اسٹیٹ بینک کا ریگولیٹری سینڈ باکس اور عالمی اے آئی ضوابط کے اثرات
- دنیا بھر میں ریگولیٹری سینڈ باکسز کو مرکزی بینک اور دیگر ریگولیٹری ادارے لائیو لیبارٹریز کے طور پر استعمال کرتے ہیں
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنی ویژن 2028 حکمت عملی کے تحت 2025 کے اواخر میں مالیاتی خدمات کے لیے ملک کا پہلا ریگولیٹری سینڈ باکس شروع کیا۔ لائسنس یافتہ اور غیر لائسنس یافتہ دونوں اداروں کو اس پہلے مرحلے میں درخواست دینے کی دعوت دی گئی، جہاں وہ ایک کنٹرول شدہ ریگولیٹری ماحول میں حقیقی صارفین کے ڈیٹا کے ساتھ اپنی جدید مصنوعات کی آزمائش کرسکیں گے۔
ریگولیٹر نے 2026 کے اوائل میں شارٹ لسٹ کیے گئے شرکا کی تفصیلات جاری کیں۔ اس گروپ میں فن ٹیک فراہم کنندگان اور نجی بینک شامل ہیں، جن کی مصنوعات تین اہم سروس کیٹیگریز، یعنی ٹیکنالوجی سے فعال ترسیلاتِ زر، اوپن بینکنگ اور ریموٹ مرچنٹ آن بورڈنگ سے متعلق ہیں۔
دنیا بھر میں ریگولیٹری سینڈ باکسز کو مرکزی بینک اور دیگر ریگولیٹری ادارے لائیو لیبارٹریز کے طور پر استعمال کرتے ہیں تاکہ مصنوعی ذہانت (اے آئی)، مشین لرننگ اور بلاک چین جیسی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کا جائزہ لے کر ان کے ضابطے کے لیے شواہد پر مبنی پالیسیاں تیار کی جاسکیں۔
اسٹیٹ بینک نے ریگولیٹری سینڈ باکس ایک واضح روڈ میپ اور مرحلہ وار اجرا کی حکمت عملی کے ساتھ شروع کیا ہے۔ توقع ہے کہ مرکزی بینک بالآخر ملک کے لیے جدید ٹیکنالوجی گورننس کے رہنما اصول تشکیل دے گا، کیونکہ وفاقی حکومت مالیاتی اور غیر مالیاتی دونوں شعبوں میں ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کو منظم کرنے کے لیے بدستور فرسودہ قانونی ڈھانچوں پر انحصار کررہی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے ریگولیٹری سینڈ باکس کا آغاز ریگولیٹر اور اس میں شریک اداروں دونوں کے لیے بروقت ہے، ان وجوہات کی بنا پر جن کا سینڈ باکس کی درخواستیں جاری ہونے سے قبل بہت کم لوگوں نے اندازہ لگایا تھا۔
اسٹیٹ بینک کے ریگولیٹری سینڈ باکس کا آغاز ایسے وقت ہوا ہے جب دنیا کے دوسرے حصے میں یورپی یونین (ای یو) میں اے آئی کے حوالے سے غیر معمولی ریگولیٹری پیش رفت ہورہی ہے۔ اگرچہ پاکستانی کمپنیاں براہ راست یورپی یونین کے ضوابط کی پابند نہیں ہیں، لیکن جن تھرڈ پارٹی سروس فراہم کنندگان سے وہ خدمات حاصل کرتی ہیں، وہ یقیناً ان ضوابط کے پابند ہیں۔
پاکستان کا بینکاری شعبہ اپنے بنیادی بینکاری پلیٹ فارمز، ڈیجیٹل کسٹمر پورٹلز اور الیکٹرانک ادائیگیوں کی پروسیسنگ کے انتظام کے لیے بین الاقوامی ٹیکنالوجی فراہم کنندگان، جیسے ٹیمینوس، اوریکل اور سیلز فورس پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ ان میں سے بہت سے فراہم کنندگان یا تو یورپی یونین میں ہیڈکوارٹر رکھتے ہیں یا وہاں بڑے پیمانے پر کاروبار کرتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ یورپی یونین اے آئی ایکٹ کے تحت ٹیکنالوجی سروس فراہم کنندگان کے لیے مقرر کردہ ذمہ داریوں کے براہ راست پابند ہیں۔
یورپی یونین اے آئی ایکٹ کو اختیاری تعمیلی فریم ورک کے طور پر متعارف نہیں کرایا گیا۔ اس کے بجائے یہ اے آئی کے لیے ایک مکمل نئے گورننس ڈھانچے کو لازمی قرار دیتا ہے۔ اس میں شفافیت کے تقاضے، نظام میں انسانی نگرانی کے لیے میکانزم اور زیادہ خطرے والے اے آئی سسٹمز کی مسلسل نگرانی شامل ہے۔ یورپی یونین میں ہیڈکوارٹر رکھنے والے اے آئی سروس فراہم کنندگان پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ان لازمی تعمیلی تقاضوں کو پورا کرنے کی کوشش میں ان کے آپریشنل اخراجات میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔
ویلیو چین اکنامکس کی ایک کلاسک مثال کے طور پر سروس فراہم کنندگان یہ اضافی آپریشنل اخراجات خود برداشت نہیں کریں گے۔ اس کے بجائے یہ بوجھ ان کے صارفین تک منتقل کیا جائے گا۔ ان کے کلائنٹس کو بڑھتی ہوئی لائسنس فیس، سبسکرپشنز یا عملدرآمد کے اضافی اخراجات کی صورت میں اضافی لاگت برداشت کرنا پڑے گی۔ اس کا اثر صرف یورپی یونین کے صارفین تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پوری دنیا میں اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔
ایک مؤثر عالمی ٹیکنالوجی مارکیٹ میں توقع کی جاسکتی ہے کہ وینڈرز مصنوعات کی 2 الگ لائنیں تیار کریں، ایک یورپی یونین کے صارفین کے لیے اور دوسری بیرون ملک صارفین کے لیے۔ یورپی یونین اے آئی ایکٹ کے باعث بڑھنے والے آپریشنل اخراجات صرف ان کلائنٹس تک محدود رہنے چاہئیں جو یورپی یونین میں کاروبار کررہے ہیں۔ تاہم مارکیٹ منصفانہ نہیں ہے اور مختلف دائرہ ہائے اختیار میں لاگت کو الگ رکھنے میں شاذ و نادر ہی کامیاب رہی ہے۔
اس رجحان کو تاریخ دان اور جدید دور کے ماہرین برسلز ایفیکٹ کہتے ہیں، جس کی بنیاد اس تصور پر ہے کہ یورپی مارکیٹ کا حجم اور قوتِ خرید اتنی زیادہ ہے کہ اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
کثیر القومی کمپنیوں اور ٹیکنالوجی سلوشن فراہم کنندگان کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ مختلف مارکیٹوں اور ان کے مختلف ریگولیٹری معیارات کے مطابق مصنوعات کی الگ اقسام تیار کرنے کے بجائے اپنی مصنوعات کو یورپی یونین کے معیارات سے ہم آہنگ کیا جائے۔ یورپی یونین کے ضوابط عملاً عالمی معیار بن جاتے ہیں اور غیر یورپی ممالک میں رہنے والے صارفین کو بھی ان مصنوعات کے لیے وہی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے جو یورپین یونین میں موجود صارفین سے لی جاتی ہے، کیونکہ مصنوعات یورپی یونین اے آئی ایکٹ کے مطابق بنائی جاتی ہیں۔
پاکستان کے مالیاتی ادارے جو یورپی یونین سے درآمد شدہ سافٹ ویئر اور سرحد پار کلاؤڈ انفرااسٹرکچر استعمال کرتے ہیں، انہیں ان بین الاقوامی سروس فراہم کنندگان کی جانب سے خدمات کی بڑھتی ہوئی لاگت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اسٹیٹ بینک کا ریگولیٹری سینڈ باکس پاکستانی بینکوں کے لیے کم لاگت والے متبادل حل تیار کرنے اور مقامی مالیاتی اداروں کو ریگولیٹری اثرات کے پھیلاؤ اور بڑھتے ہوئے اخراجات سے تحفظ فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
پالیسی سفارش
درآمد شدہ سافٹ ویئر اور خدمات کی متوقع بڑھتی ہوئی لاگت صرف ان کے اے آئی اجزا سے متعلق ہوگی، جبکہ ان کے معیاری ورژنز متاثر نہیں ہوں گے۔ یورپی یونین کے اے آئی ضوابط کی وجہ سے آنے والی تعمیلی لاگت کو پیشگی طور پر منظم کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک اپنے ریگولیٹری سینڈ باکس کو استعمال کرتے ہوئے اسٹارٹ اپس اور فن ٹیکس کو مقامی بینکوں کے لیے اے آئی ایڈ آنز تیار کرنے کی ترغیب دے سکتا ہے۔ ان میں کے وائے سی/اے ایم ایل، فراڈ کی نشاندہی، کریڈٹ اسکورنگ اور ٹرانزیکشن مانیٹرنگ کے لیے مقامی اے آئی ماڈیولز شامل ہوسکتے ہیں۔
پاکستانی بینک درآمد شدہ سافٹ ویئر پر اپنے بنیادی بینکاری نظام چلاتے اور اپنے انفرااسٹرکچر کا انتظام کرتے رہ سکتے ہیں۔ تاہم انہیں چاہیے کہ وہ فن ٹیکس کی جانب سے تیار کردہ کمپوننٹ لیول اے آئی فنکشنلٹی اپنانے کی ترغیب دیں، بشرطیکہ ان اے آئی حلوں کو اسٹیٹ بینک کے ریگولیٹری سینڈ باکس میں کامیابی سے آزمایا جاچکا ہو۔ یہ حکمت عملی بینکوں کو آپریشنل تسلسل برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ آنے والی تعمیلی لاگت کے اثرات سے خود کو محفوظ رکھنے میں مدد دے گی۔
یہ مضمون ضروری نہیں کہ بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کی رائے کی عکاسی کرتا ہو۔