✕
کھیل

انگلینڈ نے پاکستان کو پہلے ٹیسٹ میں شکست دے کر سیریز میں 1-0 کی برتری حاصل کرلی

  • تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا دوسرا ٹیسٹ لارڈز میں کھیلا جائےگا
شائع اپ ڈیٹ

انگلینڈ نے ہیڈنگلے میں یکطرفہ پہلے ٹیسٹ میں پاکستان کو ایک اننگز اور 103 رنز سے شکست دے کر جو روٹ کی مستقل کپتان کی حیثیت سے دوسری اننگز کا شاندار آغاز کیا۔

آٹھ ہفتے قبل نیوزی لینڈ کے ہاتھوں سیریز میں شکست کے بعد انگلینڈ میں پیدا ہونے والی ہلچل، جس کے نتیجے میں بین اسٹوکس نے کپتانی چھوڑ دی تھی اور کوچ برینڈن میک کولم سے ریڈ بال کرکٹ کی ذمہ داریاں واپس لے لی گئی تھیں، انگلینڈ نے اپنی شاندار کارکردگی سے اس کا اثر زائل کردیا۔

مایوس کن کارکردگی دکھانے والی پاکستانی ٹیم کے خلاف انگلینڈ کی زبردست بالنگ کے باعث بارش سے آدھے دن سے زیادہ کا کھیل ضائع ہونے کے باوجود میچ تیسرے دن چائے سے پہلے ہی ختم ہوگیا۔

انگلینڈ نے گزشتہ روز کے اسکور میں مزید 43 رنز کا اضافہ کرکے مجموعہ 409 تک پہنچایا اور پہلی اننگز میں 238 رنز کی برتری حاصل کی، جس کے بعد اس کے فاسٹ بالرز نے پاکستانی بیٹنگ لائن کو تہس نہس کردیا۔ محمد رضوان 41 رنز کے ساتھ ٹاپ اسکورر رہے، جبکہ پاکستان کی پوری ٹیم 37.3 اوورز میں 135 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔

انگلینڈ کے جوش ٹونگ، جو ٹیسٹ میچ شروع ہونے سے صرف تین روز قبل ’دی ہنڈریڈ‘ کے فائنل میں کھیل رہے تھے، نے 43 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں جبکہ اولی رابنسن نے 29 رنز دے کر 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ دونوں کے میچ میں بالترتیب 8-89 اور 8-80 کے اعداد و شمار ان کے ٹیسٹ کیریئر کی بہترین کارکردگی ہیں۔

پاکستان نے میچ میں دوسری مرتبہ بغیر کوئی رن بنائے پہلی وکٹ گنوائی، جب اننگز کے دوسرے اوور میں امام الحق نے جوفرا آرچر کی گیند پر وکٹ کیپر جیمی اسمتھ کو کیچ دے دیا، جس کے بعد پاکستانی بیٹنگ کا زوال شروع ہوگیا۔

آرچر کے دوسرے اوور میں اذان اویس لیگ سلپ پر جو روٹ کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔ روٹ نے اس سے عین پہلے خود کو لیگ سلپ پر تعینات کیا تھا، جو ان کی عمدہ کپتانی کا ثبوت تھا۔ یہ روٹ کا 219واں ٹیسٹ کیچ تھا، جس کے ساتھ ہی انہوں نے آسٹریلیا کے اسٹیو اسمتھ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے وکٹ کیپر کے علاوہ سب سے زیادہ ٹیسٹ کیچ لینے والے فیلڈر کا اعزاز دوبارہ حاصل کرلیا۔

روٹ کی ہر چال کامیاب ثابت ہو رہی تھی۔ سعود شکیل نے ٹونگ کی گیند کو غیر معمولی بیک ورڈ اسکوائر لیگ کی جانب کھیلا، جہاں ڈین لارنس نے عمدہ ڈائیونگ کیچ لے لیا۔

جب شان مسعود 56 گیندوں پر 29 رنز بنا کر ٹونگ کی گیند پر سلپ میں بین ڈکٹ کو کیچ دے بیٹھے تو ناٹنگھم شائر کے فاسٹ بولر ٹونگ دوسری مرتبہ میچ میں ہیٹ ٹرک کے قریب پہنچ گئے۔

سلمان علی آغا نے ہیٹ ٹرک کی کوشش ناکام بنا دی، تاہم پاکستانی کپتان اسی اوور میں ایل بی ڈبلیو ہوگئے۔

انگلینڈ کے لیے ہر چیز سازگار ثابت ہو رہی تھی۔ علی عثمان نے رابنسن کی گیند وکٹ کیپر جیمی اسمتھ کے پیڈ پر لگنے سے پہلے کنارے سے لگائی، جس کے بعد گیند اچھل کر سلپ میں ڈائیونگ کرتے ہوئے کیچ لینے والے جیمی کاکس کے ہاتھوں میں چلی گئی۔

کاکس نے رابنسن کی گیند پر ایک اور شاندار کیچ لے کر خرم شہزاد کو آؤٹ کیا، جس کے بعد 50 رنز دے کر 3 وکٹیں لینے والے آرچر نے محمد عباس کو آؤٹ کرکے میچ کا خاتمہ کردیا۔

پاکستان کے لیے رواں ماہ کے آغاز میں ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز برابر کرنا محض ایک عارضی بہتری ثابت ہوا۔

دونوں ٹیموں کے فاسٹ بالنگ اٹیک کی اثر انگیزی، انگلینڈ کی کنڈیشنز میں دونوں ٹیموں کی بیٹنگ لائنز کا اطمینان اور فیلڈنگ میں پھرتی کے اعتبار سے دونوں کے درمیان واضح فرق نظر آیا۔

تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا دوسرا ٹیسٹ جمعرات کو لارڈز میں شروع ہوگا، جہاں پاکستان کو امید ہوگی کہ انگلی کی انجری سے صحت یاب ہو کر کپتان بابر اعظم ٹیم میں واپس آ جائیں گے۔