بی ٹی کپاس سے آگے بڑھنے کی ضرورت
- پاکستان میں کپاس کی آئندہ افزائش کے لیے ایسی کثیر الصفاتی اقسام تیار کرنا ناگزیر ہے جو گرمی، خشک سالی اور کیڑوں کے خلاف بیک وقت مزاحمت رکھتی ہوں
پاکستان میں کپاس کا مستقبل صرف بیسیلس تھورنجیئنسس( بی ٹی) ٹیکنالوجی تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ بی ٹی کپاس نے مخصوص اقسام کے سنڈی نما کیڑوں کے خلاف ایک اہم حیاتیاتی ذریعہ ضرور فراہم کیا ہے، تاہم کپاس کی پیداوار کا انحصار بہت وسیع عوامل کے باہمی تعلق پر ہوتا ہے، جن میں جینیاتی خصوصیات، درجہ حرارت، پانی کی دستیابی، مٹی کی حالت، غذائی اجزا کی فراہمی، کیڑوں اور بیماریوں کا دباؤ اور فصل کا انتظام شامل ہیں۔
یہ فرق اس وقت مزید اہم ہوگیا ہے جب پاکستان میں کپاس کی کاشت کا ماحول مسلسل گرم اور پانی کی قلت کا شکار ہورہا ہے۔ خاص طور پر مئی سے جولائی کے دوران شدید گرمی ایک مستقل رکاوٹ بن کر سامنے آئی ہے۔ کپاس پیدا کرنے والے بہت سے علاقوں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کرجاتا ہے اور انتہائی موسمی حالات میں اس سے بھی کہیں زیادہ بڑھ سکتا ہے۔ دوسری جانب پانی کی محدود دستیابی بلند درجہ حرارت سے پیدا ہونے والے دباؤ کو مزید بڑھا دیتی ہے۔ لہٰذا مستقبل میں کپاس کی افزائشِ نسل کے پروگراموں کو گرمی اور خشک سالی کو الگ الگ مسائل سمجھنے کے بجائے باہم مربوط ماحولیاتی دباؤ کے طور پر دیکھنا ہوگا۔
تحقیقی مشاہدات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب درجہ حرارت تقریباً 32 سے 36 ڈگری سینٹی گریڈ کی حد میں بڑھتا ہے تو کپاس کے جرگ کی فعالیت، کامیاب بارآوری اور ٹینڈوں کے برقرار رہنے کی صلاحیت متاثر ہونا شروع ہوسکتی ہے۔ اس حد سے آگے یہ اثرات بتدریج شدید ہوسکتے ہیں، جس کے نتیجے میں افزائشِ نسل اور پیداوار متاثر ہوتی ہے۔
مستقبل کے موسمیاتی تخمینے بھی پاکستان کے گرم علاقوں میں بڑھتے ہوئے حرارتی دباؤ کی نشاندہی کرتے ہیں۔ بعض اندازوں کے مطابق 2050 تک موسمِ گرما کے درجہ حرارت میں تقریباً 1.6 سے 1.8 ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ ہوسکتا ہے۔ پنجاب اور سندھ کے کئی علاقوں میں مئی سے اگست کے دوران روزانہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 46 سے 47 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔
اس لیے اصل تشویش محض یہ نہیں کہ کپاس کا پودا شدید گرمی میں زندہ رہ سکتا ہے یا نہیں۔ زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ آیا ایسی صورتحال میں وہ پھول دیتا رہ سکتا ہے، کامیاب بارآوری ہوسکتی ہے، ٹینڈے برقرار رہ سکتے ہیں اور پیداوار و فائبر کا معیار قائم رہ سکتا ہے یا نہیں۔
چنانچہ گرمی برداشت کرنے والی قسم کی تعریف صرف اس بنیاد پر نہیں ہونی چاہیے کہ وہ 45 ڈگری یا اس سے زیادہ درجہ حرارت میں زندہ رہ سکتی ہے۔ زرعی اعتبار سے حقیقی گرمی برداشت کرنے کی صلاحیت جانچنے کے لیے جرگ کی فعالیت، کامیاب بارآوری، پھول اور ٹینڈوں کے برقرار رہنے، ٹینڈے بننے، پھٹی کی پیداوار اور فائبر کے معیار کو مدنظر رکھنا چاہیے، خصوصاً پھول آنے اور ٹینڈے بننے کے مراحل میں، جب فصل گرمی کے لیے انتہائی حساس ہوتی ہے۔
اگر کوئی پودا انتہائی درجہ حرارت میں زندہ تو رہ جائے لیکن اس کے بیشتر پھول اور ٹینڈے جھڑ جائیں تو اسے تجارتی لحاظ سے کامیاب اور زیادہ پیداوار دینے والی گرمی برداشت قسم قرار دینا گمراہ کن ہوگا۔
خشک سالی برداشت کرنے کی صلاحیت بھی اسی طرح پیچیدہ معاملہ ہے۔ ایک اچھی قسم کو محض محدود پانی میں زندہ رہنے کے قابل نہیں ہونا چاہیے بلکہ پانی کی کمی کے باوجود اس میں جڑوں کی نشوونما، پودے میں پانی کی کیفیت، ضیائی تالیف کی سرگرمی، پانی کے مؤثر استعمال، پھول اور ٹینڈوں کے برقرار رہنے اور پیداوار کو قابلِ قبول سطح پر برقرار رکھنے کی صلاحیت ہونی چاہیے۔
یہ معاملہ پاکستان کے لیے خاص طور پر اہم ہے کیونکہ یہاں گرمی اور پانی کی قلت اکثر ایک ساتھ واقع ہوتی ہیں۔ اگر کسی افزائشی پروگرام میں خشک سالی برداشت کرنے کی صلاحیت کو صرف پانی کی کمی کی صورتحال میں، بلند درجہ حرارت کو نظرانداز کرتے ہوئے جانچا جائے تو ممکن ہے کہ کھیت میں کسانوں کو درپیش حقیقی حالات کی درست عکاسی نہ ہوسکے۔ اسی لیے مستقبل کے افزائشی پروگراموں میں ایسے جینیاتی ذخیرے کی جانچ پر زیادہ توجہ دینی چاہیے جو بیک وقت گرمی اور خشک سالی کے دباؤ کا مقابلہ کرسکے۔
پہلی ضرورت ایسے کپاس کے جینیاتی ذخیرے کی نشاندہی کرنا ہے جو گرمی اور پانی کی محدود دستیابی کے باوجود بہتر جسمانی اور زرعی کارکردگی برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ ملکی اور غیر ملکی جینیاتی ذخیرے کی منظم جانچ سے ایسے جینیاتی نمونے اور افزائشی لائینیں تلاش کرنے میں مدد مل سکتی ہے جن میں گرمی اور خشک سالی برداشت کرنے کی مطلوبہ خصوصیات موجود ہوں۔
تاہم صرف حتمی پیداوار کو جانچ کا معیار قرار دینا کافی نہیں۔ افزائشی پروگراموں میں پھول اور ٹینڈوں کے برقرار رہنے، جرگ کی فعالیت، ضیائی تالیف کی استعداد، پودے میں پانی کی کیفیت، چھتری کے درجہ حرارت، روزنوں کے رویے، خلیاتی جھلی کے استحکام، نسبتی آبی مقدار، پانی کے مؤثر استعمال اور جڑوں کی نشوونما جیسے جسمانی اور حیاتی کیمیائی اشاریوں کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔
یہ اشاریے ان جسمانی طریقہ کار کی نشاندہی میں مدد دیتے ہیں جن کے ذریعے بعض جینیاتی اقسام دباؤ کے باوجود اپنی کارکردگی برقرار رکھنے کے قابل ہوتی ہیں۔
پاکستان کے تحقیقی ادارے اس شعبے میں پہلے ہی قابلِ قدر شواہد پیدا کرچکے ہیں۔ این آئی اے بی، سی سی آر آئی ملتان، این آئی اے ٹنڈو جام اور اے اے آر آئی سمیت مختلف اداروں نے گرمی اور خشک سالی برداشت کرنے کی صلاحیت کے مطالعات میں خلیاتی جھلی کی حرارتی پائیداری، جرگ کی فعالیت، اینتھر کے کھلنے، نسبتی آبی مقدار اور ضیائی تالیف جیسے پیمانوں کو استعمال کیا ہے۔
ان مطالعات سے مختلف جینیاتی اقسام میں گرمی اور پانی کے دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت میں نمایاں فرق سامنے آیا ہے۔ بعض اقسام نے خشک سالی کی صورتحال میں بہتر جڑوں کی نشوونما اور پانی کے زیادہ مؤثر استعمال کا بھی مظاہرہ کیا ہے۔
بیک وقت گرمی اور خشک سالی کے دباؤ میں تحقیق خصوصی توجہ کی مستحق ہے کیونکہ یہ کپاس کاشت کرنے والے کسانوں کو درپیش حالات کی زیادہ قریب سے عکاسی کرتی ہے۔ تاہم تجرباتی نتائج کو محض اسی بنیاد پر تجارتی پیمانے پر استعمال کے لیے موزوں قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ان کی تصدیق مختلف مقامات اور مختلف برسوں میں کھیتوں کی آزمائشوں کے ذریعے کرنا ضروری ہے۔
یہاں ایک اہم سائنسی فرق بھی برقرار رکھنا ضروری ہے۔ گرمی برداشت کرنے کی صلاحیت، خشک سالی برداشت کرنے کی صلاحیت اور کیڑوں کے خلاف مزاحمت الگ الگ جینیاتی اور جسمانی خصوصیات ہیں۔
کوئی جینیاتی قسم شدید گرمی برداشت کرنے کے باوجود سفید مکھی کے لیے انتہائی حساس ہوسکتی ہے۔ اسی طرح کوئی دوسری قسم محدود پانی میں نسبتاً بہتر کارکردگی دکھا سکتی ہے لیکن گلابی سنڈی کے خلاف مطلوبہ مزاحمت نہ رکھتی ہو۔
لہٰذا مستقبل میں افزائشِ نسل کا مقصد ایسی کثیر الصفاتی اقسام تیار کرنا ہونا چاہیے جن میں زیادہ پیداوار کی صلاحیت، مطلوبہ فائبر معیار، گرمی اور خشک سالی برداشت کرنے کی صلاحیت اور اہم کیڑوں و بیماریوں کے خلاف مزاحمت ایک موزوں جینیاتی پس منظر میں یکجا ہوں۔
یہ مقصد صرف ایک مطلوبہ خصوصیت رکھنے والی قسم تیار کرنے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل ہے۔ اس کے لیے ایسے افزائشی نظام کی ضرورت ہے جو ہر خصوصیت کو الگ الگ منتخب کرنے کے بجائے متعدد خصوصیات کے باہمی تعلق کو پیش نظر رکھے۔
بی ٹی ٹیکنالوجی بدستور کپاس کے تحفظ کا ایک اہم جزو ہے، تاہم تجربے سے ثابت ہوا ہے کہ اسے کپاس کی پیداوار سے متعلق تمام مسائل کا ہمہ گیر حل نہیں سمجھا جاسکتا۔
پاکستان میں بی ٹی جین رکھنے والی ان اقسام میں بھی گلابی سنڈی کے حملے اور نقصان کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جن میں کرائی 1 اے سی اور کرائی 1 اے سی + کرائی 2 اے بی خصوصیات موجود ہیں۔ بعض دوہری جین والی اقسام نے نسبتاً بہتر تحفظ فراہم کیا ہے، تاہم مکمل کنٹرول مستقل طور پر حاصل نہیں ہوسکا۔
ایک یا محدود تعداد میں بی ٹی خصوصیات پر طویل عرصے تک انحصار، مسلسل بی ٹی کاشت اور کیڑوں کی آبادی پر انتخابی دباؤ کے باعث کھیتوں میں کیڑوں میں مزاحمت پیدا ہونے کے خدشات بڑھتے ہیں۔
اس کا مناسب حل بی ٹی ٹیکنالوجی کو ترک کرنا نہیں بلکہ اسے وسیع تر جینیاتی اور کیڑوں کے مربوط انتظامی نظام کا حصہ بنانا ہے۔
ثابت شدہ بی ٹی خصوصیات کو ایسی اعلیٰ معیار کی جینیاتی اقسام میں شامل کیا جانا چاہیے جن میں پہلے ہی مطلوبہ پیداواری صلاحیت، فائبر کی خصوصیات اور غیر حیاتیاتی دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت موجود ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ مزاحمت کی نگرانی، مناسب ریفیوج حکمتِ عملی اور مربوط انسدادِ کیڑہ نظام بھی کپاس کی پیداوار کا لازمی حصہ رہنا چاہیے۔
غیر ہدف کیڑوں، خصوصاً سفید مکھی، کے لیے بھی الگ مربوط انتظامی حکمتِ عملی درکار ہے، کیونکہ مخصوص سنڈیوں کے خلاف تیار کی گئی بی ٹی خصوصیات رس چوسنے والے کیڑوں کے خلاف یکساں تحفظ فراہم نہیں کرتیں۔
کھیت کے حالات میں کپاس کی کارکردگی کی وضاحت صرف جینیاتی خصوصیات سے نہیں کی جاسکتی۔ پودے کی جینیاتی صلاحیت کو عملی طور پر بروئے کار لانے میں مٹی بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔
مٹی کی ساخت، نامیاتی مادے کی مقدار، پانی محفوظ رکھنے کی صلاحیت، غذائی اجزا کی دستیابی، شور زدگی، پی ایچ اور نکاسیٔ آب جڑوں کی نشوونما، پانی کے حصول اور غذائی اجزا کے استعمال پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ شدید گرمی کے دوران مٹی میں پانی محفوظ رکھنے کی ناقص صلاحیت یا شور زدگی اور مٹی کی خراب ساخت سے کمزور جڑوں کا نظام گرمی اور پانی کے دباؤ کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔ اچھی مٹی کے حالات کسی قسم کو گرمی برداشت کرنے والی نہیں بناتے بلکہ مناسب مٹی اور زمین کا انتظام وہ ماحول فراہم کرتا ہے جس میں جینیاتی طور پر بہتر پودا اپنی صلاحیت کا بھرپور اظہار کرسکتا ہے۔
اس کے برعکس، بہترین جینیاتی قسم بھی خراب مٹی، نامناسب آبپاشی یا غذائی اجزا کے عدم توازن کی صورت میں اپنی پوری صلاحیت بروئے کار نہیں لاسکتی۔
لہٰذا کپاس میں موسمیاتی لچک محض جینیاتی مسئلہ نہیں بلکہ جینیاتی خصوصیات اور پیداواری ماحول کے باہمی تعامل کا نتیجہ ہے۔
جدید جینیاتی اور سالماتی ذرائع افزائشِ نسل کے عمل کو نمایاں طور پر تیز کرسکتے ہیں۔ گرمی اور خشک سالی برداشت کرنے کی صلاحیت سے متعلق مقداری صفاتی مقامات، یعنی کیو ٹی ایلز، کی نشاندہی، مالیکیولر مارکرز، مارکر کی بنیاد پر انتخاب اور جینومک طریقہ کار مطلوبہ خصوصیات کی شناخت اور انتخاب کو زیادہ مؤثر بنا سکتے ہیں۔
تاہم سالماتی تکنیکیں کھیتوں میں عملی آزمائش کا متبادل نہیں ہوسکتیں۔
کسی جینیاتی مارکر یا ممکنہ جین کی موجودگی بذاتِ خود زرعی کامیابی ثابت نہیں کرتی۔ متعلقہ خصوصیت کو حقیقی کھیتی باڑی کے حالات میں مسلسل بہتر پیداوار، افزائشی کارکردگی اور فائبر کے معیار کی صورت میں ظاہر ہونا چاہیے۔
اس لیے سب سے مؤثر افزائشی نظام وہ ہوگا جو کسی ایک ذریعے پر انحصار کرنے کے بجائے جینیاتی، جسمانی، مٹی سے متعلق اور زرعی اشاریوں کو یکجا کرے۔
پاکستان کو کپاس کی نئی اقسام کی جانچ کے لیے زیادہ جامع فریم ورک کی ضرورت ہے۔ جینیاتی قسم × ماحول × مٹی × انتظام، یعنی G × E × S × M کا باہمی تعلق ایسا ہی ایک فریم ورک فراہم کرتا ہے۔
ایک قسم جو تحقیقی مرکز میں غیر معمولی کارکردگی دکھاتی ہے، جنوبی پنجاب یا سندھ کے بلند درجہ حرارت والے حالات میں بالکل مختلف نتائج دے سکتی ہے۔ مٹی کی قسم، درجہ حرارت، نمی، پانی کی دستیابی، بوائی کا وقت، پودوں کی تعداد اور فصل کے انتظام میں فرق جینیاتی قسم کی کارکردگی کو نمایاں طور پر تبدیل کرسکتا ہے۔
چنانچہ امید افزا اقسام کو مختلف مقامات، مختلف اقسام کی مٹی اور مختلف برسوں میں متنوع انتظامی حالات کے تحت آزمایا جانا چاہیے۔
خصوصی توجہ ان علاقوں اور حالات پر دی جانی چاہیے جہاں شدید گرمی اور پانی کی کمی بیک وقت واقع ہوتی ہے، کیونکہ یہی حالات پاکستان کی کپاس پٹی میں درپیش حقیقی پیداواری مسائل کی زیادہ بہتر عکاسی کرتے ہیں۔
ایسی آزمائشوں کا مقصد صرف یہ معلوم کرنا نہیں ہونا چاہیے کہ کون سی اقسام دباؤ میں زندہ رہ سکتی ہیں۔ اصل مقصد ایسی اقسام کی نشاندہی ہونا چاہیے جو دباؤ کے باوجود پھول اور ٹینڈے برقرار رکھیں، پیداوار دیں اور فائبر کا معیار قائم رکھیں۔
یہی دباؤ برداشت کرنے والی ظاہری خصوصیت اور حقیقی معنوں میں موسمیاتی لچک رکھنے والی تجارتی قسم کے درمیان فرق ہے۔
پاکستان میں کپاس کی مستقبل کی افزائشِ نسل کی حکمتِ عملی کسی ایک جینیاتی خصوصیت تک محدود نہیں رہ سکتی۔
افزائشِ نسل کا مقصد ایسی اقسام تیار کرنا ہونا چاہیے جن میں:
زیادہ پیداوار کی صلاحیت + مطلوبہ فائبر معیار + گرمی برداشت کرنے کی صلاحیت + خشک سالی برداشت کرنے کی صلاحیت + اہم کیڑوں اور بیماریوں کے خلاف مزاحمت + مختلف مٹیوں اور ماحول سے مطابقت
موجود ہو۔ بی ٹی ٹیکنالوجی اس جینیاتی پیکیج کا ایک اہم حصہ برقرار رہ سکتی ہے، تاہم اس کی طویل مدتی افادیت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ اسے بہتر جینیاتی خصوصیات، کیڑوں میں مزاحمت کے انتظام، مربوط انسدادِ کیڑہ نظام اور مناسب فصل انتظام کے ساتھ کس حد تک مؤثر انداز میں یکجا کیا جاتا ہے۔
حتمی ہدف ایسی کپاس کی قسم ہونی چاہیے جو محض زیادہ گرم اور خشک ماحول میں زندہ نہ رہے بلکہ ایسے حالات میں بھی تجارتی لحاظ سے قابلِ قبول پیداوار اور مناسب فائبر معیار برقرار رکھ سکے۔
پاکستان کے لیے اس مقصد کے حصول کی خاطر ایک ہی خصوصیت پر مبنی سوچ سے نکل کر جینیاتی قسم × ماحول × مٹی × انتظام، یعنی G × E × S × M پر مبنی مربوط افزائشی فریم ورک اپنانا ہوگا۔
ایسا طریقہ کار ایسی کپاس کی اقسام تیار کرنے کے لیے زیادہ مضبوط سائنسی بنیاد فراہم کرسکتا ہے جو موجودہ موسمیاتی دباؤ میں افزائشی صلاحیت، پیداوار اور فائبر کا معیار برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ مستقبل کے مزید گرم، خشک اور غیر یقینی موسمی حالات کے لیے بھی تیار ہوں۔