18 اگست کو حکومت کی جانب سے نیشنل الیکٹریسٹی پلان (این ای پی) 2023-27 میں ترامیم اور انٹیگریٹڈ انرجی پلان (آئی ای پی) 2027-60 کی ہائی لیول ڈیزائن رپورٹ کی منظوری اس بات کا دیرینہ اعتراف ہے کہ پاکستان کے توانائی بحران کو بجلی، گیس، پٹرولیم اور توانائی کے دیگر ذرائع کو الگ الگ پالیسی شعبوں میں تقسیم کرکے حل نہیں کیا جاسکتا۔ پہلا منصوبہ نسبتاً فوری نوعیت کا لائحہ عمل فراہم کرتا ہے جب کہ دوسرا طویل المدتی اور مختلف شعبوں کو مربوط کرنے والا فریم ورک وضع کرنے کا خواہاں ہے تاہم دونوں منصوبوں کی کامیابی کا حتمی فیصلہ اس بات سے ہوگا کہ آیا یہ کئی دہائیوں سے بدانتظامی کا شکار پاور سیکٹر کے مسائل حل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔
توانائی شعبے کی کارکردگی کا مختصر جائزہ بھی یہ واضح کرنے کے لیے کافی ہے کہ اگرچہ یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں نے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں اضافے کے لیے بھاری سرمایہ کاری کی، تاہم بجلی کی تقسیم کے نظام کی بنیادی کمزوریوں کو دور کرنے کے لیے بامعنی اقدامات نہ ہونے کے برابر رہے ہیں۔ ترسیل و تقسیم کے دوران زیادہ نقصانات، بجلی چوری، ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی تقسیم کار کمپنیاں، کمزور طرزِ حکمرانی اور نیٹ ورکس میں ناکافی سرمایہ کاری کے باعث بجلی مؤثر انداز میں بل ادا کرنے والے صارفین تک نہیں پہنچ سکی۔ نتیجتاً توانائی کا شعبہ بدانتظامی، بڑھتے ہوئے ٹیرف، دبی ہوئی طلب اور کھربوں روپے تک پہنچنے والے گردشی قرضے کے ایک شیطانی چکر کا شکار ہوگیا ہے۔ گھریلو صارفین بالخصوص کم آمدنی والے طبقے کے لیے بجلی بتدریج ناقابلِ برداشت ہوتی جارہی ہے۔ صنعت اور کاروباری شعبہ بھی اسی نوعیت کے بحران سے دوچار ہے۔ توانائی کی بے تحاشا لاگت نے مسابقتی صلاحیت کو متاثر کیا ہے جبکہ مہنگی بجلی، درآمدی ایندھن کی بلند قیمتوں اور توانائی کے غیر مؤثر نظام کے امتزاج کے باعث پاکستان کے صنعتی شعبے کو خطے میں بلند ترین لاگت کے ڈھانچوں کا سامنا ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں پیداواری سرگرمیوں میں سرمایہ کاری مزید مشکل ہوگئی ہے اور پاکستانی کاروباری ادارے عالمی برآمدی منڈیوں میں بتدریج اپنی مسابقتی حیثیت کھو رہے ہیں۔ دوسری جانب درآمدی ایندھن پر حد سے زیادہ انحصار ملکی معیشت کو عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے خطرات سے دوچار کرتا ہے اور بیرونی کھاتے پر مزید دباؤ بڑھاتا ہے۔
مجوزہ منصوبوں میں توانائی شعبے کی ان دیرینہ کمزوریوں میں سے کئی کو دور کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ نیشنل الیکٹریسٹی پلان میں ترامیم کے تحت بجلی کی پیداوار اور ترسیل میں توسیع، دور دراز علاقوں کے لیے قابلِ تجدید ذرائع سے بجلی کی فراہمی، مارکیٹ اور نظام کے بہتر انتظام، ٹیرف اصلاحات، توانائی تحفظ، ڈیجیٹلائزیشن اور رسک مینجمنٹ کو بہتر بنانے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ طویل المدتی انٹیگریٹڈ انرجی پلان اس سے بھی زیادہ وسیع اہداف رکھتا ہے جس کے تحت وفاقی و صوبائی حکومتوں اور توانائی شعبے کے تمام متعلقہ فریقوں کو ایک ہی فریم ورک میں لانے کی کوشش کی گئی ہے۔ توانائی کا تحفظ، معاشی مسابقت، مساوات اور ماحولیاتی پائیداری اس منصوبے کے چار بنیادی مقاصد ہیں جو پاکستان کی توانائی پالیسی کو وسیع تر معاشی اور ترقیاتی ترجیحات سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک مربوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ یہ مربوط طریقہ کار بہت پہلے اختیار کرلیا جانا چاہیے تھا۔ پاکستان کو قابلِ تجدید توانائی، توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز کے فروغ کے ساتھ ساتھ اپنے مقامی توانائی وسائل سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ مستقبل کی سرمایہ کاری کا فیصلہ بجلی کی طلب، ایندھن کی دستیابی، ترسیلی ضروریات اور معاشی منافع کے جامع جائزے کی بنیاد پر ہو، نہ کہ اس منتشر منصوبہ بندی کے تحت جو برسوں سے توانائی شعبے کی خصوصیت رہی ہے۔ بہتر باہمی رابطہ اور ہم آہنگی مہنگے منصوبوں کی غیر ضروری تکرار روکنے کے ساتھ ایسے سیاسی مصلحت پر مبنی سرمایہ کاری کے فیصلوں کو بھی محدود کرسکتی ہے جو بعد میں مالی بوجھ بن جاتے ہیں۔
تاہم اصل چیلنج منصوبوں کی منظوری کے بعد شروع ہوتا ہے۔ پاکستان میں پالیسیوں، منصوبوں اور اصلاحاتی خاکوں کی کوئی کمی نہیں، مسئلہ ان پر کمزور عملدرآمد، ادارہ جاتی عدم ہم آہنگی اور دور رس اصلاحات کے نفاذ سے جڑی سیاسی مشکلات کا ہے۔ مثال کے طور پر بجلی کی ترسیل و تقسیم کے نقصانات میں کمی کے لیے بجلی چوری کے خلاف کارروائی، ڈسکوز کے انتظامی امور میں بہتری اور کارکردگی کی بنیاد پر انتظامیہ کو جوابدہ بنانا ضروری ہے۔ ٹیرف اصلاحات میں بھی نظام کی ناکاریاں دور کرنا ہوں گی، محض ایک غیر مؤثر نظام کی لاگت صارفین پر منتقل کرنا کافی نہیں ہوگا۔ اسی طرح قابلِ تجدید توانائی پر زیادہ انحصار کے ساتھ ترسیلی نظام، توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت اور گرڈ میں لچک پیدا کرنے کے لیے بھی سرمایہ کاری ضروری ہے۔ لہٰذا مجوزہ فریم ورک میں قابلِ پیمائش اہداف، اداروں کی واضح ذمہ داریاں اور باقاعدہ عوامی رپورٹنگ شامل ہونی چاہیے۔ صوبوں، ریگولیٹرز اور وفاقی اداروں کو بھی مکمل طور پر جوابدہ شراکت داروں کے طور پر اس عمل کا حصہ بنانا ہوگا۔
یہاں ایک بڑا موقع موجود ہے۔ ایک مربوط توانائی پالیسی پاکستان کو بار بار پیدا ہونے والے بحرانوں سے نمٹنے کے بجائے زیادہ محفوظ، سستی اور مضبوط توانائی کا نظام تشکیل دینے کی طرف لے جا سکتی ہے۔ تاہم کوئی بھی منصوبہ خواہ کتنا ہی جامع اور دور رس کیوں نہ ہو، اگر اس پر عملدرآمد غیر مؤثر، منتشر یا ادارہ جاتی مفادات کے ٹکراؤ اور سیاسی مصلحتوں کا شکار رہے تو اس سے خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں ہوسکتے۔ لہٰذا اصل امتحان یہ ہے کہ آیا اس بار پاکستان منصوبہ بندی کو عملی کارکردگی میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے یا نہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026