نجی خوشحالی، عوامی بدحالی I
- ٹیکس کا نظام مزید پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔ ٹیکس اور روزمرہ عوامی زندگی کے درمیان تعلق کو سمجھنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے
کمزور عوامی خدمات پاکستان کے سماجی معاہدے کو کس طرح تبدیل کر رہی ہیں
میں حال ہی میں وولف گانگ اشٹریک کی کتاب ’How Will Capitalism End? Essays on a Failing System‘ پڑھ رہا ہوں۔ میں نے ابھی یہ کتاب مکمل نہیں کی، اس لیے یہ اس کا تجزیہ یا تبصرہ نہیں ہے۔ یہ ان خیالات پر ایک غوروفکر ہے جو میرے ذہن میں رہ گئے اور اس بات پر بھی کہ وقت کے ساتھ پاکستان میں جن تبدیلیوں کا میں نے مشاہدہ کیا، ان سے یہ خیالات کس قدر قریب سے جڑے ہوئے ہیں۔
میرا یہ مطالعہ بھی بطور ٹیکس پروفیشنل میرے کام سے متاثر ہے۔ دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے میں پاکستان کے بجٹ کا مطالعہ، فنانس بلز کا جائزہ اور ٹیکس پالیسی کی سمت کا مشاہدہ کرتا آیا ہوں۔
ہر سال بحث تقریباً ایک جیسی ہوتی ہے۔ ہم مالیاتی خسارے، محصولات کے اہداف، عوامی قرضے اور مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے درکار اضافی ٹیکسوں پر بات کرتے ہیں۔ پھر ہم تفصیلات کی طرف آتے ہیں: کس شرح میں اضافہ ہوا، کون سی رعایت واپس لی گئی اور کس طبقے پر زیادہ بوجھ پڑے گا۔
یہ بحثیں ضروری ہیں۔ لیکن ہر سال یہی عمل دہرانے کے بعد محسوس ہوتا ہے کہ انفرادی ترامیم ایک بڑی کہانی کے محض حصے ہیں۔ ٹیکس محصولات کے اہداف بڑھتے جاتے ہیں، لیکن اخراجات اور قرضے بھی بڑھتے ہیں۔ نئے اقدامات متعارف کرائے جاتے ہیں، لیکن شہری اب بھی تعلیم، صحت، سڑکوں، پانی اور ٹرانسپورٹ کے بارے میں شکایات کرتے رہتے ہیں۔
ٹیکس کا نظام مزید پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔ ٹیکس اور روزمرہ عوامی زندگی کے درمیان تعلق کو سمجھنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ اشٹریک نے مجھے اس معاملے کو ایک وسیع تر زاویے سے دیکھنے پر مجبور کیا۔
ان کے اہم خیالات میں سے ایک یہ ہے کہ سرمایہ داری صرف ایک معاشی نظام نہیں ہے۔ یہ ایک سماجی نظام بھی ہے۔ یہ اداروں، تعلقات اور اس انداز کو تشکیل دیتا ہے جس میں معاشرے کے مختلف طبقات ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔ میکس ویبر کے نظریات سے استفادہ کرتے ہوئے اشٹریک ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ معاشی رویے کو صرف پیسے اور مراعات کے ذریعے نہیں سمجھا جا سکتا۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ جن حالات میں لوگ زندگی گزار رہے ہیں، ان میں بعض انتخاب انہیں معقول کیوں محسوس ہوتے ہیں۔
شہریوں سے صارفین تک
ایک والدین کا اپنے بچے کے لیے نجی اسکول کا انتخاب؛ ایک مریض کا نجی اسپتال جانا؛ ایک گھرانے کا سولر پینلز لگانا؛ ایک خاندان کا گیٹڈ کمیونٹی میں منتقل ہونا۔
ان میں سے ہر فیصلہ اس خاندان کے لیے معقول ہو سکتا ہے۔ لیکن جب پورے معاشرے میں یہی انتخاب عام ہونے لگتے ہیں یا لوگ ان کی خواہش کرنے لگتے ہیں تو یہ شہریوں اور ریاست کے درمیان تعلق کو تبدیل کر دیتے ہیں۔ یہ اشٹریک کے اس تصور کے قریب ہے کہ شہری صارفین میں تبدیل ہو رہے ہیں۔
معاشرے کے ارکان کی حیثیت سے مشترکہ عوامی خدمات حاصل کرنے کے بجائے لوگ اپنی استطاعت کے مطابق ان خدمات کے نجی متبادل خریدنے لگتے ہیں۔ اس سے یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ وہ دو مرتبہ ادائیگی کر رہے ہیں: پہلی مرتبہ مختلف ٹیکسوں اور لیویز کے ذریعے؛ اور دوسری مرتبہ تعلیم، علاج، سیکیورٹی، پانی، دیکھ بھال اور بجلی کے متبادل انتظامات کے لیے۔
سوال سادہ ہو جاتا ہے: ایک شہری کی جانب سے ادا کیے جانے والے ٹیکس اور اسے ریاست کی طرف سے ملنے والی خدمات کے درمیان کیا تعلق ہے؟
اس تبدیلی کی سب سے واضح مثال تعلیم ہے۔ یہ وہ واحد عوامی خدمت ہے جس کے ذریعے ایک معاشرہ اپنے شہریوں کو یہ پیغام دیتا ہے کہ پیدائش سے کسی شخص کی تقدیر کا فیصلہ نہیں ہونا چاہیے۔
جب سرکاری تعلیم مؤثر ہوتی ہے تو وہ صرف بچوں کو تعلیم نہیں دیتی۔ وہ مشترکہ کلاس رومز، مشترکہ امنگیں اور اس یقین کو جنم دیتی ہے کہ محنت انسان کی زندگی میں اس کے مقام کو تبدیل کر سکتی ہے۔ جب یہ نظام کمزور ہوتا ہے تو خاندان تعلیم حاصل کرنے کی کوشش ترک نہیں کرتے۔ وہ صرف اپنی استطاعت کے مطابق اسے نجی طور پر خریدنا شروع کر دیتے ہیں۔
تعلیمی زینے کا کمزور ہونا
میں اس نسل سے تعلق رکھتا ہوں جس کے لیے سرکاری تعلیم کو آخری راستہ نہیں سمجھا جاتا تھا۔ ہم میں سے زیادہ تر نے سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کی، پھر سرکاری کالجوں میں گئے اور بہت سے افراد نے سرکاری جامعات کا رخ کیا۔
معیار مختلف تھا۔ لیکن ان اداروں نے ایک مشترکہ راستہ فراہم کیا۔ ایک متوسط یا محدود آمدنی والے گھرانے کا طالب علم اسی کلاس روم میں بیٹھ سکتا تھا جہاں ایک نسبتاً خوشحال خاندان کا بچہ بھی موجود ہوتا تھا۔ گھروں کے حالات مختلف ہو سکتے تھے، لیکن اسکول ایک مشترکہ بنیاد فراہم کرتا تھا۔
تعلیم ایک زینہ تھی۔ یہ لوگوں کو اس قابل بناتی تھی کہ وہ ان حالات سے آگے بڑھ سکیں جن میں وہ پیدا ہوئے تھے۔
میرے مشاہدات اس تجربے سے آتے ہیں کہ میں نے اپنی زندگی کا نصف حصہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں اور باقی نصف کراچی میں گزارا ہے۔
شہروں اور صوبوں کے حالات مختلف ہیں۔ لیکن جس شہر میں میں اب رہتا ہوں، وہاں یہ رجحان واضح طور پر تبدیل ہو چکا ہے۔ متوسط اور بالائی متوسط طبقے کے لیے اب نجی اسکول معمول بن چکے ہیں۔ سرکاری اسکولوں کو ان لوگوں کے لیے سمجھا جانے لگا ہے جو کسی متبادل کی استطاعت نہیں رکھتے۔
فرق صرف نصاب کا نہیں ہے۔ ایک مہنگے نجی اسکول میں پڑھنے والے بچے کو انگریزی، ٹیکنالوجی، عوام کے سامنے اظہارِ خیال اور روابط کے زیادہ مواقع ملتے ہیں۔ دوسرا کسی کم فیس والے نجی اسکول میں پڑھتا ہے جہاں تعلیم کا معیار غیر یکساں ہوتا ہے۔
تیسرا ایک ایسے سرکاری اسکول پر انحصار کرتا ہے جو پہلے ہی وسائل اور گنجائش سے زیادہ بوجھ برداشت کر رہا ہے۔ یونیورسٹی یا ملازمت کی منڈی تک پہنچتے پہنچتے ممکن ہے کہ ان سب کے پاس یکساں ڈگریاں ہوں۔ لیکن ان کی شروعات ایک ہی مقام سے نہیں ہوتی۔ جب تعلیم کا معیار بڑی حد تک خاندان کی آمدنی پر منحصر ہو جائے تو اس جال سے نکلنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔ تعلیم طبقاتی فرق کے درمیان ایک زینے کے بجائے عدم مساوات کو اگلی نسل تک منتقل کرنے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ یہ نجی اسکولوں کے خلاف کوئی دلیل نہیں ہے۔
والدین کو اپنے بچوں کے لیے بہترین انتخاب کرنا ہی چاہیے۔ تشویش اجتماعی نتیجے کے بارے میں ہے۔ جیسے جیسے زیادہ وسائل رکھنے والے خاندان سرکاری تعلیمی نظام سے نکلتے جاتے ہیں، اسے بہتر بنانے میں ان کی دلچسپی بھی کمزور ہوتی جاتی ہے۔ سرکاری اسکول تیزی سے ان لوگوں کی خدمت تک محدود ہوتے جاتے ہیں جن کے پاس وسائل اور اثر و رسوخ کم ہے۔ ناقص معیار مزید خاندانوں کو اس نظام سے باہر نکلنے پر مجبور کرتا ہے، جس سے مزید تنزلی کا راستہ ہموار ہوتا ہے۔
جو چیز خاندان کے لیے ایک معقول فیصلے کے طور پر شروع ہوتی ہے، وہ ادارہ جاتی زوال کے ایک چکر میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
ریاست کے گرد زندگی گزارنا
یہی طرزِ عمل صحت، توانائی، پانی اور سیکیورٹی کے شعبوں میں بھی نظر آتا ہے۔ جو لوگ نجی اسپتالوں کی استطاعت رکھتے ہیں، وہ سرکاری سہولیات پر اپنا انحصار کم کر لیتے ہیں۔ جو لوگ سولر سسٹم یا جنریٹر خرید سکتے ہیں، وہ بجلی کے نظام کا متبادل انتظام کر لیتے ہیں۔ کراچی میں گھرانے ٹینکروں یا بورنگ کے ذریعے پانی کا انتظام کرتے ہیں۔ ہاؤسنگ سوسائٹیاں اپنی سیکیورٹی اور کچرے کو ٹھکانے لگانے کا انتظام خود کرتی ہیں۔
خوشحال شہری ریاست کے بغیر زندگی نہیں گزارتا۔ لیکن ایسے شہری ریاست کے گرد رہنا سیکھ لیتے ہیں۔ ریاست ٹیکس وصول کرنے والے اور ریگولیٹر کے طور پر موجود رہتی ہے، جبکہ بنیادی خدمات کا انتظام تیزی سے نجی شعبے کے ذریعے ہونے لگتا ہے۔
کراچی میں یہ صورتِ حال واضح طور پر نظر آتی ہے۔ یہ تجارت کا ایک بڑا مرکز ہے، لیکن اس کے باوجود شہری سڑکوں، نکاسیٔ آب، پانی اور ٹرانسپورٹ کے مسائل سے دوچار ہیں۔ مہنگی گاڑیاں ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر چلتی ہیں۔ جدید عمارتوں کے ساتھ کمزور عوامی بنیادی ڈھانچہ موجود ہے۔ گورننس وفاقی، صوبائی، بلدیاتی اور کنٹونمنٹ اداروں کے درمیان بٹی ہوئی ہے۔
شہری اکثر یہ نہیں جانتا کہ کسی سڑک یا سیوریج لائن کی ذمہ داری کس ادارے پر ہے۔ تجربہ سادہ ہے۔ ٹیکس متعدد اداروں کو ادا کیے جاتے ہیں۔ لیکن جواب دہی تلاش کرنا مشکل ہے۔
اشٹریک کے کمزور ہوتے ہوئے عوامی دائرے کا تصور یہاں بالکل موزوں نظر آتا ہے۔ ذاتی گھر بہتر ہوتے جاتے ہیں جبکہ عوامی سڑکیں زوال کا شکار رہتی ہیں۔ نجی اسکول ترقی کرتے ہیں جبکہ سرکاری اسکول مشکلات سے دوچار رہتے ہیں۔ گھرانے اپنے پانی اور بجلی کے انتظامات پر سرمایہ کاری کرتے ہیں جبکہ مشترکہ نظام کمزور ہوتے جاتے ہیں۔
جیسے جیسے عوامی نظام کمزور ہوتے جاتے ہیں، نجی انتظامات اس طریقے میں تبدیل ہوتے جاتے ہیں جس کے ذریعے خوشحال شہری ریاست کے گرد اپنی زندگی گزارنے لگتے ہیں۔
جب کمزور خدمات نجی قرض کا سبب بنتی ہیں
نجی متبادل صرف خوشحال طبقہ استعمال نہیں کرتا۔ تعلیم اور صحت اس قدر ضروری ہیں کہ کم آمدنی والے خاندان بھی نجی سہولیات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک والدین اسکول کی فیس ادا کرنے کے لیے قرض لیتے ہیں۔ طبی ہنگامی صورتِ حال کسی خاندان کو اپنی جمع پونجی خرچ کرنے یا قرض لینے پر مجبور کر دیتی ہے۔ کمزور عوامی خدمات نجی قرض داری کا سبب بن جاتی ہیں۔
ایک ایسا گھرانہ جو پہلے ہی کرائے، خوراک اور دیگر بلوں کا انتظام کر رہا ہو، اس کے اخراجات میں اسکول کی فیس اور قرض کی اقساط بھی شامل ہو جاتی ہیں۔ رسمی قرضوں پر بھاری لاگت عائد ہوتی ہے۔ غیر رسمی قرض لینا غیر یقینی شرائط اور سماجی دباؤ کا باعث بنتا ہے۔ یوں گھرانہ قرض کے جال میں پھنس جاتا ہے۔
(جاری ہے)
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026