تونس کے ساحل پر تارکینِ وطن کی کشتی الٹ گئی، 13 افراد لاپتا
- تیونس گزشتہ کئی برس سے افریقہ سے یورپ جانے والے تارکین وطن کے لیے اہم روانگی کا مرکز رہا ہے
تارکینِ وطن کے حقوق کی تنظیم کے سربراہ نے ہفتے کو بتایا کہ تیونس کے ساحل کے قریب اٹلی جانے والی تارکین وطن کی ایک کشتی الٹنے کے نتیجے میں کم از کم 13 تیونسی شہری لاپتا ہوگئے جبکہ 2 افراد کو زندہ بچا لیا گیا۔
تیونس آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے سربراہ مصطفیٰ عبدالکبیر نے ہفتے کو بتایا کہ کشتی میں سوار کم از کم 13 افراد تاحال لاپتا ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ مقامی کشتی کے عملے نے 2 افراد کو سمندر سے نکال کر بچا لیا۔ ان میں سے ایک نے امدادی کارکنوں کو بتایا کہ کشتی الٹنے کے بعد وہ کئی گھنٹوں تک سمندر میں پھنسے رہے۔ دوسرے زندہ بچ جانے والے کی حالت تشویش ناک بتائی گئی ہے۔
تیونس گزشتہ کئی برس سے افریقہ سے یورپ جانے والے تارکین وطن کے لیے اہم روانگی کا مرکز رہا ہے۔ بہت سے تارکین وطن انتہائی گنجائش سے زیادہ بھری ہوئی یا غیر محفوظ کشتیوں کے ذریعے بحیرہ روم عبور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ 2 برس کے دوران تیونس سے یورپ جانے کی کوشش کرنے والے افراد کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اس کی بڑی وجوہات میں تیونسی حکام کی جانب سے کریک ڈاؤن اور یورپی یونین کے تعاون سے سمندری نگرانی اور سرحدی کنٹرول میں سختی شامل ہے۔