✕
کاروبار اور معیشت

پٹرولیم ٹیکس کم، قیمتوں کا تعین 15 دن بعد کیا جائے، سائٹ ایسوسی ایشن

  • صنعتوں کو درپیش مشکلات کا فوری نوٹس لیا جائے، عبد الرحمان فدا
شائع اپ ڈیٹ

سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کراچی کے صدر عبد الرحمان فدانے حکومت کی توجہ پیٹرولیم مصنوعات کی روزانہ یا ہر دو روز بعدقیمتیں مقرر کرنے کی پالیسی کے باعث صنعتوں پر منفی اثرات کی طرف مبذول کرواتے ہوئے کہا ہے کہ یومیہ بنیاد پر پیٹرولیم پرائس پالیسی نے صنعتکار برادری کو شدید مشکلات سے دوچار کردیا ہے۔ ٹرانسپورٹ اخراجات میں مسلسل اضافے کی وجہ سے خام مال کی ترسیل، پیداواری سرگرمیاں اور بندرگاہوں تک برآمدی سامان پہنچانے کا عمل متاثر ہورہا ہے جس سے ملکی برآمدات کو بھی دھچکا لگنے کا خدشہ ہے۔

عبد الرحمان فدا نے حکومت سے اپیل کی کہ صنعتوں کو درپیش مشکلات کا فوری نوٹس لیا جائے، پٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکس کم کیا جائے اور قیمتوں کے تعین کا دورانیہ کم از کم 15 مقرر کیا جائے تاکہ کاروباری طبقے کو استحکام مل سکے۔

صدر سائٹ ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ ہم نے یومیہ پٹرولیم قیمتوں کے اعلان کے وقت ہی اس پالیسی کے صنعتوں باالخصوص برآمدات پر منفی اثرات سے آگاہ کردیا تھا۔ ہم نے نشاندہی کی تھی کہ بار بار قیمتیں تبدیل ہونے سے خام مال فیکٹریوں تک پہنچانے اور برآمدی سامان بندرگاہوں تک منتقل کرنے کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوگا اور ہمارے خدشات درست ثابت ہوئے۔ روزانہ قیمتوں میں تبدیلی سے کاروباری ماحول مزید سنگین اور مہنگائی میں اضافہ ہورہا ہے۔ حکومت نے ٹرانسپورٹرز سے مذاکرات کے دوران قیمتوں کے تعین کا دورانیہ دو ہفتے کرنے پر اتفاق کیا تھا مگر 10 روز گزرنے کے باوجود اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔

عبد الرحمان فدا نے کہا کہ حکومت نے ڈیلرز کا مارجن بڑھا دیا ہے جبکہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی جانب سے بھی مارجن میں اضافے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ مخصوص شعبوں یا طبقات کو فائدہ پہنچانے کے بجائے پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس کم کرکے صنعتوں، کاروباری طبقے اور عوام کو براہِ راست ریلیف فراہم کرے تاکہ اس کا فائدہ معاشرے کے تمام طبقات تک پہنچ سکے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ٹیکسوں میں کمی کے ساتھ روزانہ قیمتوں کے تعین کی پالیسی بھی واپس لی جائے۔