ادائیگیوں کے بنیادی ڈھانچے کا اگلا امتحان
- کسی بھی پیمانے سے دیکھا جائے تو پاکستان میں نقد رقم سے دوری کا عمل زیادہ تر مبصرین کی توقعات کے مقابلے میں کہیں تیزی سے آگے بڑھا ہے
گزشتہ ماہ وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے ’’کیش لیس پاکستان‘‘ اقدام کے پہلے سال کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ پیش کیے گئے اعداد و شمار چونکا دینے والے تھے۔ سالانہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے لین دین کی تعداد 6.9 ارب سے بڑھ کر 11.3 ارب ہو گئی ہے۔ فعال ڈیجیٹل ادائیگی کرنے والے مرچنٹس کی تعداد 5 لاکھ سے چار گنا بڑھ کر 20 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ رجسٹرڈ ڈیجیٹل بینکاری صارفین کی تعداد اب 13 کروڑ 70 لاکھ سے زیادہ ہے۔ جبکہ ملک میں ہونے والے تمام ریٹیل ادائیگیوں کے 92 فیصد لین دین اب ڈیجیٹل ذرائع سے کیے جا رہے ہیں۔
کسی بھی پیمانے سے دیکھا جائے تو پاکستان میں نقد رقم سے دوری کا عمل زیادہ تر مبصرین کی توقعات کے مقابلے میں کہیں تیزی سے آگے بڑھا ہے۔ اب بینکاری شعبے اور اس کے نگران اداروں کے لیے اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ ان اعداد و شمار کے پیچھے موجود بنیادی ڈھانچہ آنے والی تیزی کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔
حکومت نے دسمبر 2026 تک 25 اہم وفاقی اور صوبائی اداروں کی ادائیگیوں کو قومی فوری ادائیگی کے نظام راست کے ذریعے مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانے کی نشاندہی کی ہے۔ حکومت کی جانب سے افراد کو کی جانے والی تقریباً 75 فیصد ادائیگیاں پہلے ہی ڈیجیٹل طور پر قبول کی جا رہی ہیں۔ جب باقی ادائیگیاں بھی اسی نظام کا حصہ بنیں گی، جن میں پنشن، سماجی امداد اور خریداری کے لیے ادائیگیاں شامل ہیں، تو پاکستان کے بینکاری نظام کے ذریعے گزرنے والی لین دین کی مجموعی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
یہ کوئی دور کی بات نہیں۔ راست نے 2025 میں 50 ٹریلین روپے مالیت کی ادائیگیوں پر کارروائی کی۔ اس پلیٹ فارم کے انفرادی صارفین کی تعداد اب 4 کروڑ 80 لاکھ ہے۔ اس رفتار سے ہونے والی ترقی ایسے نظاموں پر حقیقی دباؤ ڈالتی ہے جو ایک مختلف دور کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیے گئے تھے۔
اب بھی پرانے طرز کے تصدیقی اور ٹرانزیکشن پراسیسنگ پلیٹ فارمز پر چلنے والے بینک اس دباؤ کو محسوس کر رہے ہیں۔ ایسے نظام جو ایک گھنٹے میں ہزاروں ٹرانزیکشنز سنبھالنے کے لیے بنائے گئے تھے، اب ان سے لاکھوں لین دین نمٹانے کی توقع کی جا رہی ہے۔ جب یہ نظام مطلوبہ صلاحیت سے کم پڑ جاتے ہیں تو صارفین کے لیے اس کے نتائج واضح ہوتے ہیں: تنخواہ اکاؤنٹ میں موصول نہ ہونا، مرچنٹ کی ادائیگی مسترد ہو جانا یا صارف کا اپنے ہی پیسوں تک رسائی سے محروم ہو جانا۔
کسی خراب تجربے کے نتیجے میں پیدا ہونے والا اعتماد کا فقدان پہلی مرتبہ ڈیجیٹل مالیاتی نظام استعمال کرنے والوں کے لیے غیر متناسب طور پر زیادہ ہوتا ہے اور اسے دوبارہ بحال کرنا بھی غیر معمولی طور پر مشکل ہوتا ہے۔
پاکستان میں مالیاتی شمولیت کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت اپنے طور پر قابلِ تحسین ہے۔ خواتین کی مالیاتی شمولیت 2018 میں 4 فیصد سے بڑھ کر 52 فیصد ہو گئی ہے، جبکہ مردوں اور خواتین کے درمیان مالیاتی شمولیت کا فرق 47 فیصد سے کم ہو کر 30 فیصد رہ گیا ہے۔ بینکنگ آن ایکویلیٹی پالیسی کے آغاز کے بعد فعال بینک اکاؤنٹس رکھنے والی خواتین کی تعداد 2 کروڑ سے بڑھ کر 3 کروڑ 70 لاکھ ہو گئی ہے۔ یہ حقیقی کامیابیاں ہیں، جو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے مسلسل پالیسی کوششوں کے نتیجے میں حاصل ہوئی ہیں۔
لیکن حال ہی میں مالیاتی نظام کے ڈیجیٹل حصے میں شامل ہونے والی آبادی سروس میں خرابی کے حوالے سے سب سے زیادہ حساس ہے، کیونکہ ان کا اعتماد ابھی مضبوط نہیں ہوا۔ کراچی میں کام کرنے والا کوئی تنخواہ دار پیشہ ور اگر ناکام ٹرانزیکشن کا سامنا کرے تو وہ ایک گھنٹے بعد دوبارہ کوشش کر لے گا۔ لیکن دیہی علاقے میں رہنے والی ایسی خاتون جو پہلی مرتبہ حکومت کی جانب سے ملنے والی مالی امداد ڈیجیٹل ذریعے سے وصول کر رہی ہو اور اسے نظام دستیاب نہ ملے، ممکن ہے دوبارہ کوشش ہی نہ کرے اور واپس نقد رقم کے استعمال کی طرف چلی جائے۔
کسی خراب تجربے کے بعد پیدا ہونے والا اعتماد کا فقدان پہلی مرتبہ صارفین کے لیے غیر معمولی طور پر بڑا ہوتا ہے اور اسے دوبارہ بحال کرنا بھی انتہائی مشکل ہوتا ہے۔
مارچ میں سادا پے کے ساتھ پیش آنے والے واقعے نے نسبتاً محدود سطح پر اس صورتحال کی مثال پیش کی۔ خلیج میں ڈرون حملوں کے نتیجے میں بحرین میں اے ڈبلیو ایس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا تو فن ٹیک کمپنی کی موبائل ایپلی کیشن مکمل طور پر بند ہوگئی۔ اے ٹی ایمز اور پوائنٹ آف سیل ٹرمینلز پر کارڈز بدستور کام کر رہے تھے، لیکن ایپ، جو زیادہ تر صارفین کے لیے بنیادی رابطے کا ذریعہ ہے، قابلِ رسائی نہیں رہی۔
صارفین کے فنڈز محفوظ رہے اور سروس میں پیدا ہونے والا تعطل دور کر دیا گیا۔ اس کے باوجود اس واقعے نے ایک ایسے بنیادی نکتے کو واضح کیا جسے نظر انداز کرنا آسان ہے: جیسے جیسے پاکستان کی زیادہ سے زیادہ مالیاتی سرگرمیاں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر منتقل ہو رہی ہیں، بنیادی ڈھانچے کی کمزوری کے نتائج صرف اس ایک ادارے تک محدود نہیں رہتے جہاں خرابی پیدا ہوتی ہے، بلکہ اس کے اثرات پورے ڈیجیٹل مالیاتی نظام تک پھیل سکتے ہیں۔
غور کیجیے کہ آئندہ 12 سے 24 ماہ کے دوران پاکستان کے ادائیگیوں کے نظام سے کونسی توقعات وابستہ کی جا رہی ہیں۔ راست-بُنا انضمام اب فعال ہو چکا ہے، جس کے ذریعے پاکستان کے فوری ادائیگی کے نظام کو عرب مانیٹری فنڈ کے سرحد پار ادائیگیوں کے پلیٹ فارم سے منسلک کیا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں خلیجی ممالک سے پاکستانی روپے میں حقیقی وقت میں ترسیلاتِ زر بھیجنا ممکن ہو گیا ہے۔ مالی سال 2026 میں کارکنوں کی ترسیلات زر ریکارڈ 41.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جن میں متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سب سے بڑے ترسیلاتی راستوں کے طور پر نمایاں رہے۔
پرزم پلس جو آئی ایس او 20022 معیار پر مبنی نیا حقیقی وقت کا بین البینک سیٹلمنٹ میکانزم ہے، بھی فعال ہو چکا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی سائبر شیلڈ حکمت عملی بھی شروع کر دی گئی ہے، جس کا مقصد ریگولیٹڈ اداروں میں سائبر لچک اور نظام کی مضبوطی کو بہتر بنانا ہے۔
ان میں سے ہر پیش رفت بینکوں کے بنیادی ڈھانچے پر نئی ذمہ داریاں عائد کرتی ہے۔ سرحد پار فوری ادائیگیوں کے لیے ایک ہی نظام میں حقیقی وقت میں پراسیسنگ، پابندیوں کی جانچ اور ادائیگیوں کی حتمی تکمیل ضروری ہے۔ آئی ایس او 20022 کے تحت پیغام رسانی کے لیے پرانے فارمیٹس کے مقابلے میں کہیں زیادہ تفصیلی اور پیچیدہ ڈیٹا کو سنبھالنے کی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔ مرچنٹ ایکوائرنگ کے بڑھتے ہوئے حجم، جہاں فعال مرچنٹس کی تعداد 20 لاکھ اور مسلسل بڑھ رہی ہے، ایسے تصدیقی نظاموں کا تقاضا کرتے ہیں جو کارکردگی متاثر کیے بغیر بڑے پیمانے پر لین دین سنبھال سکیں۔
کچھ بینک پہلے ہی اسی سمت میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ حبیب میٹرو روزانہ 32 لاکھ 50 ہزار سے زائد ٹرانزیکشنز پراسیس کر رہا ہے اور اس نے اپنی کارڈ جاری کرنے اور ٹرانزیکشن پراسیسنگ کے بنیادی ڈھانچے کو اپ گریڈ کرنا شروع کر دیا ہے تاکہ اگلے مرحلے میں درکار اضافی صلاحیت اور پیچیدگی کو سنبھالا جا سکے۔
میزان بینک بھی اپنے کارڈ جاری کرنے والے پلیٹ فارم میں اسی نوعیت کی اپ گریڈیشن مکمل کر چکا ہے اور اب روزانہ 70 لاکھ سے زائد ٹرانزیکشنز پراسیس کرتا ہے، جبکہ عروج کے اوقات میں لین دین کی تعداد فی سیکنڈ 1,300 سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔
یہ اس نوعیت کے بنیادی ڈھانچے سے متعلق سرمایہ کاری ہے جو پورے شعبے میں زیادہ وسیع پیمانے پر نظر آنی چاہیے: یعنی صارف کو براہِ راست نظر آنے والی سطح پر ہی نہیں بلکہ اس کے نیچے موجود بنیادی نظام میں سرمایہ کاری۔
ڈیجیٹل ادائیگیوں کے حوالے سے ہونے والی گفتگو میں عموماً صارف کو براہِ راست نظر آنے والی سطح پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے: ایپ، کیو آر کوڈ یا ڈیجیٹل والٹ۔ تاہم آنے والے برسوں میں پاکستانی بینکوں کے درمیان مسابقتی برتری کا تعین بڑی حد تک اس بات سے ہوگا کہ ان سب کی بنیاد میں کیا موجود ہے۔
وہ بینک جو جدید اور وسیع پیمانے پر قابلِ توسیع پلیٹ فارمز پر راست ادائیگیوں، سرحد پار ترسیلاتِ زر اور مرچنٹ ایکوائرنگ کے لین دین کو مؤثر طریقے سے پراسیس کر سکیں گے، وہ سب سے زیادہ قیمتی مالیاتی لین دین کو اپنی جانب راغب کریں گے۔
اس کے برعکس وہ ادارے جو اب بھی دستی متبادل طریقوں، ایسے بیچ پراسیسنگ نظاموں پر انحصار کرتے ہیں جہاں اب حقیقی وقت میں پراسیسنگ متوقع ہے، یا ایسے سسٹم ڈاؤن ٹائم پر انحصار کرتے ہیں جسے صارفین اب برداشت نہیں کرتے، وہ پیچھے رہ جائیں گے۔ ضروری نہیں کہ وہ دوسرے بینکوں سے پیچھے رہیں، بلکہ ممکن ہے کہ وہ ان فن ٹیک کمپنیوں اور ادائیگیوں کے سروس فراہم کنندگان سے پیچھے رہ جائیں جو ابتدا ہی سے بڑے پیمانے پر لین دین سنبھالنے کی صلاحیت کو مدنظر رکھ کر بنائے گئے تھے۔
پاکستان نے گزشتہ چند برسوں کے دوران ایک قابلِ ذکر پیش رفت حاصل کی ہے۔ ایک ایسی معیشت سے، جو بڑی حد تک نقد رقم پر انحصار کرتی تھی، ایسے نظام کی جانب منتقلی جہاں ریٹیل لین دین کا 92 فیصد ڈیجیٹل ذرائع سے ہو رہا ہے، ایک ایسی کامیابی ہے جسے تسلیم کیا جانا چاہیے۔کیش لیس پاکستان اقدام نے واضح سمت متعین کردی ہے، جبکہ اسٹیٹ بینک کا ویژن 2028 فریم ورک اس سمت کی حمایت کے لیے ضروری ریگولیٹری ڈھانچہ فراہم کرتا ہے۔
اب مشکل مرحلہ باقی ہے: یہ یقینی بنانا کہ اس پورے نظام کی بنیاد بننے والا بینکاری بنیادی ڈھانچہ واقعی ان وعدوں کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ڈیجیٹل ادائیگیوں کو اپنانے کی کہانی لکھی جا چکی ہے۔ اب بنیادی ڈھانچے کی کہانی لکھی جا رہی ہے۔
یہ مضمون لازماً بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کی رائے کی عکاسی نہیں کرتا۔