پاکستان

صدر مملکت کی جانب سے اہلکاروں کو فوجی اعزازات دینے کی منظوری

  • 23 ہلالِ امتیاز (ملٹری)، 112 ستارۂ امتیاز (ملٹری)، 128 تمغۂ امتیاز (ملٹری) 6 تمغۂ بسالت اور 32 امتیازی اسناد شامل
شائع اپ ڈیٹ

انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے یومِ آزادی کے موقع پر پاک فوج، پاک بحریہ اور پاک فضائیہ کے افسران اور اہلکاروں کے لیے بڑی تعداد میں عسکری اعزازات کی منظوری دے دی ہے۔

فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے مطابق ان اعزازات میں 23 ہلالِ امتیاز (ملٹری)، 112 ستارۂ امتیاز (ملٹری)، 128 تمغۂ امتیاز (ملٹری) 6 تمغۂ بسالت اور 32 امتیازی اسناد شامل ہیں۔

صدرِ مملکت نے یہ اعزازات حکومت کی جانب سے بھیجی گئی سفارشات کی منظوری دیتے ہوئے عطا کرنے کی منظوری دی۔

ہلالِ امتیاز (ملٹری) حاصل کرنے والوں میں پاک فوج کے 17 میجر جنرلز، پاک بحریہ کے 3 ریئر ایڈمرلز اور پاک فضائیہ کے 3 ایئر وائس مارشلز شامل ہیں۔

اعزاز حاصل کرنے والوں میں میجر جنرل سعد العبد، میجر جنرل فہام بن سلطان، میجر جنرل سید امتیاز حسین گیلانی، میجر جنرل احمد جواد، میجر جنرل عدنان سلطان، میجر جنرل تجدید ممتاز، میجر جنرل بلال سرفراز خان، میجر جنرل عثمان فاروق کیانی، میجر جنرل خرم شبیر، میجر جنرل محمد سعید انور خان، میجر جنرل فیصل سعود، میجر جنرل عابد مظہر، میجر جنرل شہریار منیر حفیظ، میجر جنرل شہریار قریشی، میجر جنرل وقار مظفر، میجر جنرل ناصر علی اور میجر جنرل محمد فرید شامل ہیں۔

پاک بحریہ کی جانب سے ہلالِ امتیاز (ملٹری) حاصل کرنے والوں میں ریئر ایڈمرل محمد شاہنواز خان، ریئر ایڈمرل عاصم سہیل ملک اور ریئر ایڈمرل سہیل احمد اعظمی شامل ہیں جبکہ پاک فضائیہ کے ایئر وائس مارشل فاروق ضمیر آفریدی، ایئر وائس مارشل حکیم رضا اور ایئر وائس مارشل احمد جنید کو بھی یہ اعزاز دیا گیا ہے۔

بریگیڈیئرز اور کرنلز سمیت پاک فوج کے ایک بڑی تعداد میں افسران کے ساتھ ساتھ پاک بحریہ اور پاک فضائیہ کے سینئر افسران کو بھی ستارہ امتیاز (ملٹری) سے نوازا گیا ہے۔

اس فہرست میں مسلح افواج کی مختلف شاخوں اور فارمیشنز سے تعلق رکھنے والے افسران شامل ہیں، جن میں انفنٹری، آرٹلری، ایوی ایشن، انجینئرنگ، سگنلز، میڈیکل، لاجسٹکس اور دیگر خصوصی خدمات شامل ہیں۔ متعدد خواتین افسران کو بھی اعزاز سے نوازا گیا ہے جن میں بریگیڈیئر سیدہ شازیہ مسوّر، بریگیڈیئر عائشہ ابوبکر میتھا، کرنل عظمیٰ نعیم، کرنل منور بیگم اور پاک فوج کی آرمڈ فورسز نرسنگ سروس سے تعلق رکھنے والی متعدد افسران شامل ہیں۔

پاک بحریہ کے اعزاز حاصل کرنے والوں میں کموڈور سید غلام اکبر شاہ بخاری، عتیق احمد خان، فضل الرحمٰن، جاوید لطیف خان، ملک محمد عمران، محمد قمر نواز، عاطف گل، محمد ہارون، سید معیز الحق، محمد عظیم عباسی، غزنفر علی، محمد یاسر طاہر، رمیز نیاز اور عدنان لغاری شامل ہیں۔

پاک فضائیہ کے اعزاز حاصل کرنے والوں میں ایئر کموڈور حسن خالد، محمد ناصر ضیا، رضوان وقار ستی، ثاقب اطہر دل، محمد جنید مقبول ملک، محمد حسن طفیل، شہزاد نواب، محمد آصف بھٹی، محمد جواد عظیم، عمران حسین عثمانی، سید علی عمران، محمد عمر امین، خالد سعید، عبدالرحمٰن، محمد حنیف وزیر خان، ایس انوار حسین کاظمی، رفعت مسعود، شہزاد علی، حماد درانی، زاہد مقبول احمد اور محمد اکبر کھوکھر شامل ہیں۔

تمغۂ امتیاز (ملٹری) پاک فوج، پاک بحریہ اور پاک فضائیہ کے افسران کو عطا کیا گیا ہے جن میں لیفٹیننٹ کرنلز، میجرز، کمانڈرز، گروپ کیپٹنز اور ونگ کمانڈرز شامل ہیں۔

اعزاز حاصل کرنے والوں میں جنگی اور معاون شعبوں، ایوی ایشن، انجینئرنگ، سگنلز، آرٹلری، میڈیکل، لاجسٹکس، نرسنگ اور دیگر خصوصی شعبوں میں خدمات انجام دینے والے افسران شامل ہیں۔

پاک بحریہ کے چھ اہلکاروں کو تمغۂ بسالت سے بھی نوازا گیا۔ ان میں کیپٹن شجاعت عباس رضا، کمانڈر علی محمد، لیفٹیننٹ کمانڈر سلمان جاوید، لیفٹیننٹ کمانڈر افتخار احمد، ولادت حسین اور محمد رمضان شامل ہیں۔

امتیازی سند پاک بحریہ اور پاک فضائیہ کے 32 افسران اور اہلکاروں کو دی گئی ہے جن میں ریئر ایڈمرل شاہد واصف، پاک بحریہ کے متعدد اعلیٰ افسران اور پاک فضائیہ کے گروپ کیپٹن، ونگ کمانڈر، اسکواڈرن لیڈر اور فلائٹ لیفٹیننٹ کے عہدوں پر فائز افسران شامل ہیں۔

ایوانِ صدر نے جمعہ کو تصدیق کی کہ صدر آصف علی زرداری نے وزیراعظم کی جانب سے بھیجی گئی متعدد سمریوں کی منظوری دے دی ہے جن میں مسلح افواج اور سول آرمڈ فورسز کے 1,172 اہلکاروں کے لیے عسکری اعزازات بھی شامل ہیں۔

ایوانِ صدر نے یہ بھی بتایا کہ صدر زرداری نے یومِ آزادی اور عید میلادالنبی ﷺ کے موقع پر مستحق قیدیوں کی سزاؤں میں 100 روز کی خصوصی کمی کی منظوری دی، جبکہ مختلف شعبوں سے وابستہ شہریوں کے لیے قومی اعزازات کی بھی منظوری دی گئی۔

علاوہ ازیں صدر مملکت نے 17 اگست کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس بلانے کی بھی منظوری دی۔ قومی اسمبلی کا اجلاس شام 5 بجے جبکہ سینیٹ کا اجلاس شام 4 بجے ہوگا۔