بی آر ریسرچ

ثنا انڈسٹریز لمیٹڈ: کارکردگی اور مستقبل کا منظرنامہ

  • توانائی کی لاگت میں کمی اور درآمدی مصنوعات کے بڑھتے مقابلے کا مقابلہ کرنے کے لیے ثنا انڈسٹریز سولر پاور میں توسیع اور جنوبی مارکیٹ پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔
شائع اپ ڈیٹ

ثنا انڈسٹریز لمیٹڈ (پی ایس ایکس: ایس این اے آئی) کو 1985 میں پبلک لمیٹڈ کمپنی کے طور پر قائم کیا گیا۔ کمپنی کا بنیادی کاروبار مصنوعی اور مخلوط یارن کی تیاری اور فروخت ہے جبکہ یہ ثناء اللہ گروپ آف کمپنیز کا حصہ ہے۔

حصص کی ملکیت

30 جون 2025 تک ایس این اے آئی کے مجموعی طور پر 19.965 ملین جاری شدہ حصص تھے، جو 619 شیئر ہولڈرز کے پاس تھے۔ کمپنی کے ڈائریکٹرز، ان کی بیگمات اور کم عمر بچوں کے پاس مجموعی حصص کا 64.81 فیصد اکثریتی حصہ تھا، جبکہ مقامی عام سرمایہ کاروں کے پاس 29.92 فیصد حصص تھے۔

مضاربہ کمپنیوں اور میوچل فنڈز کے پاس کمپنی کے 3.35 فیصد حصص تھے، جبکہ باقی حصص دیگر کیٹیگریز کے سرمایہ کاروں کے پاس تھے۔

تاریخی کارکردگی (2021-25)

زیرِ جائزہ مدت کے دوران 2025 کو چھوڑ کر ایس این اے آئی کی ٹاپ لائن میں مجموعی طور پر اضافے کا رجحان رہا۔ کمپنی کو 2023 اور 2024 میں خالص خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔ 2021 میں کمپنی کے مارجنز میں بہتری آئی، تاہم 2022 میں مجموعی مارجن میں کمی کے باوجود آپریٹنگ اور نیٹ مارجنز میں اضافہ جاری رہا۔ 2023 میں کمپنی کے مارجنز اپنی کم ترین سطح پر پہنچ گئے۔

اس کے برعکس 2024 اور 2025 میں مارجنز میں نمایاں بہتری آئی۔ زیرِ جائزہ عرصے کی تفصیلی مالی کارکردگی درج ذیل ہے۔

2021 میں کمپنی نے گزشتہ سال کی سست فروخت کا ازالہ کرتے ہوئے 50 فیصد زیادہ خالص فروخت حاصل کی، جو 2.129 ارب روپے رہی۔ کووڈ-19 کے بعد کاروباری سرگرمیاں بحال ہونے سے کمپنی کی پیداواری مقدار میں 28 فیصد اضافہ ہوا اور اس کے نتیجے میں پیداواری صلاحیت کے استعمال کی شرح 94 فیصد تک پہنچ گئی۔

حکومت کی جانب سے 2021 میں تجارت اور صنعت کے لیے دیے گئے مراعاتی پیکیجز اور مالیاتی پالیسی میں نرمی نے جمود کا شکار ملکی معیشت میں نئی جان ڈال دی۔ عالمی معیشت نے بھی دوبارہ رفتار پکڑنا شروع کی، جس کے نتیجے میں یارن کی طلب اور قیمتوں میں بہتری آئی۔ اس کے باعث ایس این اے آئی کے مجموعی منافع میں 2021 کے دوران 192.61 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی منافع کا مارجن 2020 کے 6.19 فیصد سے بڑھ کر 12.07 فیصد کی بہترین سطح پر پہنچ گیا۔

2021 میں سیلز اور ڈسٹری بیوشن اخراجات 23 فیصد کم ہوئے، جس کی بڑی وجہ سیلز و مارکیٹنگ عملے کے پے رول اخراجات میں نمایاں کمی تھی۔ دوسری جانب انتظامی اخراجات میں 17.52 فیصد اضافہ ہوا، کیونکہ کمپنی نے اپنے ملازمین کی تعداد 2020 کے 129 سے بڑھا کر 215 کر دی تھی۔

کرائے کی زیادہ آمدنی، آپریشنز اور دیکھ بھال کے اخراجات، آپریشنل فکسڈ اثاثوں کی فروخت سے حاصل ہونے والا منافع اور مؤخر حکومتی گرانٹ کی ایمورٹائزیشن 2021 میں کمپنی کی دیگر آمدنی میں 57.7 فیصد اضافے کے اہم عوامل رہے۔

منافع سے متعلق زیادہ پروویژننگ کے باعث 2021 میں دیگر اخراجات میں کئی گنا اضافہ ہوا۔ آپریٹنگ منافع 527.41 فیصد بڑھا اور آپریٹنگ مارجن 2020 کے 2.22 فیصد کے مقابلے میں 9.28 فیصد رہا۔

سال کے دوران ڈسکاؤنٹ ریٹ میں کمی کے باعث کمپنی کے فنانس کاسٹ میں 19.15 فیصد کمی آئی۔ نتیجتاً 2021 میں کمپنی نے 94.78 ملین روپے کا خالص منافع کمایا، فی حصص آمدنی 9.10 روپے اور نیٹ مارجن 4.45 فیصد رہا، جبکہ 2020 میں کمپنی کو 31.46 ملین روپے کا خالص خسارہ اور فی حصص 3.59 روپے خسارہ ہوا تھا۔

2022 میں ایس این اے آئی کی ٹاپ لائن میں سالانہ بنیاد پر 23.56 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا اور فروخت 2.6306 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ اس کی بنیادی وجہ یارن کی قیمتوں میں اضافہ اور فروخت کے حجم میں بہتری تھی۔ بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے کے لیے کمپنی نے سال کے دوران مزید 2,400 اسپنڈلز شامل کیے۔ پیداواری مقدار میں سالانہ بنیاد پر 3 فیصد اضافہ ہوا جبکہ پیداواری صلاحیت کے استعمال کی شرح 89 فیصد رہی۔

2022 میں عالمی کموڈیٹی قیمتوں، بالخصوص پی او ایل مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے، روپے کی قدر میں کمی، توانائی کے نرخوں میں اضافے اور بلند مقامی مہنگائی کے باعث سیلز کی لاگت میں 24.20 فیصد اضافہ ہوا۔ نتیجتاً مجموعی منافع کا مارجن کم ہوکر 11.62 فیصد رہ گیا، تاہم مجموعی منافع کی مالیت میں 18.95 فیصد اضافہ ہوا۔ سیلنگ اور انتظامی اخراجات بڑی حد تک قابو میں رہے اور بالترتیب صرف ایک فیصد اور 8.16 فیصد بڑھے۔

فکسڈ اثاثوں کی فروخت سے زیادہ منافع اور جی آئی ڈی سی کی دوبارہ قدر بندی سے حاصل ہونے والے منافع کے باعث دیگر آمدنی میں 79.92 فیصد اضافہ ہوا۔ اس کے نتیجے میں آپریٹنگ منافع 33.96 فیصد بڑھا اور آپریٹنگ مارجن 10.06 فیصد تک پہنچ گیا۔

زیادہ ڈسکاؤنٹ ریٹ اور قرضوں میں اضافے کے باعث 2022 میں فنانس کاسٹ 50.30 فیصد بڑھا۔ تاہم کمپنی کا خالص منافع 35.36 فیصد اضافے سے 128.29 ملین روپے تک پہنچ گیا، فی حصص آمدنی 6.43 روپے اور نیٹ مارجن 4.88 فیصد رہا۔

2023 میں ایس این اے آئی کی ٹاپ لائن میں سالانہ بنیاد پر محض 9.69 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 2.8856 ارب روپے رہی۔ یہ اضافہ بنیادی طور پر یارن کی قیمت بڑھنے اور مقامی کرنسی کی قدر میں کمی کا نتیجہ تھا۔ پیداواری حجم 6 فیصد کم ہوا جبکہ پیداواری صلاحیت کے استعمال کی شرح 79 فیصد رہی۔

مہنگائی کے دباؤ، زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کے باعث سپلائی چین میں خلل، عالمی کموڈیٹی سپر سائیکل اور روپے کی قدر میں کمی نے 2023 میں کمپنی کے مجموعی منافع کو 58.62 فیصد کم کردیا اور مجموعی منافع کا مارجن گھٹ کر 4.38 فیصد رہ گیا۔ سیلنگ اور انتظامی اخراجات میں بالترتیب 66 فیصد اور 37.80 فیصد اضافہ ہوا۔

غیر معمولی بلند مہنگائی کے علاوہ پے رول اخراجات، ڈائریکٹرز کے معاوضے اور پیکنگ و فارورڈنگ چارجز آپریٹنگ اخراجات میں اضافے کی بڑی وجوہات تھے۔

کم کرایہ آمدنی اور آپریشنل فکسڈ اثاثوں کی فروخت سے کم منافع کے باعث دیگر آمدنی میں 69.10 فیصد کمی ہوئی۔ کمپنی نے اس سال منافع سے متعلق کوئی پروویژننگ نہیں کی، جس کے نتیجے میں دیگر اخراجات میں 96.63 فیصد کمی ہوئی۔

آپریٹنگ منافع 93.67 فیصد گر گیا جبکہ بلند ڈسکاؤنٹ ریٹ اور بالخصوص ورکنگ کیپیٹل کے لیے حاصل کیے گئے زیادہ قرضوں کے باعث فنانس کاسٹ میں 120.56 فیصد اضافہ ہوا۔ نتیجتاً کمپنی کو 2023 میں 105.21 ملین روپے کا خالص خسارہ ہوا اور فی حصص خسارہ 5.27 روپے رہا۔

2024 میں ایس این اے آئی کی ٹاپ لائن میں سالانہ بنیاد پر 31.83 فیصد اضافہ ہوا اور فروخت 3.80419 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ کمپنی نے سال کے دوران اپنی پیداواری صلاحیت میں 20 فیصد اضافہ کیا اور 85 فیصد صلاحیت استعمال کی۔

یارن کی بہتر قیمتوں، زیادہ پیداواری صلاحیت کے باعث فروخت کے حجم میں اضافے اور ڈسٹری بیوشن آپریشنز میں نئے پرنسپل اینگرو فریز لینڈ کیمپینا کی شمولیت سے 2024 میں مجموعی منافع 137.48 فیصد بڑھ گیا۔

مجموعی منافع کا مارجن بڑھ کر 7.90 فیصد ہوگیا۔ کمپنی کی جانب سے مارکیٹ میں رسائی بڑھانے اور نئی مصنوعات متعارف کرانے کے باعث زیادہ فروخت کے نتیجے میں سیلنگ اور انتظامی اخراجات میں 75.36 فیصد اضافہ ہوا۔

زیادہ پے رول اخراجات اور ڈائریکٹرز کے معاوضے کے باعث انتظامی اخراجات میں بھی 4.97 فیصد اضافہ ہوا۔ کمپنی نے ملازمین کی تعداد 2023 کے 250 سے بڑھا کر 2024 میں 254 کردی۔

2024 میں دیگر آمدنی 66.14 فیصد کم ہوئی، جس کی وجہ یہ تھی کہ گزشتہ سال کمپنی نے لسبیلہ انڈسٹریل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی (لیڈا) سے قابل وصول رقم کی مد میں 19.672 ملین روپے آمدنی ریکارڈ کی تھی۔ یہ رقم بجلی کے ان معیاری نرخوں سے متعلق تھی جو لیڈا نے کمپنی سے وصول کیے، حالانکہ کمپنی زیرو ریٹڈ حیثیت رکھتی ہے۔

کمپنی نے معیاری نرخوں کے مطابق بل ادا کیے، تاہم 2023 میں سبسڈائزڈ اور معیاری نرخوں کے فرق کو لیڈا سے قابل وصول رقم کے طور پر ظاہر کیا گیا۔

سست رفتاری سے فروخت ہونے والے اسٹورز اور اسپیئرز کے لیے زیادہ پروویژننگ کے باعث 2024 میں دیگر اخراجات 63.91 فیصد بڑھ گئے۔ آپریٹنگ منافع میں 812.49 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا اور آپریٹنگ مارجن بڑھ کر 4 فیصد ہوگیا۔

زیادہ ڈسکاؤنٹ ریٹ کے باعث 2024 میں فنانس کاسٹ 24.69 فیصد بڑھا، اگرچہ کمپنی نے سال کے دوران اپنے بیرونی قرضوں کا کچھ حصہ ادا کیا اور ورکنگ کیپیٹل کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کمپنی کے ڈائریکٹرز سے 19.5 ملین روپے کا بلاسود قرض حاصل کیا۔

اس کے باوجود ایس این اے آئی کا خالص خسارہ 28.25 فیصد کم ہوکر 75.49 ملین روپے رہ گیا، جبکہ فی حصص خسارہ 3.78 روپے رہا۔

2025 میں کمپنی نے اپنے پورٹ فولیو کو بہتر بنایا اور ایسے بعض منصوبے بند کردیئے جو خسارے کا باعث بن رہے تھے۔

2025 میں ٹاپ لائن میں کمی کی ایک اور وجہ مقامی سطح پر مسابقتی صلاحیت کا متاثر ہونا تھی، کیونکہ مقامی ان پٹس پر سیلز ٹیکس کی چھوٹ ختم کردی گئی جبکہ درآمدی یارن بدستور ڈیوٹی اور ٹیکس سے مستثنیٰ رہا۔ اس کے نتیجے میں ایس این اے آئی کی ٹاپ لائن میں سالانہ بنیاد پر 36.48 فیصد کمی آئی اور فروخت 2.41629 ارب روپے رہی۔

پیداواری حجم 4.73 ملین کلوگرام ریکارڈ کیا گیا، جو سالانہ بنیاد پر 34 فیصد کم تھا۔ یوں پیداواری صلاحیت کے استعمال کی شرح 2024 کے 85 فیصد کے مقابلے میں 2025 میں 56 فیصد رہ گئی۔

خسارے کا باعث بننے والے منصوبے معطل کرنے کے نتیجے میں کمپنی مجموعی منافع کا مارجن 8.42 فیصد تک بہتر بنانے میں کامیاب رہی۔ کم فروخت کے باعث پیکنگ اور فارورڈنگ اخراجات میں کمی آئی، جس سے سیلنگ اور ڈسٹری بیوشن اخراجات 14.29 فیصد کم ہوگئے۔

کم فروخت، کم فرسودگی، یوٹیلیٹی اخراجات اور قانونی و پیشہ ورانہ فیس میں کمی کے باعث انتظامی اخراجات بھی 9.28 فیصد کم ہوئے۔

کمپنی نے اپنے ورک فورس کو بھی 2024 کے 254 ملازمین سے کم کرکے 2025 میں 241 کردیا۔ دیگر آمدنی میں 4,723 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ہوا اور یہ 327.35 ملین روپے تک پہنچ گئی۔ اس کی بڑی وجہ سرمایہ کاری کی جائیداد اور فکسڈ اثاثوں کی فروخت سے حاصل ہونے والا نمایاں منافع اور کرایہ آمدنی میں اضافہ تھا۔

ای سی ایل اور سست رفتاری سے فروخت ہونے والی اشیا کے لیے کوئی پروویژننگ نہ ہونے کے باعث 2025 میں دیگر اخراجات صفر رہے۔ آپریٹنگ منافع 157.42 فیصد بڑھا اور آپریٹنگ مارجن 16.29 فیصد کی بہترین سطح پر پہنچ گیا۔ کم ڈسکاؤنٹ ریٹ اور نسبتاً کم قرضوں کے باعث فنانس کاسٹ میں 22.80 فیصد کمی ہوئی۔

سیلز ٹیکس ریفنڈز میں تاخیر سے لیکویڈیٹی کی صورتحال بدستور دباؤ کا شکار رہی، تاہم کمپنی نے اپنے بیرونی قرضوں کے ایک بڑے حصے کی جگہ کمپنی کے ڈائریکٹرز سے حاصل کیے گئے بلاسود قرض لے لیے۔ ایس این اے آئی نے 2025 میں 111.42 ملین روپے کا خالص منافع کمایا، فی حصص آمدنی 5.58 روپے اور نیٹ مارجن 4.61 فیصد رہا۔

حالیہ کارکردگی (9 ماہ مالی سال 2026)

جاری مالی سال کے پہلے نو ماہ کے دوران ایس این اے آئی کی خالص فروخت میں سالانہ بنیاد پر 30.41 فیصد کمی آئی اور یہ 1,258.105 ملین روپے رہی۔ اس کی بنیادی وجہ درآمدی یارن، بالخصوص چین سے آنے والے یارن کی جانب سے بڑھتا ہوا قیمتی دباؤ تھا۔ چین میں کم توانائی لاگت کے باعث ٹیکسٹائل صنعتیں کم قیمتوں پر مصنوعات پیش کرنے کے قابل ہیں۔

گیس کے بلند نرخ اور مدت کے ابتدائی حصے میں کیپٹو پاور جنریشن پر کمپنی کے زیادہ انحصار کے باعث توانائی کی لاگت میں اضافے نے سیلز کی لاگت کو نمایاں طور پر بڑھا دیا۔

بعد ازاں کمپنی نے قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع اور گرڈ بجلی کے امتزاج کی جانب منتقلی کی، جس کے نتیجے میں 9 ماہ مالی سال 2026 میں سیلز کی لاگت 33.75 فیصد کم ہوگئی۔ مجموعی منافع میں 19 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی منافع کا مارجن 10.83 فیصد رہا، جو 9 ماہ مالی سال 2025 میں 6.33 فیصد تھا۔

شمالی مارکیٹ تک رسائی مہنگی ہونے کے باعث 9 ماہ مالی سال 2026 میں ڈسٹری بیوشن اخراجات 8.39 فیصد بڑھ گئے۔ دوسری جانب آپریشنز محدود ہونے کے باعث کمپنی نے ملازمین کی تعداد کو معقول سطح پر لایا، جس سے انتظامی اخراجات 9.93 فیصد کم ہوئے۔ یہ اقدام کمزور طلب اور کم لاگت والی توانائی کی دستیابی کے مطابق پیداواری سطح کو ہم آہنگ کرنے کے لیے کیا گیا۔

9 ماہ مالی سال 2026 میں آپریٹنگ منافع 65 فیصد بڑھا اور آپریٹنگ مارجن 5.19 فیصد رہا، جو 9 ماہ مالی سال 2025 میں 2.19 فیصد تھا۔ مالیاتی پالیسی میں نرمی اور قرضوں میں کمی کے باعث فنانس کاسٹ 41.90 فیصد گھٹ گیا۔

نتیجتاً ایس این اے آئی کا خالص خسارہ 49.19 فیصد کم ہوکر 60.97 ملین روپے رہ گیا۔ فی حصص خسارہ 3.05 روپے رہا، جبکہ 9 ماہ مالی سال 2025 میں یہ 6.01 روپے تھا۔

مستقبل کا منظرنامہ

درآمدی مصنوعات سے بڑھتے ہوئے مقابلے کے پیش نظر کمپنی اپنی توانائی کے ذرائع کے امتزاج کو مزید بہتر بنا رہی ہے تاکہ توانائی کی لاگت کم کی جاسکے اور مسابقتی قیمتیں پیش کی جاسکیں۔ اس مقصد کے لیے کمپنی سرمایہ جاتی اخراجات کرے گی اور اپنی سولر پاور کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرے گی۔

جنوری 2026 میں کمپنی نے 1.1 میگاواٹ کا سولر پاور پلانٹ فعال کردیا تھا اور اسے مزید وسعت دینے کا منصوبہ ہے۔ ایس این اے آئی جنوبی مارکیٹ پر بھی توجہ مرکوز کر رہی ہے، جو اس کے پیداواری یونٹ کے قریب ہے۔ اس حکمت عملی سے لاجسٹکس کی لاگت کم کرنے میں مدد ملے گی۔