں ان کی جانب سے فعال امدادی کوششیں ثابت ہوتی ہیں، جبکہ ریکارڈ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ فرنٹ لائن عملے کو نومولود بچوں کے لیے مخصوص فائر ایویکوایشن ایس او پی فراہم کیا گیا تھا یا اس کی تربیت دی گئی تھی۔

اس لیے ہنگامی صورتحال میں انفرادی کارکردگی کو ادارہ جاتی سطح پر تیاری کی ذمہ داری سے الگ رکھنا ضروری ہے۔

فوجداری تحقیقات کی ضرورت پیدا کرنے والے بادی النظر حالات

کمیٹی نے مزید مشاہدہ کیا کہ دستیاب ریکارڈ میں ایسے بادی النظر حالات موجود ہیں جو زندگی کے تحفظ کو متاثر کرنے والی ممکنہ مجرمانہ غفلت یا کوتاہی کے حوالے سے متعلقہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کی تحقیقات کا جواز فراہم کرسکتے ہیں۔

فی الحال سب سے اہم معاملہ سی ای ایس کی آزادانہ رپورٹ ہے، جس میں ہنگامی راستوں اور فائر ایگزٹس کے بند یا رکاوٹ کا شکار ہونے اور فائر فائٹرز کو بند فائر ایگزٹ دروازے توڑ کر کھولنے کی ضرورت پیش آنے کی نشاندہی کی گئی ہے۔

اگر یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ متعلقہ دروازے لازمی ہنگامی راستے تھے اور ذمہ دار افراد نے دانستہ یا غفلت کے باعث انہیں ہنگامی استعمال کے لیے دستیاب نہیں رکھا تو معاملہ محض انتظامی کوتاہی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ یہ تحقیق ضروری ہوگی کہ آیا اس کوتاہی نے جانی نقصان میں اہم کردار ادا کیا۔

ممکنہ طور پر ذمہ دار افراد وہ پی آئی ایم ایس یا سکیورٹی افسران، کنٹریکٹر کے اہلکار یا انتظامی افسران ہوں گے جو ان راستوں اور ہنگامی حالت میں ان کی دستیابی کے حقیقی ذمہ دار تھے، نہ کہ صرف ادارہ جاتی عہدے کی بنیاد پر نامزد افراد۔

دوسرا اہم معاملہ سابقہ علم کے باوجود اصلاحی اقدامات نہ کرنا ہے۔

جولائی کی آگ کے بعد آگ کا پتا چلانے، الارم، انخلا، فائر ایکسٹنگوشرز، برقی معائنہ، تربیت اور ہنگامی تیاری کے حوالے سے واضح سفارشات دی گئی تھیں۔

اگر مزید شواہد سے یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ مخصوص افسران کو ان خطرات سے آگاہ کیا گیا تھا، ان پر فوری اقدامات کی واضح ذمہ داری اور اختیار تھا، ان کے پاس ایسا کرنے کا معقول موقع بھی موجود تھا لیکن انہوں نے بلاجواز معلوم زندگی کے تحفظ سے متعلق خطرہ دور نہیں کیا اور بعد ازاں وہ خطرہ نرسری میں بچوں کی اموات کا سبب بنا، تو سابقہ اطلاع، تفویض کردہ ذمہ داری، قابلِ مواخذہ کوتاہی اور نقصان کا مجموعہ فوجداری تحقیقات کی بنیاد بن سکتا ہے۔

اس لیے کسی فرد کو ذمہ دار قرار دینے سے قبل متعلقہ افسران کی نشاندہی ضروری ہے۔

تیسرا معاملہ ہنگامی اطلاع دینے میں بظاہر موجود خلا ہے۔

سی سی ٹی وی کے مطابق ہنگامی صورتحال تقریباً 6:38 بجے پیدا ہوئی، جبکہ سی ای ایس کے ریکارڈ میں پہلی کال 6:54 بجے موصول ہونا درج ہے، حالانکہ عینی شاہدین کے بیانات میں اس سے پہلے کی گئی کال کا بھی ذکر ہے۔

ایسے واقعے میں جو چند ہی منٹوں میں تباہ کن صورت اختیار کرگیا، بیرونی ہنگامی امداد طلب کرنے کے ذمہ دار شخص کی جانب سے بلاجواز تاخیر اہمیت رکھ سکتی ہے۔

تاہم موجودہ تضاد کسی فرد پر ذمہ داری عائد کرنے میں رکاوٹ ہے۔

ٹیلی فون ریکارڈ، کنٹرول روم لاگز، سی ای ایس کال ریکارڈز اور سی سی ٹی وی کے اوقات میں ہم آہنگی سے پہلے یہ تعین کرنا ہوگا کہ آیا اس سے قبل مؤثر کال کی گئی تھی، کس نے کی اور کہاں موصول ہوئی۔

صرف اسی صورت میں فوجداری ذمہ داری عائد کرنے کی کارروائی ہونی چاہیے جب قابلِ مواخذہ کوتاہی اور اس کا جانی نقصان سے براہِ راست تعلق ثابت ہوجائے۔

کمیٹی کے مطابق انتظامی، محکمانہ اور فوجداری کارروائیوں کو الگ الگ رکھا جانا چاہیے۔

کسی افسر کی تفویض کردہ سرکاری ذمہ داری پوری نہ کرنے کا ثبوت ملنے پر انتظامی کارروائی ہوسکتی ہے۔

سکیورٹی کمپنی کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی ثابت ہونے پر معاہداتی کارروائی ہوسکتی ہے۔

تاہم فوجداری تحقیقات کے لیے اس سے زائد عناصر درکار ہیں، یعنی ایسا فعل یا کوتاہی جو کسی جرم کے زمرے میں آتی ہو اور، جہاں غفلت کے باعث موت کا الزام ہو، وہاں قانونی طور پر قابلِ قبول سبب اور نتیجے کا تعلق بھی ثابت ہونا چاہیے۔

کمیٹی ایسے حالات کی نشاندہی اور متعلقہ اداروں کو حوالگی کرسکتی ہے، تاہم خود کسی کو مجرمانہ طور پر قصوروار قرار نہیں دے سکتی۔ یہ اختیار متعلقہ تفتیشی اور عدالتی اداروں کا ہے۔

فوری اصلاحی اقدامات

کمیٹی سمجھتی ہے کہ بعض حفاظتی اقدامات جامع رپورٹ کا انتظار کیے بغیر فوری طور پر کیے جانے چاہئیں۔

پی آئی ایم ایس کو فوری طور پر قابل اور ترجیحاً آزاد تکنیکی ماہرین کے ذریعے پورے ہسپتال کا فائر، لائف سیفٹی اور برقی آڈٹ کرانا چاہیے، جس کا آغاز این آئی سی یو/نرسری، آئی سی یوز، آپریشن تھیٹرز اور دیگر انتہائی حساس حصوں سے کیا جائے۔

دھویں اور حرارت کا پتا لگانے والے نظام، الارم، فائر ایکسٹنگوشرز، ہائیڈرنٹس، ہنگامی روشنی، برقی حفاظتی نظام اور تمام مقررہ فائر ایگزٹس کا عملی معائنہ، کارکردگی کی جانچ اور دستاویزی ریکارڈ تیار کیا جائے۔

اگر کوئی لازمی ہنگامی راستہ بند، رکاوٹ کا شکار یا فوری طور پر کھولنے کے قابل نہ ہو تو اسے فوری طور پر درست کیا جائے، جبکہ حساس نومولود یونٹس میں سکیورٹی کے لیے محدود رسائی کے جائز انتظامات کو فائر سیفٹی کے تقاضوں کے ساتھ برقرار رکھا جائے۔

تمام انکیوبیٹرز، وارمرز، اے سی اور ایچ وی اے سی تنصیبات، ساکٹس، پلگز، ڈسٹری بیوشن بورڈز، بریکرز، ارتھنگ اور انتہائی حساس طبی حصوں میں موجود دیگر اہم برقی نظاموں کا فوری تکنیکی معائنہ کیا جائے۔

جہاں خودکار آگ کا پتا لگانے یا حفاظتی نظام ناقص ہو وہاں پی آئی ایم ایس عارضی فائر واچ کا انتظام کرے اور ڈاکٹروں، نرسوں، سکیورٹی اور انجینئرنگ عملے کو شامل کرکے عملی فائر اور نومولود بچوں کے انخلا کی مشقیں کرائی جائیں۔

ایک واضح اور آزمودہ ہنگامی اطلاع اور واقعے کی کمان کا نظام فوری طور پر نافذ کیا جائے، تاکہ آگ کا پتا چلتے ہی اندرونی الارم، مقررہ امدادی عملے کی متحرک کاری اور سی ای ایس/ریسکیو 1122 کو براہ راست اطلاع ایک ساتھ دی جاسکے اور اس کے لیے غیر رسمی طور پر مختلف انتظامی سطحوں سے رابطے کی ضرورت نہ رہے۔

ہر مرحلے کی ذمہ داری عہدے کے لحاظ سے واضح کی جائے اور اس نظام کی باقاعدگی سے عملی جانچ کی جائے۔

جولائی کی تحقیق، سی ڈی اے/سی ای ایس کے معائنے، موجودہ تحقیق یا فوری حفاظتی آڈٹ میں سامنے آنے والی ہر خامی کو وقت مقرر کرکے حل کرنے کے نظام میں شامل کیا جائے، جس میں خامی، ذمہ دار افسر یا ادارہ، مطلوبہ اقدام، آخری تاریخ اور اصلاح کی آزادانہ تصدیق درج ہو۔

جولائی کے ریکارڈ سے واضح ہے کہ خامیوں کی نشاندہی کردینا، ان پر عملدرآمد یقینی بنائے بغیر، ادارے کو مؤثر طور پر محفوظ نہیں بناتا۔

عبوری نتیجہ

کمیٹی نے عبوری مرحلے پر قرار دیا ہے کہ آگ تقریباً 6:38 بجے واضح طور پر نظر آئی اور غیر معمولی تیزی سے پھیلی، جس کے نتیجے میں تقریباً دو منٹ کے اندر نرسری کا ماحول بڑی حد تک دھویں سے بھر گیا۔

طبی، نرسنگ اور سکیورٹی عملے نے فوری طور پر بچوں کو بچانے کی کوششیں کیں اور معروضی سی سی ٹی وی شواہد سے یہ عمومی تاثر درست ثابت نہیں ہوتا کہ فرنٹ لائن طبی عملہ نومولود بچوں کو چھوڑ کر چلا گیا تھا۔

آگ لگنے کی درست وجہ ابھی تکنیکی طور پر غیر حل شدہ ہے۔

اندرونی برقی یا آلات سے متعلق وجہ کا امکان موجود ہے، لیکن دستیاب شواہد سے یہ حتمی طور پر ثابت نہیں ہوتا کہ آگ انکیوبیٹر، وارمر، اے سی، پلگ، ساکٹ، وائرنگ یا کسی دوسرے جزو سے شروع ہوئی۔

حتمی تکنیکی وجہ فرانزک اور آلات کے مزید معائنے کے بعد ہی سامنے آسکے گی۔

تاہم ادارہ جاتی سطح پر دستیاب شواہد پہلے ہی ایسی سنگین بادی النظر خامیوں کو ظاہر کرتے ہیں جن کے لیے جواب دہی اور فوری اصلاح ضروری ہے۔

ان میں فائر اور لائف سیفٹی کی تیاری، ہنگامی راستے اور رسائی، ہنگامی اطلاع، انخلا کی منصوبہ بندی، آگ بجھانے کے انتظامات، سکیورٹی کا باہمی رابطہ اور موجودہ ذمہ داریوں کو عملی تیاری میں تبدیل کرنے میں ناکامی شامل ہیں۔

ان خدشات کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ پی آئی ایم ایس میں صرف سات ہفتے قبل بھی آگ لگ چکی تھی اور تقریباً اسی نوعیت کے ادارہ جاتی حفاظتی نظام میں خامیوں کی باضابطہ نشاندہی کی جاچکی تھی۔

کمیٹی سمجھتی ہے کہ جہاں ریکارڈ کسی مخصوص تفویض کردہ ذمہ داری اور بادی النظر عدم ادائیگی کو پہلے ہی ثابت کرتا ہے، وہاں مناسب قانونی طریقہ کار کے تحت انتظامی اور محکمانہ کارروائی شروع کی جاسکتی ہے، بالخصوص فائر سیفٹی اور سکیورٹی کے نظام میں۔

اسی طرح جہاں آؤٹ سورس سکیورٹی کمپنی کی کوتاہی کی تصدیق ہو، وہاں معاہداتی کارروائی بھی شروع کی جانی چاہیے۔

دوسری جانب لازمی فائر ایگزٹس کے مبینہ طور پر بند یا رکاوٹ کا شکار ہونے، پہلے سے نشاندہی شدہ حفاظتی خامیوں کو دور کرنے میں ممکنہ قابلِ مواخذہ ناکامی اور بیرونی ہنگامی امداد طلب کرنے میں ثابت شدہ قابلِ مواخذہ تاخیر جیسے معاملات کو، اگر تصدیق کے بعد قابلِ تعزیر جرم کے عناصر سامنے آئیں، تو فوجداری تحقیقات کے لیے بھیجا جانا چاہیے۔

حتمی مجرمانہ ذمہ داری کا تعین متعلقہ تفتیشی اور عدالتی اداروں پر چھوڑا جانا چاہیے۔

کمیٹی کے مطابق ادارے کے لیے اس سانحے کا بنیادی سبق کسی ایک خراب آلے یا کسی ایک امدادی کارکن کی نشاندہی سے کہیں زیادہ اہم ہے۔

جامع تحقیقات میں بالآخر یہ طے کرنا ہوگا کہ آگ کس وجہ سے لگی، اسے تباہ کن صورت اختیار کرنے کا موقع کیسے ملا، کون سے حفاظتی انتظامات موجود نہیں تھے یا مؤثر نہیں تھے، ان کے بارے میں پہلے سے کس کو علم تھا، ان کی ذمہ داری کس پر عائد تھی اور آیا کسی قابلِ شناخت کوتاہی نے اموات میں اہم کردار ادا کیا۔

انفرادی ذمہ داری کا حتمی تعین جامع رپورٹ کے لیے محفوظ رکھا گیا ہے، تاہم مریضوں کی فوری حفاظت کے اقدامات اور پہلے سے ثابت شدہ انتظامی یا معاہداتی کوتاہیوں پر کارروائی کے لیے اس حتمی تعین کا انتظار ضروری نہیں۔


کمیٹی کا مزید عبوری جائزہ

عبوری رپورٹ پیش کرتے ہوئے کمیٹی نے قرار دیا کہ المناک واقعے کے بنیادی حقائق بڑی حد تک ثابت ہوچکے ہیں، جبکہ بعض معاملات ایسے ہیں جن میں کسی شخص کی ذمہ داری کو شک و شبہ سے بالاتر ثابت کرنے کے لیے مزید تحقیقات اور شواہد درکار ہیں۔

تاہم دستیاب اور ثابت شدہ ریکارڈ کی بنیاد پر کمیٹی نے قرار دیا کہ سنگین انتظامی اور عملی نوعیت کی ناکامیاں کم از کم تین سطحوں پر ہوئیں، جنہوں نے واقعے اور اس کے نتیجے میں ہونے والے نقصان اور جانی نقصان میں کردار ادا کیا۔

الف۔ طبی و کلینیکل سطح

تمام نومولود بچے ایم سی ایچ کے شعبہ نیونٹولوجی کے زیر انتظام نوزائیدہ انتہائی نگہداشت یونٹ میں زیر علاج تھے۔

تحقیق کے دوران معلوم ہوا کہ واقعے کے وقت ڈیوٹی روسٹر کے مطابق مطلوبہ تعداد میں افسران اور اہلکار موجود نہیں تھے۔

تمام ڈاکٹروں اور متعلقہ عملے کی جائے ڈیوٹی پر موجودگی یقینی بنانا یونٹ کے سربراہ کی براہ راست ذمہ داری ہے، اور اس معاملے میں یہ ذمہ داری پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ ریاض پر عائد ہوتی تھی۔

لہٰذا کمیٹی نے سفارش کی کہ:

نومولود انتہائی نگہداشت یونٹ کو مطلوبہ طبی نگرانی اور انتظامی نگرانی کے بغیر چھوڑنے اور متعلقہ وقت پر اہل طبی عملے کی موجودگی یقینی نہ بنانے کے ذمہ دار درج ذیل افسران کو فوری طور پر معطل کیا جائے اور ای اینڈ ڈی رولز 2020 کے تحت ان کے خلاف کارروائی کی جائے:

  1. پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ ریاض، سربراہ شعبہ نیونٹولوجی، چلڈرن ہسپتال، پی آئی ایم ایس

  2. ڈاکٹر نغمہ، سینئر رجسٹرار، شعبہ نیونٹولوجی، پی آئی ایم ایس

ایم سی ایچ اور نرسری میں اس وقت تعینات دیگر عملے کی حقیقی موجودگی سے متعلق مزید حقائق بھی جمع کیے جائیں گے اور اس حوالے سے نتائج اور سفارشات حتمی رپورٹ میں پیش کی جائیں گی۔

ب۔ انتظامی و عملی سطح

جولائی 2026 میں پی آئی ایم ایس نرسنگ ہاسٹل میں پیش آنے والی آتشزدگی اور پی آئی ایم ایس آنے والے مریضوں کو فراہم کی جانے والی دیکھ بھال کے عمومی معیار کو مدنظر رکھتے ہوئے ہسپتال انتظامیہ اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہی۔

انتظامیہ نے نرسنگ ہاسٹل میں پیش آنے والے واقعے کے بعد، اگر اس سے پہلے نہیں، تو ضروری اور بنیادی اقدامات مناسب احتیاط کے ساتھ نہیں کیے، جن میں فائر سیفٹی مشقیں، آگ بجھانے والے آلات کی درست حالت یقینی بنانا، تفصیلی ایس او پیز اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے نظام کا قیام شامل ہونا چاہیے تھا۔

لہٰذا کمیٹی نے پی آئی ایم ایس انتظامیہ کے درج ذیل افسران کو فوری طور پر معطل کرنے اور ای اینڈ ڈی رولز 2020 کے تحت ان کے خلاف کارروائی کی سفارش کی:

  1. پروفیسر ڈاکٹر عمران سکندر، ایگزیکٹو ڈائریکٹر، پی آئی ایم ایس

  2. ڈاکٹر مطاہر شاہ، جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر، ایم سی ایچ

  3. چودھری وارث علی رضا، جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر، نان میڈیکل، پی آئی ایم ایس

  4. ڈاکٹر نوشیلہ امجد، ڈائریکٹر ایم سی ایچ

ج۔ بیرونی اداروں کی ذمہ داری

اسلام آباد میں سرکاری اور نجی عمارتوں، بالخصوص پی آئی ایم ایس جیسے ایسے ادارے میں جہاں روزانہ اور 24 گھنٹے بڑی تعداد میں لوگ آتے ہیں، فائر سیفٹی اقدامات اور پروٹوکول کی دیکھ بھال اور عملدرآمد کی بنیادی ذمہ داری کیپیٹل ایمرجنسی سروسز پر عائد ہوتی ہے۔

جولائی 2026 کی آتشزدگی کے بعد بھی سی ای ایس نے پی آئی ایم ایس میں آگ سے نمٹنے کے نظام کی بنیادی خامیوں کا مؤثر نوٹس نہیں لیا اور نہ ہی فائر سیفٹی مشقوں، پروٹوکولز اور ایس او پیز کے اجرا پر زور دیا۔

کمیٹی نے اس ناکامی کے باعث درج ذیل افراد کو معطل کرکے ای اینڈ ڈی رولز 2020 کے تحت کارروائی کی سفارش کی:

  1. ڈاکٹر عبدالرحمٰن، ڈائریکٹر جنرل، کیپیٹل ایمرجنسی سروسز، سی ڈی اے، اسلام آباد

  2. محمد عثمان، اسسٹنٹ ڈائریکٹر سکیورٹی، غیر حاضری اور فرائض میں غفلت کے الزام میں

د۔ بیلفورٹ سکیورٹی

کمیٹی کے مطابق بیلفورٹ سکیورٹی اپنی معاہداتی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہی اور پی آئی ایم ایس، بطور آجر، متعلقہ قوانین کے تحت کمپنی کے خلاف کارروائی کرے۔

کمیٹی کی جانب سے اب تک جمع کیے گئے شواہد اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو فراہم کردیے گئے ہیں تاکہ ضرورت پڑنے پر الزامات کا بیان اور چارج شیٹس تیار کی جاسکیں۔

تحقیقات آگے بڑھنے کے دوران اگر مزید افراد فرائض میں غفلت کے مرتکب پائے گئے تو ان کے خلاف بھی کارروائی کی جاسکے گی۔

کمیٹی نے واضح کیا کہ آگ لگنے کی پہلی چنگاری کی درست وجہ ابھی غیر حل شدہ ہے، تاہم جوابدہی کا آغاز اور اختتام اس چنگاری پر نہیں ہوتا۔

دستیاب شواہد تین الگ نوعیت کے ردعمل کے متقاضی ہیں:

  • جہاں تفویض کردہ سرکاری ذمہ داری میں بادی النظر کوتاہی ہوئی، وہاں محکمانہ کارروائی؛

  • جہاں آؤٹ سورس ادارے کی معاہداتی ذمہ داری کی خلاف ورزی ثابت ہوئی، وہاں معاہداتی کارروائی؛

  • اور جہاں زندگی کے تحفظ کو متاثر کرنے والی قابلِ مواخذہ کوتاہی نے ممکنہ طور پر اموات میں اہم کردار ادا کیا، وہاں فوجداری تحقیقات۔

کمیٹی کے مطابق حتمی رپورٹ میں ذمہ داری صرف اسی صورت میں متعین کی جانی چاہیے جب شواہد ذمہ داری، علم، کوتاہی اور نتیجے کے مکمل سلسلے کو ثابت کردیں۔

شاہد خان
سابق وفاقی سیکریٹری — چیئرمین تحقیقاتی کمیٹی

بیرسٹر نبیل احمد اعوان
اسٹیبلشمنٹ سیکریٹری — رکن

میجر جنرل (ر) ڈاکٹر خورشید اترا
رکن

عرفان نواز میمن
ڈپٹی کمشنر، آئی سی ٹی — رکن