ٹاٹا سنز کے چیئرمین شیئر ہولڈرز اجلاس سے قبل مستعفی ہو سکتے ہیں، رپورٹ
- کمپنی کے نوٹس کے مطابق ٹاٹا سنز کے شیئر ہولڈرز 18 اگست کو ہونے والے سالانہ جنرل اجلاس میں چندر شیکرن کی بطور ڈائریکٹر دوبارہ تقرری پر ووٹ دیں گے
اکنامک ٹائمز نے بدھ کو معاملے سے واقف ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ٹاٹا سنز کے چیئرمین این چندر شیکرن نے 18 اگست کو ہونے والے شیئر ہولڈرز کے اجلاس سے قبل اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کے امکان پر اپنے قریبی ساتھیوں سے مشاورت کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ مشاورت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب بطور ڈائریکٹر ان کی دوبارہ تقرری کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پائی جاتی ہے اور گروپ کے فلاحی ادارے کے سربراہ کے ساتھ بھی اختلافات موجود ہیں۔
کمپنی کے نوٹس کے مطابق ٹاٹا سنز کے شیئر ہولڈرز 18 اگست کو ہونے والے سالانہ جنرل اجلاس میں چندر شیکرن کی بطور ڈائریکٹر دوبارہ تقرری پر ووٹ دیں گے۔
چیئرمین کے طور پر ان کی موجودہ مدت فروری 2027 تک جاری رہے گی۔
رائٹرز فوری طور پر اس رپورٹ کی تصدیق نہیں کر سکا۔ 400 ارب ڈالر مالیت کے ٹاٹا گروپ کی مرکزی ہولڈنگ کمپنی ٹاٹا سنز نے دفتری اوقات کے بعد تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا، جبکہ این چندر شیکرن سے بھی رابطہ نہیں ہو سکا۔
رائٹرز نے پہلے رپورٹ کیا تھا کہ فروری میں ٹاٹا سنز نے این چندر شیکرن کو دوبارہ چیئرمین مقرر کرنے کا فیصلہ مؤخر کر دیا تھا، کیونکہ ٹاٹا ٹرسٹس کے چیئرمین نویل ٹاٹا نے اس کی مخالفت کی تھی۔
ٹاٹا سنز اور ٹاٹا ٹرسٹس کے درمیان بورڈ میں نمائندگی، کاروباری حکمت عملی اور اقلیتی شیئر ہولڈر شاپورجی پالونجی کے مجوزہ انخلا سے نمٹنے کے طریقہ کار پر اختلافات رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ٹاٹا سنز کے ایک ڈائریکٹر کو عہدے سے ہٹانا پڑا۔
ٹاٹا ٹرسٹس، ٹاٹا سنز کے تقریباً 66 فیصد حصص کا مالک ہے۔ ٹاٹا سنز نمک سے لے کر سافٹ ویئر تک مختلف شعبوں میں کام کرنے والے گروپ کی ہولڈنگ کمپنی ہے، جس کے تحت تقریباً 30 کمپنیاں کام کر رہی ہیں، جن میں ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز (ٹی سی ایس)، ٹاٹا موٹرز اور ایئر انڈیا شامل ہیں۔
این چندر شیکرن 1987 میں ٹاٹا گروپ میں شامل ہوئے، 2009 میں ٹی سی ایس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) بنے اور 2017 میں ٹاٹا سنز کے چیئرمین کا منصب سنبھالا۔
گزشتہ ایک سال کے دوران انہیں متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جن میں ایئر انڈیا کے مہلک فضائی حادثے کے بعد سخت ریگولیٹری جانچ، ٹی سی ایس پر قیمتوں کا دباؤ اور جیگوار لینڈ روور پر سائبر حملہ شامل ہے، جس سے پیداوار متاثر ہوئی اور برطانیہ کی معاشی سرگرمیوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے۔