تین دہائیوں میں جی ڈی پی کے تناسب سے نجی شعبے کو بینک قرضے کم ہوگئے
- جمیل احمد نے بینکوں پر زور دیا کہ وہ اپنے کاروباری ماڈلز کو زیادہ مؤثر ریٹیل ڈپازٹس جمع کرنے اور نجی شعبے کے لیے زیادہ فنانسنگ کی جانب ازسرِنو ترتیب دیں
گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) جمیل احمد نے کہا ہے کہ کمرشل بینکوں کی نجی شعبے کو فراہم کردہ قرضوں کی سطح اب بھی ابھرتی ہوئی معیشتوں کے ہم پلہ ممالک کے مقابلے میں خاصی کم ہے جبکہ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران پاکستان میں نجی شعبے کے قرضوں کا جی ڈی پی سے تناسب بھی نمایاں طور پر کم ہوا ہے۔
مرکزی بینک کے گورنر نے جمعہ کو 11ویں پاکستان بینکنگ ایوارڈز 2026 کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس رجحان [نجی شعبے کو کم قرضوں] کی واحد وجہ حکومت کی بجٹ کے لیے مالی ضروریات نہیں تھیں کیونکہ کئی ایسی ابھرتی ہوئی معیشتیں بھی موجود ہیں جہاں حکومت کا اندرونی قرض زیادہ ہونے کے باوجود نجی شعبے کے قرضوں کا جی ڈی پی سے تناسب نمایاں طور پر بلند ہے۔
انہوں نے بینکوں پر زور دیا کہ وہ اپنے کاروباری ماڈلز کو ریٹیل ڈپازٹس میں زیادہ سے زیادہ اضافہ اور نجی شعبے کو زیادہ قرضوں کی فراہمی کی جانب ازسرنو مرکوز کریں، اور کہا کہ پاکستان کی پائیدار معاشی نمو کے اگلے مرحلے میں بینکاری شعبے کا کردار نہایت اہم ہے۔
انہوں نے کہا، ’’پالیسی ساز معیشت کو مستحکم کرنے کا مشکل مرحلہ کامیابی سے مکمل کرچکے ہیں، تاہم صرف معاشی استحکام پاکستان کو بلند اور پائیدار شرح نمو کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے کافی نہیں۔ اگلے مرحلے میں بینکاری شعبے کو بالخصوص اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔‘‘
بینکاری صنعت کی مضبوطی کو اجاگر کرتے ہوئے ایس بی پی گورنر نے بتایا کہ جون 2026 کے اختتام تک بینکوں کے مجموعی اثاثے 69 کھرب روپے جبکہ ڈپازٹس 43 کھرب روپے تک پہنچ گئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ بینکوں کی منافع بخش کارکردگی مضبوط رہی، جبکہ ان کا کیپیٹل ایڈی کویسی ریشو بین الاقوامی معیارات اور ملکی ضابطہ جاتی تقاضوں، دونوں سے بدستور خاصا بلند رہا۔
تاہم جمیل احمد نے کہا کہ نمایاں نمو کے باوجود دیگر ابھرتی ہوئی منڈیوں کے مقابلے میں بینکاری شعبے کے اثاثوں اور ڈپازٹس کا جی ڈی پی میں حصہ اب بھی نسبتاً کم ہے، جبکہ ’’پاکستان میں زیرِ گردش کرنسی اور ڈپازٹس کا تناسب بدستور بلند ہے۔ نقدی پر انحصار مزید کم کرنے اور ڈپازٹ بیس کو مضبوط بنانے کی خاصی گنجائش موجود ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ مالی سال 2026 کے دوران شدید سیلاب، جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور عالمی تجارت کے غیر یقینی ماحول سمیت اندرونی و بیرونی نوعیت کے مختلف دھچکوں کے باوجود پاکستان کی معیشت نے لچک کا مظاہرہ کیا۔
جمیل احمد نے کہا کہ مہنگائی کی اوسط شرح درمیانی مدت کے ہدف کے قریب رہی، مہنگائی کی توقعات مجموعی طور پر قابو میں رہیں، جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ متوقع حد کے نچلے حصے کے قریب رہا۔
انہوں نے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی مسلسل اضافہ ہوا اور یہ جون کے اختتام کے لیے مقرر 18 ارب ڈالر کے ہدف سے خاصے تجاوز کرگئے۔ ان کے بقول ذخائر میں اضافے کا معیار بھی بہتر ہوا ہے، کیونکہ اس میں بنیادی کردار قرض لے کر ذخائر بڑھانے کے بجائے اسٹیٹ بینک کی جانب سے زرمبادلہ کی خریداری کا رہا۔