✕
پاکستان

سانحہ پمز، ذمہ داروں کا سخت احتساب ہوگا، مصطفیٰ کمال

  • کسی کو بھی نہیں بخشا جائے گا اور نہ ہی کسی کو تحفظ دیا جائے گا، وفاقی وزیر صحت
شائع اپ ڈیٹ

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے جمعہ کو اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 شیر خوار بچوں کی اموات کے ذمہ دار کسی بھی شخص کو معاف نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے واقعے میں ذمہ داروں کے احتساب اور شعبہ صحت میں وسیع پیمانے پر اصلاحات پر زور دیا۔

قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے سانحے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ذمہ داروں کا احتساب یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی کو بھی نہیں بخشا جائے گا اور نہ ہی کسی کو تحفظ دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ وزیراعظم شہباز شریف اور پوری حکومت کی جانب سے یہ بات کہہ رہے ہیں۔

وزیر صحت نے کہا کہ پمز کا سانحہ ایسا معاملہ نہیں ہونا چاہیے جو چند روز بعد ختم یا پسِ پشت چلا جائے، بلکہ ذمہ داروں کا تعین کرکے مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جانے چاہئیں۔

انہوں نے معاملے کو دبانے سے گریز کرنے کی تنبیہ کرتے ہوئے ارکان پارلیمنٹ پر زور دیا کہ وہ مل کر اس مسئلے کا دیرپا حل تلاش کریں۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ یہ بچوں کی زندگیوں کا معاملہ ہے اور ہم ان کے بارے میں اللہ کے سامنے جواب دہ ہیں۔ انسانی جانوں کے تحفظ کی ذمہ داری کے مقابلے میں عہدے اور وزارتیں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ شیر خوار بچوں کی اموات کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جاسکتا۔ میں خود کو ذمہ دار سمجھتا ہوں اور احتساب کے لیے پیش کردیا ہے۔

مصطفیٰ کمال نے واقعے کی جامع اور وسیع پیمانے پر تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سانحے کی انکوائری کو کسی محدود مدت تک محدود نہیں کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب اس واقعے کی تحقیقات ہوگی تو اس سے جڑے کئی دیگر معاملات بھی سامنے آئیں گے۔ انہوں نے شعبہ صحت میں موجود گہرے اور بنیادی مسائل کی جانب بھی توجہ دلائی۔

وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ اس سانحے نے شعبہ صحت میں وسیع تر اصلاحات کی فوری ضرورت کو اجاگر کردیا ہے کیونکہ پاکستان کو بچوں کی اموات کی روک تھام کے حوالے سے بدستور سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔

اپنی تقریر کے دوران اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ملک میں ہر سال ایک سے پانچ سال کی عمر کے تقریباً 4 لاکھ بچے موت کا شکار ہوجاتے ہیں، یعنی روزانہ تقریباً 1300 بچے جبکہ ان میں سے کئی اموات قابلِ تدارک ہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم پمز میں جاں بحق ہونے والے شیر خوار بچوں کو واپس نہیں لاسکتے لیکن ہمیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ آئندہ کسی بچے کی جان بچائی جاسکے۔

وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ اگر حکومت اس سانحے سے سبق حاصل کرنے اور بامعنی تبدیلی لانے میں ناکام رہتی ہے تو محض تقاریر یا اظہارِ افسوس کی کوئی خاص اہمیت نہیں۔

انہوں نے کہا کہ آغاز مجھ سے کریں۔ انہوں نے خود کو احتساب کے لیے پیش کرتے ہوئے پوری وزارتِ صحت کو جانچ پڑتال اور جواب دہی کے لیے پیش کردیا۔

وزیر صحت نے نظام میں موجود سنگین خامیوں کا بھی اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ صرف نااہل افراد کو ہٹانے سے شعبہ صحت کو درپیش وسیع تر ادارہ جاتی مسائل حل نہیں ہوں گے۔

پمز آتشزدگی کی تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ آج بعد ازاں پیش کیے جانے کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ارکان پارلیمنٹ کو رپورٹ کے نتائج پر کوئی تحفظات ہیں تو حکومت ان کی بات سننے کے لیے تیار ہے۔

قومی اسمبلی کا سخت کارروائی اور مؤثر فائر سیفٹی اقدامات کا مطالبہ

دریں اثنا قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی جس میں اسلام آباد کے پمز میں حالیہ آتشزدگی کے نتیجے میں 14 شیر خوار بچوں کی اموات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا۔

قرارداد وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے اطلاعات و نشریات دانیال چوہدری پیش کی جس میں معصوم بچوں کی جانوں کے ضیاع کا باعث بننے والی مبینہ غفلت اور حفاظتی اقدامات میں کوتاہی پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔

قومی اسمبلی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ غفلت یا حفاظتی انتظامات میں کوتاہی کا ذمہ دار پائے جانے والے کسی بھی شخص کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔

قرارداد میں حکومت پر زور دیا گیا کہ وفاقی سرکاری اسپتالوں، بالخصوص شیر خوار اور بچوں کے یونٹس میں فائر سیفٹی اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے اقدامات پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام ہوسکے۔

قومی اسمبلی نے جاں بحق بچوں کے اہلخانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ان کے لیے صبر و حوصلے کی دعا بھی کی۔