مارکٹس

سونے سے آگے توسیع: نئے نام سے متعارف ’اثاثہ‘ پاکستان کی ’سیونگ سپر ایپ‘ بننے کا خواہاں

  • اثاثہ ڈیجیٹل گولڈ سیونگ پلیٹ فارم ہے، جس نے حال ہی میں زریہ سے ری برانڈ ہو کر اپنا نام اثاثہ رکھا ہے
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان میں ڈیجیٹل گولڈ سیونگ پلیٹ فارم اثاثہ (Asasa) نے، جو حال ہی میں ’زریہ‘ (Zariah) سے نئے نام کے ساتھ متعارف ہوا ہے، سونے سے آگے بڑھتے ہوئے اپنی خدمات کو مختلف مالیاتی مصنوعات تک وسعت دینے اور ملک کی ’سیونگ سپر ایپ‘ بننے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

چند ماہ کے دوران پری لانچ ڈیولپمنٹ سے کنٹرولڈ رول آؤٹ مرحلے میں داخل ہونے والے اس اسٹارٹ اپ کا کہنا ہے کہ سونا اس وسیع حکمت عملی کا پہلا قدم ہے، جس کا مقصد پاکستانیوں میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے باقاعدگی سے بچت کرنے کا رجحان فروغ دینا ہے۔

اثاثہ کے بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر عادل سلیم نے بزنس ریکارڈر سے خصوصی گفتگو میں کہا، ’’قلیل مدت میں ہماری توجہ سونے میں بچت کو عام کرنے پر ہے، تاکہ لاکھوں پاکستانیوں کو سونا رکھنے کا آسان، شفاف اور کم لاگت طریقہ فراہم کیا جاسکے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ طویل مدت میں اثاثہ کو پاکستان کی ’سیونگ سپر ایپ‘ میں تبدیل کرنے کا تصور پیش نظر ہے۔

عادل سلیم کے مطابق اثاثہ ایپ کے ذریعے صارفین کم از کم ایک ہزار روپے سے سونا خرید سکتے ہیں، جبکہ خریداری مارکیٹ سے منسلک لائیو قیمتوں پر کی جاتی ہے اور صارفین کی ملکیت میں موجود سونے کو حقیقی سونے کے ذخائر کی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے۔

کمپنی پہلے ’زریہ‘ کے نام سے کام کرتی تھی اور اکتوبر 2025 میں بزنس ریکارڈر سے گفتگو کے وقت اس کا منصوبہ 500 روپے سے 24 قیراط فزیکل گولڈ میں سرمایہ کاری کی سہولت فراہم کرنا تھا۔ اس وقت پلیٹ فارم پری لانچ مرحلے میں تھا اور اسٹریٹجک شراکت داروں اور سرمایہ کاروں کے ساتھ بات چیت جاری تھی۔

سلیم نے بتایا کہ ’زریہ‘ کو ’اثاثہ‘ کے نام سے ری برانڈ کرنے کا فیصلہ کمپنی کے ابتدائی ڈیجیٹل گولڈ ماڈل سے آگے بڑھنے کے وسیع تر عزائم کی عکاسی کرتا ہے۔ ’اثاثہ‘ اردو لفظ ’اثاثہ‘ سے ماخوذ ہے، جس کے معنی ملکیت یا سرمایہ ہیں۔

ان کے بقول، ’’سونا تو صرف آغاز ہے۔‘‘ اسٹارٹ اپ خود کو ایک ایسے سیونگ پلیٹ فارم کے طور پر ترقی دینے کا خواہاں ہے جو قابلِ اعتماد بچت مصنوعات اور حقیقی اثاثوں کے ذریعے لوگوں کو اپنے مالی مستقبل کی تعمیر اور تحفظ میں مدد دے سکے۔

انہوں نے بتایا کہ اثاثہ اس وقت کنٹرولڈ رول آؤٹ کے مرحلے میں ہے۔ تیز رفتار توسیع کے بجائے کمپنی پہلے اپنی آپریشنز کو جانچنے، صارفین سے فیڈ بیک لینے اور اس بات کو یقینی بنانے پر توجہ دے رہی ہے کہ بڑے پیمانے پر توسیع سے قبل پلیٹ فارم کا ہر پہلو قابلِ اعتماد انداز میں کام کرے۔

صارفین مرحلہ وار ایپ میں شامل ہوتے ہیں، جبکہ 10 دوستوں کو ریفر کرنے والے افراد شناخت کی تصدیق مکمل کرنے کے بعد قبل از وقت رسائی حاصل کرکے پلیٹ فارم سے سونا خرید سکتے ہیں۔

سلیم کے مطابق کمپنی کا مقصد سونا رکھنے کی روایتی رکاوٹیں دور کرنا اور صارفین کو یہ اعتماد دینا ہے کہ ان کی ملکیت حقیقی اور مکمل طور پر محفوظ سونے سے منسلک ہے۔

اثاثہ نے کم از کم سرمایہ کاری کی حد بھی ابتدائی طور پر مقرر کردہ 500 روپے سے بڑھا کر ایک ہزار روپے کردی ہے۔ سلیم نے کہا کہ یہ فیصلہ آپریشنل کارکردگی اور صارفین کے رویے کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا۔

ان کے مطابق ابتدائی صارفین کے تجربے سے معلوم ہوا کہ 500 روپے کی رقم آسان رسائی اور بامعنی بچت کی عادت پیدا کرنے کے درمیان مطلوبہ توازن قائم نہیں کرتی، جبکہ ایک ہزار روپے اس مقصد کے لیے زیادہ موزوں ہیں۔

کمپنی سونے کی خرید و فروخت کی قیمتوں کے درمیان معمولی فرق کے ذریعے آمدنی حاصل کرتی ہے، جس کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ اس سے سونے کی خریداری، ٹیکنالوجی، آپریشنز اور دیکھ بھال کے اخراجات پورے ہوتے ہیں۔

اثاثہ کے لیے طویل مدت میں اصل موقع سونے کو صارفین کو وسیع تر ڈیجیٹل سیونگ ایکو سسٹم سے متعارف کرانے کے ذریعے پیدا کرنا ہے۔

سلیم نے کہا کہ ’’ہماری کوشش جیولرز کی جگہ لینا نہیں بلکہ ایک مختلف مسئلے کا حل فراہم کرنا ہے۔‘‘ ان کے مطابق ڈیجیٹل ملکیت کے ذریعے صارفین کم رقم سے آغاز کرسکتے ہیں، روایتی خدشات سے بچ سکتے ہیں اور سونے کی خرید و فروخت زیادہ سہولت کے ساتھ کرسکتے ہیں۔

اثاثہ مستقبل میں فزیکل سونے کی ڈیلیوری کی سہولت بھی متعارف کرانے کا ارادہ رکھتا ہے، جس سے صارفین کو اپنی ڈیجیٹل ملکیت کو حقیقی سونے میں تبدیل کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔

اسٹارٹ اپ کا خیال ہے کہ زیادہ سہولت اور کم ابتدائی سرمایہ کاری کے باعث بچت کو روزمرہ کی باقاعدہ عادت میں تبدیل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ سلیم کے مطابق اس طرح لاکھوں پاکستانیوں میں ’’منظم انداز سے بچت کرنے کی عادت‘‘ پروان چڑھائی جاسکتی ہے۔