پاکستان اور برطانیہ دوطرفہ مذاکرات کے لیے باقاعدہ طریقہ کار وضع کرنے پر متفق
- اسحاق ڈار نے برطانیہ پر بین الاقوامی قانون اور سندھ طاس معاہدے کی ذمہ داریوں کی پاسداری پر زور دیا
پاکستان اور برطانیہ نے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے اور تعاون کے اہم شعبوں میں پیش رفت کا باقاعدگی سے جائزہ لینے کے لیے دونوں ممالک کی وزارتِ خارجہ کے درمیان باضابطہ مذاکرات کا ایک منظم طریقۂ کار قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
یہ اتفاقِ رائے جمعرات کو لندن میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ کے درمیان وفود کی سطح پر ہونے والے مذاکرات میں ہوا۔
دونوں جانب سے پاکستان اور برطانیہ کے تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا اور باہمی دلچسپی کے امور پر اعلیٰ سطح کے مسلسل رابطے اور قریبی رابطہ کاری کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
وزرائے خارجہ نے مشرق وسطیٰ کی بدلتی صورتحال سمیت اہم علاقائی اور عالمی پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ ڈار نے ملی بینڈ کو خطے میں پاکستان کی سفارتی اور ثالثی کی کوششوں اور ان رابطوں کے ذریعے ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا۔
ملی بینڈ نے مشرق وسطیٰ میں مذاکرات، سفارت کاری اور استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار اور سہولت کاری کی کوششوں کو سراہا۔
سندھ طاس معاہدہ، سیکیورٹی خدشات پر تبادلہ خیال
مذاکرات میں سندھ طاس معاہدے سے متعلق پیش رفت اور خطے کی سیکیورٹی صورتحال بھی زیرِ بحث آئی۔
ڈار نے بھارت کی جانب سے بین الاقوامی ذمہ داریوں کی مسلسل خلاف ورزیوں پر پاکستان کی تشویش اجاگر کرتے ہوئے بین الاقوامی قانون اور معاہداتی ذمہ داریوں کی پاسداری کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے افغان سرزمین سے پیدا ہونے والے دہشت گردی کے خطرات پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ افغانستان سے سرگرم عسکریت پسند گروہ پاکستان کے امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔
دونوں جانب سے خطے اور اس سے باہر امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے مسلسل رابطوں کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
دونوں وزرائے خارجہ نے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان دیرینہ تعلقات اور عوامی سطح پر روابط مضبوط بنانے میں پاکستانی تارکینِ وطن کے اہم کردار کا بھی اعتراف کیا۔