چندرا شیکھرن کے عہدہ چھوڑنے کے فیصلے پر بھارت میں ٹاٹا گروپ کے حصص گر گئے
- بھارت کی سب سے بڑی آئی ٹی سروسز برآمد کنندہ کمپنی ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز کے حصص 3.9 فیصد گر گئے
ٹاٹا گروپ کی کمپنیوں کے حصص بدھ کو گر گئے، جب این چندرا شیکھرن نے اعلان کیا کہ وہ ٹاٹا سنز کے چیئرمین کی حیثیت سے دوبارہ تقرری کے خواہاں نہیں ہیں۔ اس فیصلے سے بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ میں غیر یقینی صورتحال مزید بڑھ گئی ہے، جو پہلے ہی ریگولیٹری جانچ پڑتال سے لے کر قیمتوں کے دباؤ تک مختلف مسائل سے دوچار ہے۔
بھارت کی سب سے بڑی آئی ٹی سروسز برآمد کنندہ کمپنی ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز کے حصص 3.9 فیصد گر گئے اور نِفٹی میں سب سے زیادہ خسارے کا شکار رہے، جس کے نتیجے میں بینچ مارک انڈیکسز بھی دباؤ میں آگئے۔
جگوار لینڈ روور کی مالک کمپنی ٹاٹا موٹرز پیسنجر وہیکلز کے حصص 1.3 فیصد کمی کے ساتھ بند ہوئے، جبکہ زیورات بنانے والی کمپنی ٹائٹن اور ٹاٹا اسٹیل کے حصص بالترتیب 0.6 فیصد اور 1.1 فیصد گر گئے۔
تاہم تمام مذکورہ حصص کاروبار کے دوران کی کم ترین سطح سے کچھ بہتری کے ساتھ بند ہوئے۔
چندرا شیکھرن نے اپنے فیصلے کی وجہ بورڈ کی جانب سے مطلوبہ حمایت نہ ملنے کو قرار دیا۔ ان کا یہ فیصلہ ٹاٹا ٹرسٹس کے ساتھ کئی ماہ سے جاری کشیدگی کے بعد سامنے آیا ہے۔ ٹاٹا ٹرسٹس ایک فلاحی ادارہ ہے جو ٹاٹا سنز کے 66 فیصد حصص کا مالک ہے، جبکہ ٹاٹا سنز کے زیرِ کنٹرول ٹاٹا گروپ کی 30 سے زائد کمپنیاں ہیں۔
دونوں فریقوں کے درمیان ٹاٹا سنز کو اسٹاک ایکسچینج میں لسٹ کرنے کے امکان، ایئر انڈیا کے خسارے، ایک اقلیتی حصص دار کے منصوبہ بند اخراج اور بورڈ میں نمائندگی سمیت متعدد معاملات پر اختلافات رہے ہیں۔
ممبئی سے تعلق رکھنے والے مارکیٹ تجزیہ کار امبریش بالیگا نے کہا، ’’یہ فوری اور جذباتی ردعمل ہے، کیونکہ چندرا طویل عرصے سے قیادت کر رہے ہیں۔ تاہم جیسے ہی نئے چیئرمین کا اعلان ہوگا، کاروبار معمول کے مطابق دوبارہ چل پڑے گا۔‘‘
گزشتہ ایک برس کے دوران اس کاروباری گروپ کو کئی مشکلات کا سامنا رہا ہے، جن میں ایک ہلاکت خیز طیارہ حادثے کے بعد ایئر انڈیا کو درپیش ریگولیٹری جانچ پڑتال، ٹی سی ایس پر قیمتوں کا دباؤ اور جے ایل آر پر سائبر حملہ شامل ہیں۔ سائبر حملے کے باعث کمپنی کی پیداوار متاثر ہوئی اور برطانیہ کی معاشی پیداوار پر بھی منفی اثر پڑا۔
چندرا شیکھرن کے فیصلے سے براہِ راست واقف ایک ذریعے نے رائٹرز کو بتایا کہ اختلافات ہی ان کے استعفے کی واحد وجہ تھے۔
2026 کے آغاز سے اب تک ٹی سی ایس کے حصص 25.6 فیصد گر چکے ہیں، جبکہ ٹاٹا موٹرز پیسنجر وہیکلز کے حصص میں 6.6 فیصد کمی ہوئی ہے۔ دوسری جانب ٹاٹا اسٹیل کے حصص 3.4 فیصد بڑھے ہیں، جبکہ ٹائٹن کے حصص میں 26 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
بالیگا نے کہا، ’’ہم ٹاٹا گروپ میں اس سے قبل بھی غیر یقینی کے ایسے ادوار دیکھ چکے ہیں، جب 1990 کی دہائی کے اوائل میں رتن ٹاٹا نے قیادت سنبھالی تھی اور حالیہ دور میں سائرس مستری کے تنازع کے دوران بھی ایسی صورتحال پیدا ہوئی تھی، لیکن گروپ نے ہمیشہ ان حالات سے نکلنے کا راستہ نکالا۔ اس لیے اس بار بھی صورتحال مختلف نہیں ہونی چاہیے۔‘‘