بجلی کی پیداوار میں سالانہ 7 فیصد اضافہ، فیول کاسٹ 38 فیصد بڑھ گئی
- جولائی 2025 میں بجلی کی پیداوار 14,123 گیگاواٹ آور رہی
جولائی 2026 کے دوران بجلی کی پیداوار 15,112 گیگاواٹ آور رہی جو جولائی 2025 کے مقابلے میں سالانہ 7 فیصد زیادہ ہے۔
جولائی 2025 میں بجلی کی پیداوار 14,123 گیگاواٹ آور رہی تھی۔
عارف حبیب لمیٹڈ نے منگل کو جاری کردہ ایک نوٹ میں کہا کہ بجلی کی پیداوار جولائی کے کسی بھی ماہ کے مقابلے میں دوسری بلند ترین سطح پر رہی جس کی وجہ پانی اور مقامی و درآمدی کوئلے سے بجلی کی پیداوار کا تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچنا ہے۔
بجلی کی پیداوار میں ماہانہ 13 فیصد اضافہ ہوا جو جون 2026 میں 13,431 گیگاواٹ آور کے مقابلے میں جولائی میں بڑھ کر 15,112 گیگاواٹ آور ہوگئی۔
دوسری جانب بجلی پیدا کرنے کی مجموعی لاگت سالانہ 38 فیصد بڑھ کر جولائی 2026 میں 10.75 روپے فی کلوواٹ آور ہوگئی جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 7.78 روپے فی کلوواٹ آور تھی۔
بجلی کی پیداوار کی بلند لاگت کی وجہ آر ایل این جی اور فرنس آئل کے زیادہ استعمال، اس میں اسپاٹ آر ایل این جی کارگوز پر انحصار جب کہ بلند عالمی تیل کی قیمتوں نے بھی بجلی پیدا کرنے کی لاگت میں مزید اضافہ کیا۔
اے ایچ ایل نے کہا کہ نتیجتاً ڈسکوز نے جولائی 2026 کے لیے 2.52 روپے فی کلوواٹ آور کے مثبت فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کی درخواست کی جو جون 2024 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔
ماہانہ بنیادوں پر بھی بجلی کی پیداوار کی لاگت میں 20 فیصد اضافہ ہوا جو جون 2026 میں 8.99 روپے فی کلوواٹ آور کے مقابلے میں جولائی 2026 میں بڑھ کر 10.75 روپے فی کلوواٹ آور ہوگئی۔
جولائی میں پن بجلی بجلی پیدا کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ رہی جس نے مجموعی بجلی پیداوار میں 39.8 فیصد حصہ ڈالا۔
اس کے بعد کوئلے سے بجلی پیدا ہوئی جس کا مجموعی پیداوار میں 25.2 فیصد حصہ رہا۔ اس کے بعد آر ایل این جی کا نمبر آیا جس کا بجلی کی مجموعی پیداوار میں 10.8 فیصد حصہ تھا جبکہ نیوکلیئر اور گیس سے بجلی کی پیداوار کے حصص بالترتیب 10.1 فیصد اور 6.5 فیصد رہے۔
اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ آر ایل این جی سے بجلی کی پیداوار سالانہ 33 فیصد کم ہوئی جبکہ اس کے ایندھن کی لاگت سالانہ 115 فیصد اور ماہانہ 33 فیصد بڑھ گئی۔
قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع میں ہوا سے بجلی کی پیداوار کا مجموعی بجلی پیداوار میں 4.5 فیصد جبکہ شمسی توانائی کا حصہ 0.7 فیصد رہا۔