ناروے کے اصلاح پسند سربراہِ مملکت شاہ ہیرالڈ پنجم 89 برس کی عمر میں انتقال کر گئے
- ناروے کے 89 سالہ شاہ ہیرالڈ، 30 برس سے زائد عرصے تک محبوب اصلاح پسند و جدیدیت پسند فرماں روا، انتقال کر گئے؛ ایک عہد کا اختتام
ناروے کے شاہ ہیرالڈ، جو تین دہائیوں سے زائد عرصے تک تخت پر رہنے کے دوران اپنے بے حد مقبول اور ملنسار والد کے سائے سے نکل کر ایک اصلاح پسند فرماں روا کے طور پر ابھرے، جمعے کو 89 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ شاہی محل نے ان کی وفات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ناروے کے شاہی خاندان کو اس وقت کئی بحرانوں کا سامنا ہے۔
شاہی محل نے اپنی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا، ’’شاہ ہیرالڈ جمعے 28 اگست کو مقامی وقت کے مطابق صبح 6 بج کر 35 منٹ پر اوسلو یونیورسٹی ہسپتال میں پُرسکون انداز میں انتقال کر گئے۔‘‘
ہیرالڈ یورپ کے معمر ترین زندہ فرماں روا تھے۔ انہیں 17 اگست کو ہسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں شاہی محل کے مطابق خون میں بیکٹیریا کے انفیکشن کا علاج کیا جارہا تھا۔
2024 میں بھی ملائیشیا میں تعطیلات کے دوران انفیکشن کے باعث انہیں ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا، جہاں انہیں عارضی پیس میکر لگایا گیا۔ ناروے کی مسلح افواج انہیں وطن واپس لائیں اور بعد ازاں ان کے لیے مستقل پیس میکر نصب کیا گیا۔
اسی سال ہیرالڈ نے، جو 1991 سے ناروے کے رسمی سربراہِ مملکت تھے، کہا تھا کہ وہ سرکاری مصروفیات میں اپنی شرکت محدود کردیں گے، تاہم انہوں نے دستبردار ہونے کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ بطور بادشاہ ان کا حلف تاحیات ہے۔
ان کی وفات کی خبر سامنے آنے کے بعد اوسلو میں سیکڑوں افراد شاہی محل کے باہر جمع ہوگئے اور پھول پیش کیے۔ حکومت نے ان کی آخری رسومات کے بعد تک ملک بھر میں سوگ کا اعلان کردیا۔
سیاست دانوں اور یورپ کے دیگر شاہی خاندانوں کے افراد کے علاوہ ناروے کے معروف فٹبالر ارلنگ ہالینڈ نے بھی شاہ ہیرالڈ کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
ہیرالڈ کے 53 سالہ بیٹے ہاکون ہشتم ناروے کے نئے بادشاہ بنیں گے، جبکہ ہاکون کی 22 سالہ بیٹی انگرڈ الیگزینڈرا ولی عہد شہزادی ہوں گی۔
متعدد چیلنجز
شاہ ہیرالڈ کا انتقال شاہی خاندان کے لیے ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب اسے متعدد بحرانوں کا سامنا ہے۔
ولی عہد شہزادی میتے ماریت، جو ہاکون کی اہلیہ اور اب نئی ملکہ ہوں گی، جنسی جرائم کے مرتکب آنجہانی جیفری ایپسٹین سے اپنی دوستی کے باعث شدید تنقید اور جانچ پڑتال کی زد میں ہیں۔ وہ اس تعلق پر معذرت بھی کرچکی ہیں۔
ان کے بیٹے ماریوس ہویبی، جو ہاکون سے شادی سے قبل ان کے ایک تعلق کے نتیجے میں پیدا ہوئے تھے، کو جون میں چار میں سے دو ریپ کے الزامات اور گھریلو تشدد کے ایک الزام میں مجرم قرار دیا گیا۔ سات ہفتے تک جاری رہنے والے مقدمے کے بعد انہیں چار سال قید کی سزا سنائی گئی۔ ماریوس اور استغاثہ، دونوں نے سزا کے خلاف اپیل دائر کی ہے۔
ماریوس کو مجرم قرار دیے جانے کے دو روز بعد شاہی محل نے بتایا کہ میتے ماریت کے پھیپھڑوں کی پیوند کاری کامیابی سے مکمل ہوگئی ہے، تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ آپریشن کب کیا گیا تھا۔
ہسپتال میں کئی ہفتے زیر علاج رہنے کے بعد وہ گھر واپس آگئیں اور اگست میں ہاکون کے ساتھ اپنی سلور ویڈنگ اینیورسری منائی۔
سرکاری نشریاتی ادارے این آر کے کی جانب سے شائع کیے گئے نورسٹیٹ کے ایک سروے کے مطابق فروری 2026 میں بادشاہت کی حمایت گزشتہ ماہ کے 70 فیصد سے کم ہوکر 60 فیصد رہ گئی تھی، تاہم مئی میں یہ معمولی اضافے کے ساتھ 64 فیصد ہوگئی۔
شاہ ہیرالڈ بدستور ناروے کے عوام میں مقبول رہے۔ فروری کے سروے میں انہیں ناروے کے شاہی خاندان کی بہترین نمائندگی کرنے والی شخصیت قرار دیا گیا اور ایک سے 10 کے پیمانے پر انہیں 9.2 نمبر ملے۔
ملکہ وکٹوریہ کی نسل سے تعلق
برطانیہ کی ملکہ وکٹوریہ کے پڑپوتے کے پڑپوتے، شاہ ہیرالڈ نے 1991 میں تخت سنبھالا اور بتدریج جدید روایات متعارف کرائیں۔ یوں انہوں نے اس رسمی منصب کو، جسے زیادہ تر قومی خودمختاری کی علامت سمجھا جاتا تھا، اکیسویں صدی کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا۔
مقبول بادشاہ نے قومی سوگ کے مواقع پر قوم کو حوصلہ دینے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
2011 میں انتہائی دائیں بازو کے اسلام مخالف شدت پسند آندرس بیرنگ بریوک نے اوسلو اور جزیرے اوتویا میں 77 افراد کو قتل کردیا تو شاہ ہیرالڈ نے قوم سے ایک پُراثر ٹیلی وژن خطاب کیا۔ جذبات سے بھری آواز میں انہوں نے کہا کہ ’’آزادی خوف سے زیادہ طاقتور ہے۔‘‘
سیلاب، طوفان اور دیگر قدرتی آفات کے بعد وہ متاثرہ علاقوں کا دورہ کرتے، ربڑ کے جوتے اور پرانی جیکٹ پہنے ان لوگوں سے ملتے جنہوں نے اپنے گھر یا عزیز کھو دیے تھے۔
زندگی کے آخری برسوں میں انہوں نے رواداری کے حق میں بھی کھل کر آواز اٹھائی۔ 2016 کی ایک تقریر میں انہوں نے کہا تھا کہ ناروے کے شہری مختلف پس منظر، عقائد اور جنسی رجحانات سے تعلق رکھ سکتے ہیں۔
نومبر 2005 میں شاہ ہیرالڈ اور ان کی اہلیہ سونیا ہیرالڈسن نے 550 ناروے کے شہریوں کو ایک تقریب میں مدعو کیا تاکہ سویڈن سے ناروے کی آزادی کی صد سالہ تقریبات منائی جاسکیں۔
اس وقت ایک انٹرویو میں ہیرالڈ نے کہا تھا کہ یورپ کے شاہی خاندانوں کو معاشرے میں زیادہ کھلے پن کی جانب ہونے والی پیش رفت کو واپس پلٹنے اور اپنے محلات کی فصیلوں کے پیچھے لوٹنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔
انہوں نے رائٹرز سے کہا تھا، ’’اگر آپ نے دروازہ کھول دیا ہو تو اسے دوبارہ بند کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ میں اسے بند کرنا چاہوں گا۔ جہاں تک میرا تعلق ہے، اب تک سب اچھا ہے۔‘‘
اپنے والد اولاف کی طرح ہیرالڈ بھی کھیلوں اور گاڑیوں کے شوقین تھے اور اکثر، بالخصوص غیر رسمی تقریبات میں، اپنی گاڑی خود چلاتے تھے۔
وہ کشتی رانی کے شوقین تھے اور اپنی کشتی کی کپتانی کرتے ہوئے عالمی چیمپئن شپ کا اعزاز جیتا۔ انہوں نے کئی اولمپکس میں بھی حصہ لیا، تاہم اپنے والد کی طرح اولمپک طلائی تمغہ جیتنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔
ہیرالڈ کو قدرتی ماحول کے تحفظ میں بھی گہری دلچسپی تھی۔ 76 برس کی عمر میں انہوں نے برازیل کے ایمیزون کے گھنے جنگلات میں چار روز یانومامی قبائل کے ساتھ گزار کر اور جھولے میں سو کر زندگی بھر کا ایک خواب پورا کیا۔
پیدائش اور دورِ حکومت
ہیرالڈ کی پیدائش 21 فروری 1937 کو ہوئی اور اس موقع پر پورے ملک میں جشن منایا گیا۔ وہ تقریباً 570 برس میں ناروے کی سرزمین پر پیدا ہونے والے پہلے شاہی ولی عہد تھے۔ 1905 تک ڈنمارک اور سویڈن کے بادشاہ صدیوں تک اس اسکینڈینیوین ملک پر حکمرانی کرتے رہے تھے۔
ہیرالڈ کی پیدائش کے صرف تین سال بعد نازی جرمنی نے ناروے پر حملہ کردیا۔ شاہ ہاکون اور اس وقت کے ولی عہد اولاف برطانیہ فرار ہوگئے، جہاں انہوں نے جلاوطن ناروے کی حکومت کی قیادت کی، جبکہ تین سالہ ہیرالڈ اپنی والدہ ولی عہد شہزادی مرتھا کے ساتھ پہلے غیر جانب دار سویڈن اور پھر امریکا چلے گئے۔
کچھ عرصہ وائٹ ہاؤس میں قیام اور پھر میری لینڈ کے شہر بیتھسڈا میں پانچ سال گزارنے کے دوران ہیرالڈ، ان کی بڑی بہنوں رگن ہلڈ اور آسٹرڈ اور ان کی والدہ کی امریکی صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ سے اکثر ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ ہیرالڈ نے کئی برس بعد روزویلٹ کو اپنے دادا جیسا قرار دیا تھا۔
1945 میں جنگ کے خاتمے کے بعد ناروے واپس آنے پر ہیرالڈ نے اپنے والد کی طرح نجی اساتذہ سے تعلیم حاصل کرنے کے بجائے سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کی۔
1968 میں ایک عام شہری سونیا سے ان کی شادی شاہی روایات سے انحراف تھی۔ اس شادی کے لیے ہیرالڈ کو اپنے والد کی جانب سے 9 سال تک مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، جو اس وقت ختم ہوئی جب ہیرالڈ نے دھمکی دی کہ وہ سونیا سے دستبردار ہونے کے بجائے کبھی شادی ہی نہیں کریں گے۔
زندگی کے آخری برس
1998 میں شاہ ہیرالڈ کو عوامی سطح پر غیر معمولی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ ذرائع ابلاغ میں یہ رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ انہوں نے صنعت کاروں کے ایک گروپ سے سالگرہ کے تحفے کے طور پر کئی ملین کرون مالیت کی کشتی قبول کی تھی، جبکہ شاہی محل کی مرمت پر حکومت کے 500 ملین کرون خرچ ہوئے تھے۔
اسی دوران ان کے سابق نائب نجی سیکریٹری نے تجویز دی کہ مساوات پسند ملک میں معمول کی ریٹائرمنٹ کی عمر 67 سال ہونے کے پیش نظر ہیرالڈ کو بھی تخت سے دستبردار ہوجانا چاہیے۔
تاہم رائے عامہ کے جائزوں میں بادشاہ کو تاحیات تخت پر برقرار رہنے کی بھرپور حمایت حاصل رہی اور تنقید کا سلسلہ بھی تھم گیا۔ ایک سال بعد رائٹرز کو دیے گئے ایک اور انٹرویو میں ہیرالڈ نے مذاقاً کہا تھا کہ وہ زندگی بھر تخت پر رہیں گے، الا یہ کہ ان کا دماغ چل جائے۔
انہوں نے کہا تھا، ’’ناروے میں (تخت سے دستبرداری کی) کوئی روایت نہیں۔ لیکن آپ کچھ کہہ نہیں سکتے۔ اگر آپ بالکل ہی پاگل ہوجائیں تو…‘‘
ملکہ سونیا ہنس پڑیں اور بولیں، ’’لیکن آپ کو یہ بتائے گا کون؟‘‘